لاہور ایئرپورٹ پر ناک سے خون بہنے والا چینی مسافر کرونا وائرس کا شکار تھا؟

لاہور: پنجاب کے ہیلتھ سروسز کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ہارون جہانگیر کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز لاہور ایئرپورٹ پر طبیعت خرابی کا شکار چینی مسافر کرونا وائرس سے متاثر نہیں، مسافر کو ناک سے خون بہنے پر فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز لاہور ایئرپورٹ پر ایک چینی مسافر کی اچانک طبیعت خرابی نے ایئرپورٹ انتظامیہ میں کھلبلی مچا دی تھی۔ چینی مسافر کی ناک سے خون جاری ہوگیا تھا جس کے بعد لاہور ائیرپورٹ پر محکمہ صحت کے عملے کی دوڑیں لگ گئیں۔

چینی مسافر ڈیمنگ یاؤ کو فوری طور پر آئسولیشن روم منتقل کیا گیا تھا اور اس کی مکمل اسکریننگ کی گئی جس کے بعد اسے ایمبولینس پر سروسز اسپتال روانہ کردیا گیا۔

ڈی جی ہیلتھ سروسز پنجاب ڈاکٹر ہارون جہانگیر کے مطابق 28 سالہ مذکورہ مسافر میں کرونا وائرس کی تشخیص نہیں ہوئی، مسافر کو لاہور ایئرپورٹ کی جانب سے کرونا وائرس کے مشتبہ مریض کے طور پر ریفر کیا گیا تھا تاہم اس میں کرونا کی علامات نہیں پائی گئیں۔

ڈاکٹر ہارون کے مطابق اسپتال میں چینی مسافر کا تفصیلی معائنہ اور ٹیسٹ کیے گئے۔ مذکورہ مسافر کو گزشتہ 10 سال سے نکسیر پھوٹنے کا مرض لاحق ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ چینی مسافر کو بخار، فلو اور کھانسی کی شکایت نہیں تھی، مکمل معائنہ کرنے کے بعد یہ یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ چینی مسافر کرونا وائرس کا مشتبہ مریض نہیں، اسپتال میں علاج کے بعد چینی شخص کو ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق مذکورہ چینی مسافر 18 جنوری کو کراچی پہنچا تھا اور بعد ازاں پی آئی اے کی پرواز 313 کے ذریعے کراچی سے لاہور پہنچا، مسافر لاہور سے چین کے شہر ارومچی جانا چاہتا تھا تاہم چین کی پروازیں بند ہونے سے لاہور ایئرپورٹ کے لاؤنج میں بیٹھا تھا۔

دوسری جانب چین سے عارضی طور پر معطل شدہ فلائٹ آپریشن آج بحال کردیا گیا ہے، جس کے بعد صبح 9 بجے ارومچی سے سدرن چائنا ایئر کی پرواز سی زیڈ 6007 اسلام آباد پہنچی۔

مذکورہ پرواز کے ذریعے 61 پاکستانی وطن واپس پہنچے ہیں، ایئرپورٹ پر معاون خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا بھی موجود تھے جنہوں نے اسکریننگ کی نگرانی کی۔

دوپہر 12 بجے چین سے ایک اور پرواز سی زیڈ 5241 اسلام آباد ایئرپورٹ پر پہنچی جس میں 82 مسافر سوار تھے، چین سے پہنچنے والے تمام مسافروں کی سخت اسکریننگ کی جارہی ہے۔

Ary-report

اپنا تبصرہ بھیجیں