چین میں کروناوائرس کےساتھ برڈ فلوکا بھی وار

کروناوائرس کے ساتھ ساتھ چین کے صوبے ہنان میں برڈ فلو کی وباء پھیل گئی ہے ۔ برڈ فلو شایویانگ شہر کے ایک پولٹری فارم میں پھیلا ہے جس کے بعد فارم میں 7,850 میں سے چار ہزار 500 مرغیاں ہلاک ہوگئیں ۔ پولٹری فارمز میں وائرس کے بعد 17،800 مرغیاں تلف کی گئیں ہیں ۔ چینی حکام نے صوبہ ہنان میں ایچ فائیو این ون برڈ فلو کی تصدیق کردی ۔ برڈ فلو پھیلنے کے بعد ہزاروں مرغیوں کو تلف کردیاگیا ہے جبکہ وباءکا انسانوں میں پھیلنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے ۔
اس ہفتے کے آغاز میں بھارت میں بھی حکام نے برڈ فلو کے وائرس پر قابو پانے کے لئے مرغیوں اور انڈوں کو تلف کیاتھا۔ اقوام متحدہ کےماہرین کے مطابق 2013 میں چین میں برڈ فلو پھیلنے سے 6.5 بلین امریکی ڈالر کا معاشی نقصان ہوا تھا۔
یادرہے کہ اس وقت چین میں کرونا وائرس مزید 45 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جس کے بعدمجموعی طور پرچین میں وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 304تک جاپہنچی ہے جبکہ متاثر ہونے والوں کی تعداد 13،000 سے تجاوز کرچکی ہے ۔ مہلک وائرس سے زیادہ تراموات چین کے صوبہ ہوبئی میں ہوئی ہیں ۔60 ملین آبادی والے صوبے میں مکمل طور پر لاک ڈاؤن ہے ۔
چین کے شہرتیانجنگ میں تمام اسکول اور کاروباری مراکز آئندہ نوٹس تک بندکردیےگئے۔حکام کی جانب سے یہ فیصلہ ملک میں کروناوائرس کی صورتحال کےسبب لیاگیاہے۔چینی صدر نے ہسپتالوں کا کنٹرول فوج کے حوالے کردیاہے ۔تیزی سے پھیلتے وائرس نے دنیا بھر میں خوف اور تشویش کی فضا قائم کردی ہے ۔ چینی حکام نے رشتہ ازدواج میں بندھنے والےشہریوں کوشادی کی تاریخیں ملتوی کرنےکی ہدایت کردی جبکہ مرنیوالوں کی آخری رسومات بھی چھوٹی سطح پر کی جائیں۔
جینیوا میں صحت کی عالمی تنظیم ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO ) نے چین سے دنیا بھر میں پھیلنے والے جان لیوا کرونا وائرس پر عالمی ہیلتھ ایمرجنسی کا اعلان کر دیا۔ڈی جی ڈبلیو ایچ او ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈھانم نے کہا کہ ایمرجنسی کا مقصد صورت حال سے نمٹنے کے لیے اقدامات کو تیز کرنا ہے، چین پر تجارتی یا سفری پابندیوں کی سفارش نہیں کر رہے۔دوسری جانب گوگل نےبھی چین میں اپنا دفتر بندکرنے کا اعلان کردیا ہے ۔ جاپان اور امریکہ سمیت کئی دیگر ملکوں نے اپنے شہریوں اور سفیروں کو واپس بلا لیا ہے۔امریکا نے ملکی سطح پرایمرجنسی نافذ کردی ہے جس کے بعدچین نے امریکہ سے درآمد کیے جانے والے وائرس سے بچاؤ کے کچھ سامان پر محصولات منسوخ کردیئے۔ چین نے یورپی یونین سے طبی سامان کی فراہمی میں مدد طلب کرلی ہے ۔
چینی صدر شی چن پنگ کے مطابق اس مہلک وائرس کے پھیلاؤ میں تیزی آرہی ہے اور ملک ایک ’ نازک مرحلے‘ سے گزر رہا ہے ۔ چین کی متعدد متاثرہ ریاستوں میں سفری پابندیاں عائد ہیں۔ حکام نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ یہ وائرس ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہوتا ہے۔اس وباء کا مرکز چینی شہر ووہان ہے، جس کی آبادی 8.9 ملین کے قریب ہے ۔ چینی شہر ووہان کے رہائشیوں کو شہر چھوڑنے سے منع کر دیا گیا،بس،سب وے،فیری سروسزبند،ٹرینیں اورپروازیں بھی منسوخ کر دی گئی ہیں۔
چین کے صوبے ہوبئی کے 2شہروں میں ریلوے سٹیشن بند،سال نوکی تقریبات منسوخ کر دی گئیں۔ وائرس پھیلنے کے خدشے کے پیش نظر شنگھائی کے تمام سینما گھر بندکردئیے گئے۔ نئے سال پر چین کی 7فلموں کی ریلیز نہ ہوسکی،سکریننگ ملتوی کر دی گئی۔ ووہان میں سفارتخانے نے پاکستانی کمیونٹی کو بھی خبردار کر دیا۔دوسری جانب برطانوی محققین نے خبردار کیا ہے کہ چین اس وائرس پر قابو نہیں پا سکے گا۔کرونا وائرس سے چین اورہانگ کانگ کی مارکیٹس مندی کاشکارہیں۔
چینی محکمہ صحت کے مطابق اس وائرس کے پھیلاؤ کے روکنے کے لئے ہر ممکن اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ اس وباء کا آغاز اس وقت ہوا ہے جب پورے چین میں لاکھوں افراد قمری سال نو کی چھٹیاں منانے کے لئے اندرون ملک سفر کررہے ہیں ، جبکہ ہزاروں افراد اپنے دوستوں اور اہل خانہ کے ہمراہ بیرون ملک بھی سفر کررہے ہیں۔

