
وَلینسیا کی سیلابی تباہی: حادثہ بھی، جرم بھی؟
وَلینسیا، سپین — 29 اکتوبر کو آنے والے سیلاب نے وَلینسیا کے مضافاتی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ بغیر کسی پیشگی انتباہ کے، پانی کی بلند لہریں گھروں میں گھس گئیں، اور 228 سے زائد افراد کی جان لے گئیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ صرف ایک قدرتی آفت تھی، یا اس میں حکومتی غفلت بھی شامل تھی؟

جج نوریا رُیز ٹوبارا اس معاملے کی تفتیش کر رہی ہیں اور دو سرکاری عہدیداروں کو لاپرواہی کے الزامات کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بروقت انتباہ جاری کیا جاتا، تو بہت سی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔ موسمیاتی ادارے نے طوفان سے چار دن پہلے ہی خبردار کر دیا تھا، لیکن حکومتی الرٹ شام 8:11 بجے آیا، جب تک بیشتر علاقے پانی میں ڈوب چکے تھے۔


متاثرین کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ ان کے پیارے انتباہ ملنے کے بعد بھی گھروں سے نکلے یا گاڑیاں بچانے کی کوشش میں جاں بحق ہوئے۔ 70 سالہ ڈولورِس رُیز نے اپنے شوہر اور دو بیٹوں کو سیلاب کے ہاتھوں کھو دیا۔ وہ کہتی ہیں، “اگر الرٹ وقت پر آیا ہوتا، وہ زندہ ہوتے۔”


اب سپین کی عدالت یہ فیصلہ کرے گی کہ کیا یہ لاپرواہی صرف انتظامی ناکامی تھی یا ایک قابلِ سزا جرم۔























