سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ سکھر-حیدرآباد موٹروے کے لیے مختص فنڈز سے ناخوش

سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ سکھر-حیدرآباد موٹروے کے لیے مختص فنڈز سے ناخوش

تفصیل:
سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے وفاقی حکومت کی جانب سے سکھر-حیدرآباد موٹروے کے لیے مختص کیے گئے فنڈز پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر وفاقی سطح پر فنڈز کی ایسے ہی کم فراہمی جاری رہی تو یہ منصوبہ اگلے 3 سالوں میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، جبکہ سندھ حکومت اور عوام چاہتے ہیں کہ سکھر سے حیدرآباد تک باقی ماندہ موٹروے کا حصہ جلد از جلد تعمیر کیا جائے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے وفاقی وزیر مواصلات کو تیز رفتار کام کا مشورہ دیا ہے اور فنڈز کے انتظام کے لیے کچھ موثر ماڈلز بھی تجویز کیے ہیں۔ انہیں امید ہے کہ وفاقی وزیر اس بات پر اتفاق کریں گے کہ کام مارچ-اپریل 2026 کی بجائے ستمبر-اکتوبر 2025 میں شروع ہو۔ تاہم، وزیراعلیٰ سندھ اس بات پر ناخوش ہیں کہ سکھر-حیدرآباد موٹروے منصوبے کے لیے صرف 30 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ اس منصوبے کو مکمل کرنے کے لیے 400 ارب روپے سے زائد کی ضرورت ہے۔

منصوبے کی رفتار سست ہونے کا خدشہ:
فنڈز کی کمی کی وجہ سے اس منصوبے کی رفتار مزید سست ہو سکتی ہے، جس کی وجہ سے سکھر سے حیدرآباد تک موٹروے کا یہ اہم ترین حصہ توقع سے کہیں زیادہ وقت لے گا۔ سندھ حکومت کا موقف ہے کہ اگر وفاقی حکومت نے فنڈز کی فراہمی میں تاخیر کی تو نہ صرف منصوبہ مزید لیٹ ہوگا بلکہ خطے کی ترقی اور معاشی سرگرمیوں کو بھی شدید نقصان پہنچے گا۔

عوامی اور معاشی اہمیت:
یہ موٹروے نہ صرف سندھ بلکہ پورے پاکستان کے لیے اہم ہے، جو کراچی سے ملک کے شمالی علاقوں کو جوڑنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ اس کی تکمیل سے نہ صرف سفر کا وقت کم ہوگا بلکہ تجارتی سرگرمیاں بھی فروغ پائیں گی۔ سندھ حکومت کا مطالبہ ہے کہ وفاقی حکومت اس منصوبے کو ترجیح دے اور فنڈز کی بروقت فراہمی کو یقینی بنائے تاکہ عوام کو جلد از جلد اس کا فائدہ مل سکے۔