کرونا وائرس کیا ہے ؟
کرونا وائرس کو n COV-2019 کا نام دیا گیا ہے، یہ وائرس سمندری خوراک اور جنگلی جانوروں کی مارکیٹ میں متاثرہ جانوروں سے پھیلا ہے۔ یہ مارکیٹ جنگلی جانوروں کی غیر قانونی لین دین میں ملوث رہی ہے ۔ اس مہلک وباء کو کرونا وائرس کی نئی شکل قرار دیا جارہا ہے کیونکہ اس سے قبل انسانوں میں اسے شناخت نہیں کیا گیا ۔

کرونا وائرس کی علامات

کھانسی ، گلے کی سوجن ، ناک بہنا اور بخار سمیت متعدد علامات کرونا وائرس کا سبب بن سکتی ہیں ۔ جبکہ ہلکی علامات میں عام سردی شامل ہے ، نمونیا کی صورت میں یہ سنگین شکل اختیار کرسکتا ہے ۔ یہ وائرس عام طور پر متاثرہ شخص سے براہ راست رابطے کے ذریعےدوسرے فرد میں منتقل ہوتا ہے ۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وائرس کی علامات ظاہر ہوتے تقریباً 14 دن لگتے ہیں اس لئے معمولی علامات پر ہی ڈاکٹر سے رجوع کرلینا چاہئیے۔

احتیاطی تدابیر

عالمی ادارہ صحت کے مطابق اگر کسی فرد میں سانس میں دشواری ، کھانسی ، چھینکنے ، سردی وغیرہ کی علامات ظاہر ہوں تو اس سے قریبی رابطے سے گریز کریں ۔سائنس دانوں کا خیال ہے کہ یہ وائرس جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوچکا ہے۔ ماہرین صحت کی طرف سے یہ مشورہ دیا جارہا ہے کہ گوشت اورانڈوں کو اچھی طرح پکا کر کھانا چاہئیے ۔اس کے علاوہ لوگوں کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ جانوروں کی منڈیوں اور کچے گوشت سے مکمل طور پر پرہیز کریں۔جبکہ ڈاکٹرز کے مطابق ہر فرد کم ازکم 20 سیکنڈ تک صابن سے اپنے ہاتھ دھوئیں ۔یاد رہے کہ د نیا میں کرونا وائرس کی ویکسین تاحال دستیاب نہیں لہذا وائرس سے بچاؤ کا واحد حل بروقت احتیاطی تدابیر ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں