فروری کبھی 28 اور کبھی 29 دن کا کیوں ہوتا ہے؟

آپ سب کے علم میں یہ بات ہوگی کہ ہر سال فروری 28 روز کا ہوتا ہے مگر چند سال ایسے بھی ہوتے ہیں جن میں فروری کا ایک اضافی یعنی 29 دن ہوتے ہیں۔

عام طور پر ہر چار سال بعد ایسا ہوتا ہے کہ فروری 29 دنوں کا ہو، جیسے رواں سال 2020 میں فروری کا مہینہ 29 دنوں کا ہے اس سے چار سال قبل یعنی 2016 میں فروری کے 29 ایام ہی تھے۔

عام طور پر بہت سارے لوگوں کو اس کی وجہ معلوم نہیں کہ آخر چار سال بعد فروری کا ایک دن کیسے اور کیوں بڑھ جاتا ہے۔

ماہرین فلکیات بتاتے ہیں کہ زمین کا سورج کے گرد گردش کرنے کا دورانیہ 365 ایام پر مشتمل نہیں بلکہ یہ 365 دن، پانچ گھنٹے 49 منٹ اور 12 سیکنڈ کا ہوتا ہے۔ چونکہ زمین سورج کے گرد گردش کرتی ہے اس لیے موسم کی تبدیلی کا انحصار بھی زمین اور سورج کی گردش پر ہی منحصر ہوتا ہے
فلکیات کے ماہرین بتاتے ہیں کہ اگر ہر سال چوتھائی دن کا فرق رکھا جائے تو یہ چار سال بعد پورا ایک دن بن جاتا ہے یوں کلینڈر میں ایک اضافی دن شامل ہوجاتا ہے۔

مؤرخین یہ بات بھی رقم کر گئے کہ قدیم زمانے میں کلینڈر صرف دس مہینوں پر مشتمل تھا یعنی یہ مارچ سے شروع ہوکر دسمبر کر ختم ہوجاتا تھا، البتہ 713 قبل مسیح کا کلینڈر جب جاری ہوا تو اُس میں رومن بادشاہ نوما پوپیلیوس نے جنوری اور فروری کے مہینوں کو بڑھا دیا۔
عام طور پر 29 فروری کو پیدا ہونے والے لوگ ہر سال اپنی سالگرہ منا نہیں پاتے، ماہرین فلکیات نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ یا تو 28 فروری یا پھر یکم مارچ کا انتخاب کرلیں اور چار سال بعد اپنی سالگرہ 29 فروری کو ہی منائیں۔

Ary-report

اپنا تبصرہ بھیجیں