پاکستان آج کے ’برین ڈرین‘ کو کل کے ’برین گین‘ میں بدل سکتا ہے؟

پاکستان آج کے ’برین ڈرین‘ کو کل کے ’برین گین‘ میں بدل سکتا ہے؟

پاکستان میں ہر سال ہزاروں نوجوان اعلیٰ تعلیم اور بہتر روزگار کی تلاش میں بیرونِ ملک منتقل ہو جاتے ہیں۔ یہ رجحان، جسے ’برین ڈرین‘ کہا جاتا ہے، ملک کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ لیکن کیا اس رجحان کو مثبت انداز میں تبدیل کر کے پاکستان ’برین گین‘ حاصل کر سکتا ہے؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صحیح پالیسیاں اپنائی جائیں، تو یہ ممکن ہے۔

پہلا قدم یہ ہو سکتا ہے کہ پاکستان اپنے بیرونِ ملک مقیم ماہرین اور پروفیشنلز سے مضبوط تعلقات استوار کرے۔ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی نہ صرف زرمبادلہ بھیجتے ہیں بلکہ وہ جدید علوم اور ٹیکنالوجی سے بھی واقف ہوتے ہیں۔ اگر انہیں ملک کی ترقی میں شامل کیا جائے، تو وہ اپنی مہارت اور تجربے سے پاکستان کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔

دوسرا اہم پہلو تعلیمی اور تحقیقی اداروں کو بہتر بنانا ہے۔ پاکستان میں اگر یونیورسٹیاں اور تحقیقی مراکز عالمی معیار کے مطابق ہوں، تو نوجوانوں کو بیرونِ ملک جانے کی ضرورت کم ہو گی۔ سائنس، ٹیکنالوجی اور انجینئرنگ کے شعبوں میں جدید سہولیات اور ماہر اساتذہ کی موجودگی سے طلباء کی صلاحتیں نکھر سکتی ہیں۔

تیسرا عنصر روزگار کے بہتر مواقع پیدا کرنا ہے۔ نجی شعبے اور حکومت کو مل کر ایسے منصوبے شروع کرنے چاہئیں جو نوجوانوں کو اعلیٰ تنخواہوں اور پرکشش کیریئر کے مواقع فراہم کریں۔ ٹیکنالوجی اور انٹرپرینیورشپ کے شعبوں میں ترقی سے نوجوانوں کو ملک میں رہ کر بھی کامیابی کے مواقع میسر آ سکتے ہیں۔

چوتھا نقطہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے کہ وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کریں یا اپنے شعبوں میں تربیتی پروگرام چلائیں۔ چین اور بھارت جیسے ممالک نے اپنے ڈائسپورا کو ترقی میں شامل کر کے بڑے فوائد حاصل کیے ہیں۔ پاکستان بھی یہی راستہ اپنا سکتا ہے۔

پانچواں اقدام یہ ہو سکتا ہے کہ حکومت نوجوانوں کے لیے اسکالرشپس اور ریسرچ گرانٹس میں اضافہ کرے۔ اگر اعلیٰ تعلیم کے خواہشمند طلباء کو مالی تعاون ملے، تو وہ بیرونِ ملک جانے کے بجائے پاکستان میں ہی اپنی تعلیم جاری رکھ سکتے ہیں۔

چھٹا حل یہ ہے کہ پاکستان اپنی پالیسیوں کو نوجوانوں کے لیے دوستانہ بنائے۔ ٹیک اسٹارٹ اپس کو سپورٹ کرنے، ٹیکس چھوٹ دینے اور کاروبار کے لیے آسان قوانین بنانے سے نوجوانوں کو ملک میں رہ کر کامیابی کے مواقع ملیں گے۔

آخر میں، اگر پاکستان اپنے ہنر مند نوجوانوں کو ترقی کے مواقع فراہم کرے اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں سے رابطہ بڑھائے، تو یقیناً ’برین ڈرین‘ کو ’برین گین‘ میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ مستقبل روشن ہو سکتا ہے، بشرطیکہ ہم آج صحیح اقدامات کریں۔