
بجٹ 26-2025 : سپریم کورٹ کے اخراجات کیلئے 6 ارب 64 کروڑ روپے مختص
مالی سال 26-2025 کے بجٹ میں سپریم کورٹ کے اخراجات کے لیے 6 ارب 64 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، عدالت عظمیٰ کے ملازمین کی تنخواہوں اور الاؤنسز پر 3 ارب 26 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جائیں گے۔
ڈان نیوز کے مطابق آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ سپریم کورٹ کے اخراجات کے لیے 6 ارب 64 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
افسران کی تنخواہوں کے لیے 54 کروڑ اور دیگر عملے کے لیے 91 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، اثاثہ جات کی خریداری کے لیے 42 کروڑ اور ترقیاتی کاموں کے لیے 45 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
عدالت عظمیٰ کے ملازمین کو ریٹائرمنٹ پر ملنےو الے فوائد کی مد میں 23 کروڑ 80 لاکھ روپے کا بجٹ رکھا گیا ہے، جبکہ گرانٹس، سبسڈیز اور قرضہ جات کی معافی کی مد میں 2 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔
سپریم کورٹ کے آپریٹنگ اخراجات کا بجٹ ایک ارب 3 کروڑ روپے رکھا گیا ہے۔
=================
نوازشریف کی رہنمائی اور وزیراعظم کی قیادت میں بہترین بجٹ پیش کیاگیا ،مریم نواز
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے متوازن بجٹ پیش کرنے پر وزیراعظم اور ان کی ٹیم کو مبارک باد پیش کی ہے۔
اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ نوازشریف کی رہنمائی اوروزیراعظم کی قیادت میں بہترین بجٹ پیش کیا گیا،بجٹ پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں معاون ثابت ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ نئے مالی سال کا بجٹ عوام کیلئے خوشی اور خوشحالی لائے گا، معیشت کی ترقی کا ثمر ہر فرد تک پہنچانے کیلئے پر عزم ہیں۔
دفاعی بجٹ میں 20 ، تنخواہ 10 ، پنشن میں 7 فیصد اضافہ ، انکم ٹیکس کم کر دیا گیا
مریم نواز شریف نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام سے نجات حاصل کرنے کا عزم شاندار مستقبل کی نوید ثابت ہوگا،بجٹ میں متوسط طبقے کو ریلیف دیاگیا،مصنوعی مہنگائی مزید کم ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ وطن عزیز میں پائیدار ترقی کا سفر شروع ہوچکا ہے، عوام کے لئے آسانیوں کے دن آچکے ہیں۔
قومی اسمبلی کیلئے 16 ارب 29 کروڑ،اراکین کی تنخواہوں اور الاؤنسز کیلئے 5 ارب 8 کروڑ مختص کرنے کی تجویز
وفاقی بجٹ میں قومی اسمبلی کیلئے 16 ارب 29 کروڑ روپے جبکہ اراکین اسمبلی کی تنخواہوں اور الاؤنسز کیلئے 5 ارب 8 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے،گزشتہ سال اراکین اسمبلی کیلئے 2 ارب 90 کروڑ روپے کا بجٹ رکھا گیا تھا۔
سود کی آمدنی پر ٹیکس کی شرح میں اضافے کا فیصلہ
دستاویزات کے مطابق اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر آفسز کیلئے 39 کروڑ 34 لاکھ روپے کا بجٹ رکھنے کی تجویزہے،اسی طرح قائد حزب اختلاف کے دفتر کیلئے 8 کروڑ 34 لاکھ روپے کا بجٹ رکھنے کی تجویز ہے۔
کشمیر کمیٹی کیلئے 20 کروڑ روپے،قائمہ کمیٹی کے چیئرمینوں کیلئے 2 ارب 15 کروڑ روپے کا بجٹ رکھنے کی تجویزہے۔
ای کامرس یا آن لائن کاروبار کرنے والوں کو بھی ٹیکس نیٹ میں لانے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے بجٹ میں ای کامرس یا آن لائن کاروبار کرنے والوں کو بھی ٹیکس نیٹ میں لانے کا فیصلہ کیا ہے، وہ افراد یا کمپنیاں جو آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے اشیا یا خدمات فروخت کرتے ہیں، ان پر ٹیکس لاگو ہوگا۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے 17 ہزار 573 ارب روپے کا بجٹ 26-2025 پیش کردیا جس میں تنخواہ دار طبقے کے لیے ریلیف کا اعلان کرتے ہوئے تمام ٹیکس سلیبز میں نمایاں کمی کی گئی۔
