جائیداد کی خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس ڈیڑھ فیصد کم کرنے کی تجویز- سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ 10 فیصد

جائیداد کی خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس ڈیڑھ فیصد کم کرنے کی تجویز

جائیداد کی خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس ڈیڑھ فیصد کم کرنے کی تجویز
مالی سال 26-2025ء کے بجٹ میں جائیداد کی خریداری پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس ڈیڑھ فیصد کم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

قومی اسمبلی اجلاس میں بجٹ تقریر کے دوران وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے بجٹ تقریر میں جائیداد کی خریداری پر ووہولڈنگ ٹیکس کی شرح ساڑھے 3 فیصد سے کم کرکے 2 فیصد کم کرنے کی تجویز دی۔

اس موقع پر وزیر خزانہ نے کمرشل جائیدادوں، پلاٹس اور گھروں کی منتقلی پر 7 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کرنے کی تجویز بھی دی۔

بجٹ تقریر میں کہا گیا کہ 10 مرلے تک کے گھروں اور 2 ہزار مربع فٹ کے فلیٹس پر ٹیکس کریڈٹ متعارف کرایا جارہا ہے۔

بجٹ تقریر میں مزید کہا گیا کہ اسلام آباد میں جائیداد کی خریداری پر اسٹامپ پیپر ڈیوٹی 4 سے کم کرکے ایک فیصد کرنے کی تجویز دی۔
==================

وزیراعظم شہباز شریف نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں6 فیصد اضافے کا فیصلہ مسترد کرتے ہوئے تنخواہوں میں اضافہ 10فیصد کردیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ نے وفاقی بجٹ مالی سال 2025 -26 کی منظوری دے دی۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ وزیرِ اعظم نے پنشن میں اضافہ بھی 7 فیصد سے بڑھا کر 10 فیصد کر دیا۔

وفاقی کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ تنخواہ دار طبقے سے معاشی استحکام میں اہم کردار ادا کیا، اشرافیہ کو اس سوال کا جواب دینا ہوگا کہ انہوں نے کتنا اور تنخواہ داروں نے کتنا ٹیکس دیا۔

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 50 فیصد اضافہ کرنے کا مطالبہ

شہباز شریف نے کہا کہ نئے بجٹ میں معاشی ترقی پر توجہ مرکوز کی ہے، حالیہ جنگ میں دشمن کو شکست فاش دی، معاشی میدان میں بھی مخالفین کو شکست دیں گے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 6 فیصد اضافے کی منظوری دی گئی تھی، پینشنرز کی پینشن میں بھی 7 فیصد اضافے کی منظوری دی گئی تھی
========================

ہم آدھے سے زائد ممکنہ ٹیکس سے محروم تھے، وزیر خزانہ کا اعتراف

ہم آدھے سے زائد ممکنہ ٹیکس سے محروم تھے، وزیر خزانہ کا اعتراف
وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے بجٹ تقریر میں اعتراف کیا کہ ہم آدھے سے زائد ممکنہ ٹیکس سے محروم تھے، ایف بی آر نے پاکستان میں ٹیکس گیپ کا تخمینہ ساڑھے 5 ٹریلین روپے لگایا ہے۔

قومی اسمبلی اجلاس میں بجٹ تقریر کے دوران انہوں نے کہا کہ ہمارا سب سے اہم معاشی مسئلہ محصولات کے نظام کی مسلسل کمزوری تھی، پاکستان کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی 10 فیصد تھی، جو ترقیاتی اخراجات اور ریاست کے انتظامی معاملات چلانے کےلیے ناکافی تھی۔

بجٹ تقریر میں کہا گیا کہ ایف بی آر کے مطابق پاکستان میں ٹیکس گیپ کا تخمینہ 5 اعشاریہ 5 ٹریلین روپے لگایا گیا ہے، یعنی ہم آدھے سے زائد ممکنہ ٹیکس سے محروم تھے، یہ صورتحال ناقابل قبول تھی، اس خلا کو پر کرنا نہ صرف ضروری تھا بلکہ ملک کو 14 فیصد کے ٹیکس ٹو جی ڈی کی پائیدار ترقی کی راہ پر ڈالنا ناگزیر تھا۔

وفاقی وزیر نے بجٹ تقریر میں ایف بی آر میں ٹرانسفارم کی بات کی اور کہا کہ اس کے بغیر معیشت مستحکم کرنا اور قومی اہداف حاصل کرنا ممکن نہ تھا، وزیراعظم کی سربراہی میں ایف بی آر ٹرانسفرمیشن پلان کا آغاز کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ کوئی روایتی مشق نہیں تھی بلکہ وزیرا عظم کی براہ راست نگرانی میں ایک تفصیلی مشاورت کے ذریعے تیار کیا گیا، منصوبہ تھا جس کی ستمبر 2024 میں منظوری دی گئی، اس منصوبے کی بنیاد تین ستونوں پر ہے، پیپل، پراسس اور ٹیکنالوجی ہیں۔

سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ اس منصوبے کا محور ڈیجیٹل ٹرانسفرمیشن ہے، پاکستان میں پہلی مرتبہ معیشت اور ٹیکس نظام کے درمیان جامع ڈیجیٹل انضمام کا آغاز کیا گیا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کے تحت اٹھائے گئے اہم اقدامات میں ڈیجیٹل پروڈکشن ٹریکنگ کا آغاز ہے ، جسے چینی شعبے سے شروع کیا گیا اور اب اسے سیمنت ، مشروبات ، کھاد اور ٹیکسٹائل میں توسیع تک جاری ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ بزنس ٹو بزنس لین دین کو دستاویزی شکل دینے کےلیے ملک گیر ای انویسنگ کا اجراء کیا گیا ہے،سیلز اور انکم ٹیکس کےلیے آرٹی فیشل انٹیلی جنس پر مبنی آڈیٹ سسٹم چاروں صوبوں میں پوائنٹ آف سیل نظام سے منسلک کیا گیاجبکہ اشیاء کی نقل و حمل پر نظر رکھنے کےلیے ای و ے بلنگ شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسٹمز میں ملی بھگت کے خاتمے کےلیے فیس لیس آڈیٹ نظام کا قیام ، افسران کےلیے ڈیجیٹل ورک فلو اور بروقت انفورسمنٹ الرٹ کا ایک نظام سینٹرل کنٹرول یونٹ جو ڈیٹا کی مرکزی نموداری فراہم کرے گا اور جدید ٹیکنالوجی لانے کےلیے مینڈیت کے ساتھ PRAL Board کی تشکیل نو ہو چکی ہے۔