پاکستان کی سیاست میں مریم نواز امید کی نئی کرن !!

تحریر : نعیم اختر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پاکستان کی حالیہ سیاست میں مریم نواز نے جو سیاسی مقام حاصل کیا ہے وہ بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے وہ پاکستان کی سیاست میں امید کی ایک نئی کرن ہیں مریم نواز نے اپنے والد تین بار کے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی جلا وطنی کے دوران جس طرح ان کے مشن کی تکمیل اور سیاست کو پروان چڑھایا اس کے نظیر نہیں ملتی عمران حکومت کے ظالمانہ دور میں انہوں نے جس طرح پابند سلاسل رہتے ہوئے ہمت، بہادری اور نڈری سے مقابلہ کرتے ہوئے ظالم عمران کے عزائم ناکام بنائے تاریخ حصہ بن چکے ہیں پاکستانی سیاست میں ماضی کی روایات واضح تبدیلی کی طرف گامزن ہےاور یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ دوسری طرف جامد بیانیے نئے پیراہن اور نئی لہروں کے دوش پر ابھر رہے ہیں ۔یہ بات خوش کن ہے مریم نواز کا نام ایک تازہ ،با اعتماد اور عوامی رنگ کی علامت کے طور پر سرِفہرست نظر آتا ہے۔ خاص طور پر نوجوان نسل کی توجہ اور دلچسپی جس انداز میں مریم نواز کی جانب بڑھی ہے یہ ان کی نوجوان نسل میں مقبولیت کا آغاز اور پاکستانی سیاست کے بدلتے رجحانات کا پیش خیمہ ہے۔ مریم نواز ایک فعال، بااعتماد اور مؤثر سیاسی رہنما کے طور پر خود کو منوا چکی ہیں۔سوشل میڈیا کے دور میں جہاں ہر بات لمحوں میں وائرل ہوتی ہے،۔مریم نواز کی عوامی تقاریر، جلسوں میں شرکت اور سوشل میڈیا پر سرگرمیاں اُن کے اس نئے انداز سیاست کا حصہ ہے جو روایتی سیاست سے مختلف نظر آتا ہے۔جدید دور میں دیگر عوامل کی طرح ڈیجیٹل سیاست کی راہ بھی ہموار ہوئی ہے ۔مریم نواز نے ڈیجیٹل پلیٹ فارم کو سیاسی مکالمے کا مرکز بنایا ۔ ان کے خطابات کے کلپس، جذباتی تقاریر، اور سیاسی بیانات نوجوانوں میں تیزی سے وائرل ہوتے ہیں۔ جہاں روایتی سیاستدان نوجوانوں سے رابطے میں کمزور دکھائی دیتے ہیں وہیں وہ نوجوانوں سے مخاطب ہیں اور ان کے مسائل سنتی ہیں یہی وجہ ہے کہ یونیورسٹیوں اور کالجوں کے طلبا و طالبات اُن کو دیکھنے اور سننے میں دلچسپی لیتے ہیں اور انہیں “اپنا نمائندہ” سمجھنے لگے ہیں، مریم نواز نوجوان نسل کی پسندیدہ لیڈر بن چکی ہیں ۔ الیکٹرک بائیکس ، اسکالر شپ اور لیپ ٹاپ،ام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کے لیے مختلف کارڈز کی تقسیم کی تقریبات میں اس کا عملی مشاہدہ دیکھنے کو ملتا ہے ۔وزیر اعلیٰ کا جب سے مریم نواز نے منصب سنبھالا ہے ہر وقت عوام سے رابطہ ان کا مشن ہے وہ باتوں سے نہیں عملی اقدامات یقین رکھتی ہے انہوں نے تھوڑے وقت میں ہی لوگوں کے دل جیتے ہیں مریم نواز نے حقیقی آزادی کے مقابل” ووٹ کو عزت دو۔” کا بیانیہ اپنایا۔ یہ نعرہ حقیقی جمہوریت کا نمائندہ اور نوجوان نسل کے اس احساس کی ترجمانی ہے جو حقیقی جمہوریت، شفاف انتخابات اور سول سپرمیسی کے خواہاں ہیں وہ خود ایک مضبوط عورت کے طور پر ابھری ہیں،وہ نوجوان خواتین کے لیے ایک رول ماڈل بن چکی ہیں۔تاہم پاکستان میں رائے کا تنوع موجود ہے اور یہی جمہوریت کا حسن ہے۔مگر یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ مریم نواز ایک نئی سیاسی زبان، ایک نیا اسلوب، اور ایک نیا وژن لے کر نوجوانوں کے دلوں میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوئی ہیں۔مریم نواز کی نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی مقبولیت میں سب سے آ گے ہیں،
مریم نواز وہ لیڈر ہیں جو نوجوانوں سے ناصرف بات نہیں کرتیں بلکہ اُنہیں سننا بھی جانتی ہیں اور یہی قیادت کی اصل خوبی ہے۔”وہ نوجوانوں کو نظام کا حصہ بنانے کی بات کرتی ہیں، جو آج کے دور کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔”ان کی رائے نہ صرف تعلیمی اداروں میں مریم نواز کی حمایت کو تقویت دیتی ہے بلکہ طلبہ کو سیاسی شعور کی طرف راغب کرنے میں بھی مدد دیتی ہے۔ یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ وہ نوجوانوں کی سیاسی شعور و بیداری کی ایک بڑی وجہ بن رہی ہیں۔تاہم مریم نواز کی سیاست پر تنقید بھی کم نہیں۔ نوجوان نسل، جو میرٹ، شفافیت اور ادارہ جاتی اصلاحات کی خواہاں ہے، وہ صرف لب و لہجے سے مطمئن نہیں ہوتیں وہ نتائج بھی چاہتی ہیں مریم نواز عملی سطح پر نوجوانوں کے لیے ملازمتوں، تعلیم، اور جدت طرازی اور موجودہ مسائل پر سنجیدگی کیساتھ اپنی عوام دوست حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں جس کے نتائج سامنے آنا شروع ہو چکے ہیں

پاکستانی سیاست میں ایک نئے باب کا آغاز ہوچکا ہے یہ سفر ابھی شروع ہوا ہے ابھی حقیقی منزل بہت دور ہے جس کے لیے بہت کام کرنے کی ضرورت ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سفر میں مریم نواز نظریاتی کارکنوں کو اپنے ساتھ لے کے چلیں کوئی بھی جماعت کارکنوں کے بغیر نامکمل ہے کارکن پارٹی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں ماضی میں نظریاتی کارکنوں کو نظر انداز کیا گیا جس کا پارٹی کو شدید نقصان پہنچا اب ایسا ہوا تو پارٹی اس کی متحمل نہیں ہو پائے گی

” رستے ہوئے زخموں کا ہو کچھ اور مداوا
یہ حرف تسلی کوئی مرہم تو نہیں ہے ”

نوجوان نسل خواب دیکھنے سے ڈر رہی ہے ۔خوابوں سے ڈسی ہوئی قوم کو عمل کے مرہم کی اشد ہے۔