تاہم، بجٹ میں حکومت نے ڈیجیٹل پریزینس پروسیڈس ٹیکس ایکٹ 2025 لانے کا بھی فیصلہ کیا ہے جس کے تحت ای کامرس یا آن لائن کاروبار کرنے والوں کو بھی ٹیکس نیٹ میں لایا جائے گا۔
وہ افراد یا کمپنیاں جو آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے اشیا یا خدمات فروخت کرتے ہیں، ان پر ٹیکس لاگو ہوگا، اس کے علاوہ آن لائن آرڈر کی گئی اشیا اور خدمات پر بھی ٹیکس عائد کیا جائے گا، ای کامرس کاروباری افراد کو اپنی ماہانہ ٹرانزیکشنز کا مکمل ڈیٹا اور ٹیکس رپورٹ متعلقہ اداروں کو جمع کروانی ہوگی۔
بجٹ تقریر کے دوران وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ موجودہ انکم ٹیکس کا نظام سرحد پار بڑھتے ہوئے ای کامرس کے شعبے پر ٹیکس کا اطلاق موثر انداز میں نہیں کر پارہا، خصوصاً ان غیر ملکی تاجروں ( وینڈرز) پرجو ویب سائٹس اور سوفٹ ایپلی کیشنز کے ذریعے آرڈر کی گئی اشیا فروخت کر رہے ہیں اور کورئیرز کے ذریعے سامان کی ترسیل پر کیش آن ڈلیوری کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کئی ممالک کے ساتھ دو طرفہ ٹیکس معاہدوں کے تحت، اگر کسی غیر ملکی کمپنی کا پاکستان میں مستقل کاروباری مقام نہ ہو، تو اس صورت میں یہاں ان کی آمدنی پر انکم ٹیکس لاگو نہیں ہوتا لہٰذا صرف اُن غیر ملکی وینڈرز پر ٹیکس عائد کیا جاسکتا ہے جن ممالک کے ساتھ پاکستان کے ایسے کوئی معاہدے موجود نہیں ہیں۔
وزیرخزانہ نے کہا کہ اس ضمن میں کئی ممالک پہلے ہی ڈیجیٹل سروسز ٹیکس متعارف کروا چکے ہیں تاکہ اُن غیر ملکی تاجروں سے ٹیکس وصول کیا جا سکے، جو غیر ملک میں رہتے ہوئے مقامی مارکیٹ میں محض اپنی ’ ڈیجیٹل موجودگی’ کی بنیاد پر چیزیں فروخت کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ان ممالک کا مؤقف ہے کہ مستقل کاروباری مقام کا پرانا تصور اب ان کے ٹیکس نافذ کرنے کے حق کا تحفظ نہیں کر سکتا، تاہم سرحد پار فروخت کئے گئے سامان پر جو ای کامرس کے ذریعے سپلائی ہوتا ہے، اب بھی ٹیکس عائد نہیں کیا جا رہا۔
انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کے پیش نظر ٹیکس کے معاملات پر عالمی معاہدے کی فوری ضرورت ہے تاکہ ٹیکس نافذ کرنے کے حقوق ملکوں کے مابین منصفانہ طور پر دیے جا سکیں، اور مستقل کاروباری مقام کے تصور کو نئی جہتوں کے ساتھ اپنایا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسے کسی عالمی معاہدے تک پہنچنے سے قبل کے عبوری دور میں غیر ملکی تاجروں کی جانب سے پاکستان میں فروخت ہونے والی اشیا اور خدمات پر ٹیکس نہ دینے کا حل نکالنے کے لیے ایک نیا قانون تجویز کیا جا رہا ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ اس بل کے تحت ’ ڈیجیٹل پریزینس’ سے حاصل شده آمدنی پر ٹیکس کا قانون متعارف کرایا جارہا ہے، جس کے تحت پاکستان کے دائرہ اختیار میں غیر ملکی تاجروں کی جانب سے فروخت کی گئی اشیا اور خدمات پر ٹیکس عائد کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس قانون کے تحت تمام ادارے بشمول بینک، مالیاتی ادارے، لائسنس یافتہ ایکسچینج کمپنیاں اور دیگر ادائیگی کے ذرائع اس بات کے پابند ہوں گے کہ وہ پاکستان میں باہر سے اشیا اور خدمات فراہم کرنے والے غیر ملکی تاجروں کو کی جانے والی ڈیجیٹل ادائیگیوں پر 5 فیصد ٹیکس وصول کریں۔























