
اسلام بڑھ رہا ہے، عیسائیت کم ہو رہی ہے: عالمی آبادی کا نیا جائزہ
ایک نئی رپورٹ کے مطابق، گزشتہ دہائی میں اسلام دنیا کا تیزی سے پھیلنے والا مذہب رہا ہے، جبکہ عیسائیت کی شرح نمو عالمی آبادی کے مقابلے میں کم رہی۔ پیو ریسرچ سینٹر کے جائزے میں بتایا گیا ہے کہ 2010 سے 2020 تک عیسائیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا، لیکن یہ شرح دنیا کی کل آبادی کے مقابلے میں سست رہی۔
رپورٹ کے مطابق، اسلام اس وقت دنیا کا سب سے تیزی سے بڑھنے والا مذہب ہے، جس کی بنیادی وجہ مسلم ممالک میں شرح پیدائش کا زیادہ ہونا ہے۔ اس کے برعکس، بیشتر عیسائی ممالک میں آبادی کا اضافہ کم ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے عیسائیت کا حصہ عالمی آبادی میں بتدریج کم ہو رہا ہے۔

پیو ریسرچ سینٹر کے اعداد و شمار کے مطابق، 2020 تک دنیا کی کل آبادی کا تقریباً 24 فیصد حصہ مسلمانوں پر مشتمل تھا، جبکہ عیسائیوں کا تناسب 31 فیصد رہا۔ تاہم، اگر موجودہ رجحانات جاری رہے تو اگلی چند دہائیوں میں اسلام سب سے بڑا مذہب بن سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلم آبادی میں اضافے کی ایک بڑی وجہ نوجوان نسلوں کی زیادہ تعداد ہے، جبکہ یورپ اور امریکہ جیسے خطوں میں عمررسیدہ آبادی بڑھ رہی ہے، جس سے عیسائی آبادی کا تناسب متاثر ہورہا ہے۔ اس کے علاوہ، مغربی ممالک میں مذہب سے دوری کا رجحان بھی عیسائیت کے حصے کو کم کرنے میں معاون ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ افریقہ اور ایشیا کے کئی ممالک میں اسلام تیزی سے پھیل رہا ہے، جبکہ لاطینی امریکہ جیسے خطوں میں جو کبھی عیسائی اکثریت کا گڑھ سمجھے جاتے تھے، اب غیر مذہبی گروہوں میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ اس تبدیلی نے بھی عیسائیت کے عالمی تناسب کو متاثر کیا ہے۔
تاہم، ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ مذہبی اعداد و شمار میں تبدیلیاں صرف آبادیاتی عوامل پر منحصر نہیں ہیں۔ سیاسی، معاشی اور سماجی حالات بھی کسی مذہب کے پھیلاؤ یا کمی پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ مثال کے طور پر، مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے کچھ حصوں میں تنازعات نے بھی مذہبی تبدیلیوں کو متاثر کیا ہے۔
اس رپورٹ کے باوجود، عیسائی مذہب فی الحال دنیا کا سب سے بڑا مذہب ہے، جس کے پیروکاروں کی تعداد 2 ارب سے زیادہ ہے۔ لیکن اگر موجودہ رجحانات برقرار رہے، تو اگلی صدی میں اسلام سبقت لے سکتا ہے۔ یہ تبدیلی عالمی مذہبی نقشے کو یکسر بدل سکتی ہے۔
آخر میں، یہ جائزہ ظاہر کرتا ہے کہ مذہبی آبادیوں میں تبدیلیاں کئی عوامل کا نتیجہ ہیں، جن میں شرح پیدائش، ہجرت اور ثقافتی تبدیلیاں شامل ہیں۔ آنے والے سالوں میں یہ رجحانات نہ صرف مذہبی بلکہ سیاسی و سماجی میدانوں میں بھی اہم اثرات مرتب کریں گے۔























