خیبرپختونخوا اور سندھ کی حکومتوں کے وفاق سے مطالبے، آئی ایم ایف کی شرائط اور اگلے بجٹ کی امیدیں

خیبرپختونخوا کی حکومت وزیراعظم شہباز شریف کی وفاقی حکومت سے ناخوش ہے اور الزام لگا رہی ہے کہ وفاقی حکومت کے پی کے حصے کے فنڈز جاری نہیں کر رہی، جس کی وجہ سے صوبے کے عوام مشکلات کا شکار ہیں۔ صوبائی وزیراعلیٰ نے صوبائی وسائل سے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے اضافی اقدامات کیے ہیں، لیکن وفاق کی جانب سے فنڈز کی بروقت فراہمی نہ ہونے سے ترقیاتی منصوبے متاثر ہو رہے ہیں۔ کے پی کے مشیر مزمل صابر نے کہا ہے کہ ’’وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت خیبرپختونخوا کے عوام کے ساتھ ناانصافی کر رہی ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ اگر وفاق نے صوبے کا حق نہیں دیا تو احتجاجی اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔

سندھ حکومت وفاقی اعلان کا انتظار کر رہی

دوسری جانب سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے عید کے دن ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ سندھ حکومت وفاقی حکومت کے اعلانات کا انتظار کر رہی ہے، اس کے بعد ہی اگلے مالی سال 2025-26 کے لیے کم از کم اجرت کا فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ’’وفاق کی جانب سے مزدوروں اور ملازمین کی فلاح کے لیے اقدامات کیے جائیں گے تو سندھ حکومت بھی اپنی پالیسیاں طے کرے گی۔‘‘ واضح رہے کہ ماضی میں بھی سندھ حکومت نے وفاق سے زیادہ کم از کم اجرت مقرر کی تھی، لیکن اس بار وفاقی بجٹ کے بعد ہی حتمی فیصلہ ہوگا۔

وفاقی بجٹ اور صوبوں کی توقعات

حکومتِ پاکستان جلد ہی مالی سال 2025-26 کا وفاقی بجٹ پیش کرنے والی ہے، جس میں آئی ایم ایف کی شرائط کو مدنظر رکھا جائے گا۔ رپورٹس کے مطابق، آئی ایم ایف نے ٹیکس نیٹ کو بڑھانے، سبسڈیز میں مزید کمی، اور سرکاری اداروں کی اصلاحات پر زور دیا ہے۔ صوبوں کو امید ہے کہ وفاق این ایف سی ایوارڈ کے تحت ان کے حصے کے فنڈز بروقت جاری کرے گا، لیکن خیبرپختونخوا جیسے صوبوں کو شکایت ہے کہ گزشتہ چند ماہ سے ان کے ترقیاتی بجٹ میں تاخیر ہو رہی ہے۔

ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ اگر وفاقی حکومت نے صوبائی حصے کی ادائیگیوں میں تاخیر کی تو صوبائی ترقیاتی منصوبے شدید متاثر ہوں گے، جس سے عوامی سطح پر عدم اطمینان بڑھ سکتا ہے۔ دوسری طرف، آئی ایم ایف کی جانب سے ٹیکس بڑھانے کے ممکنہ اقدامات سے مہنگائی میں اضافے کا خدشہ بھی موجود ہے، جس کے بعد تمام صوبوں کو اپنے بجٹ میں عوامی ریلیف پیکجز پر توجہ دینی پڑے گی۔

حکومت کی جانب سے بجٹ سے قبل ہی مختلف صوبوں کے ساتھ مشاورت جاری ہے، لیکن اگر وفاق اور صوبوں کے درمیان تعاون نہ ہوا تو ملکی معیشت کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا وفاقی حکومت صوبوں کے مطالبات کو سنجیدگی سے لے گی یا پھر سیاسی تناؤ بڑھے گا۔