کراچی میں رہنا: سستا یا مہنگا؟

کراچی میں رہنا: سستا یا مہنگا؟

پوش اور دور دراز علاقوں میں کرایہ کے گھر، سہولیات اور پبلک ٹرانسپورٹ کا جائزہ

کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہونے کے ساتھ ساتھ ملک کی معاشی رگوں کا مرکز بھی ہے۔ یہاں لاکھوں افراد روزگار، تعلیم اور بہتر زندگی کی تلاش میں آتے ہیں۔ لیکن کیا کراچی میں رہنا واقعی آسان ہے؟ کیا یہ شہر مڈل کلاس اور نچلے طبقے کے لیے سستا ہے یا پھر صرف امیروں کے بس کی بات؟ آئیے، کراچی کے مختلف علاقوں میں رہائش، سہولیات اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات کا جائزہ لیتے ہیں۔

پوش علاقوں میں کرایہ: لاکھوں کا بوجھ
اگر آپ کراچی کے پوش علاقوں جیسے ڈیفینس (DHA)، کلفٹن، بحریہ ٹاؤن، یا ڈولمن سٹی میں رہنا چاہتے ہیں، تو تیار رہیں کہ آپ کو مہنگے ترین کرایے ادا کرنے پڑیں گے۔

DHA/کلفٹن: یہاں ایک اوسط فلیٹ کا کرایہ 50,000 سے 3 لاکھ روپے ماہانہ تک ہو سکتا ہے، جبکہ ایک مکمل گھر 5 لاکھ روپے ماہانہ سے بھی زیادہ میں دستیاب ہے۔

بحریہ ٹاؤن: اس علاقے میں رہائش انتہائی مہنگی ہے، جہاں ایک چھوٹا اپارٹمنٹ بھی 1 لاکھ روپے سے شروع ہوتا ہے۔

نورہ جہاں کالونی/گلشنِ اقبال: یہ علاقے بھی مڈل اور اپر مڈل کلاس کے لیے پسندیدہ ہیں، جہاں کرایہ 30,000 سے 80,000 روپے تک ہو سکتا ہے۔

دور دراز علاقے: سستی رہائش لیکن مسائل زیادہ
اگر آپ کم آمدنی والے ہیں، تو آپ کو کراچی کے بیرونی علاقوں جیسے ملیر، کورنگی، لانڈھی، اور سائٹ ایریا کی طرف دیکھنا پڑے گا۔ یہاں کرایے نسبتاً کم ہیں، لیکن سہولیات اور نقل و حمل کے مسائل زیادہ ہیں۔

ملیر/کورنگی: یہاں ایک چھوٹا فلیٹ 8,000 سے 25,000 روپے ماہانہ میں مل سکتا ہے۔

لانڈھی/سائٹ: انڈسٹریل ایریاز ہونے کی وجہ سے یہاں رہائش سستی ہے (10,000 سے 30,000 روپے)، لیکن آلودگی اور ٹرانسپورٹ کے مسائل ہیں۔

بجلی، گیس اور پانی: اضافی اخراجات
کراچی میں یوٹیلیٹی بلز بھی ایک بڑا مسئلہ ہیں۔ اگرچہ K-Electric (بجلی) اور SSGC (گیس) کے ریٹس پورے پاکستان میں یکساں ہیں، لیکن لوڈ شیڈنگ اور گیس کی کمی کراچی والوں کے لیے پریشانی کا باعث بنتی ہے۔

بجلی کا بل: گرمیوں میں اے سی کے استعمال سے یہ 15,000 سے 30,000 روپے تک پہنچ جاتا ہے۔

پانی کا مسئلہ: پوش علاقوں میں بھی پانی کی سپلائی غیر مستحکم ہے، جس کے لیے لوگوں کو ٹینکرز پر انحصار کرنا پڑتا ہے (2,000 سے 5,000 روپے ماہانہ)۔

پبلک ٹرانسپورٹ: سستا لیکن غیر معیاری
کراچی میں سرکاری بسوں (Peoples Bus Service) اور پرائیویٹ کوچوں/رکشوں کا جال بچھا ہوا ہے۔

سرکاری بسیں: 50 سے 100 روپے میں طویل فاصلہ طے کیا جا سکتا ہے، لیکن رش اور تاخیر عام ہے۔

رکشہ/کیب: شارٹ ڈسٹنس کے لیے 200 سے 500 روپے تک خرچ ہوتے ہیں۔

انڈرپاس/سڑکوں کی حالت: ٹریفک جام کراچی کا سب سے بڑا مسئلہ ہے، جس کی وجہ سے روزانہ گھنٹوں سفر میں ضائع ہوتے ہیں۔

نتیجہ: کراچی غریبوں کے لیے جہنم، امیروں کے لیے جنت
اگر آپ کے پاس گاڑی، اچھی آمدنی اور پوش علاقے میں رہائش ہے، تو کراچی آپ کے لیے پرتعیش زندگی فراہم کرتا ہے۔ لیکن اگر آپ مڈل یا لوئر کلاس سے تعلق رکھتے ہیں، تو یہ شہر ہر روز جدوجہد سے کم نہیں۔

کیا کراچی میں رہنا سستا ہے؟
جواب ہے: “یہ آپ کی جیب پر منحصر ہے!”