انسانیت کی خدمت کیلئے ووہان پہنچنے والا پہلا پاکستانی ڈاکٹر

بیجنگ : پاکستانی نوجوان ڈاکٹر محمد جنجوعہ نے رضاکارانہ طور پر ووہان سٹی جانے والے ڈاکٹروں میں شامل ہوکر انسانیت کی مثال قائم کردی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے شہر جہلم سے تعلق رکھنے والے 29 سالہ ڈاکٹر محمد جنجوعہ چین کی شانگشا یونیورسٹی میں بطور لیکچرر خدمات انجام دے رہے تھے۔

ڈاکٹر محمد جنجوعہ نے چین سے میڈیکل کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد کچھ عرصہ پاکستان میں خدمات انجام دیں اور دوبارہ چین لوٹ گئے تاکہ اسپیشلائزیشن کرسکیں۔

پاکستانی نوجوان کا کہنا تھا کہ ‘چین میں کرونا وائرس پھیلنے کے بعد حکومت سے گزارش کی تھی کہ مجھے انسداد کورونا وائرس کےلیے رضاکارانہ خدمات انجام دینے والے ڈاکٹرز میں شامل کیا جائے، میں بھی طبی سہولیات کی فراہمی اور وائرس کی روک تھام کےلیے کام کرنا چاہتا ہوں’۔

ڈاکٹر محمد جنجوعہ کا کہنا تھا کہ ‘میرا دل چینی بھائیوں کے ساتھ دھڑکتا ہے کیونکہ چین میرا دوسرا گھر ہے اور وائرس کے گڑھ ووہان سٹی میں خدمات انجام دینا میرے اور پاکستان کے لیے فخر کا باعث ہے’۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق چینی میڈیا نے ووہان جانے والے پاکستانی ڈاکٹر کو ہیرو قرار دیا ہے جس پر ڈاکٹر جنجوعہ نے ان کے رضاکارانہ خدمت کے جذبے کو سراہنے پر چینی میڈیا کا شکریہ ادا کیا۔

عثمان جنجوعہ نے کہا کہ بطور ڈاکٹر وہ سمجھتے ہیں کہ چین کی حکومت نے وبا پر قابو پانے کے لیے بروقت بھرپور اور مؤثر اقدامات کیے جس کی دنیا میں کہیں بھی نظیر نہیں ملتی۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ چین کورونا وائرس پر جلد قابو پالے گا اور مقامی شہریوں کے ساتھ چین میں مقیم پاکستانی اور دیگر ملکوں کے افراد خود کو محفوظ پائیں گے۔

ڈاکٹر عثمان جنجوعہ کا سوشل میڈیا پر خوب چرچا ہورہا ہے، چینی صحافی نے ٹویٹ کیا کہ ‘شکریہ پاکستانی بھائی، ایک پاکستانی ڈاکٹر محمد عثنمان جنجوعہ نے چین میں کورونا وائرس کے خلاف لڑائی کے لیے اپنی خدمات پیش کر کے چینی شہریوں کے دل جیت لیے’۔
پاکستان میں چینی سفارت خانے بھی ڈاکٹر عثمان کی تصاویر ٹوئٹر پر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہم ڈاکٹر محمد عثمان جنجوعہ کی رضاکارانہ خدمات کو سراہتے ہیں، جو چین میں کورونا وائرس کے خلاف جنگ لڑنے والے پہلے غیر ملکی رضاکار ڈاکٹر ہیں’۔

اپنا تبصرہ بھیجیں