“دو ٹکے” کا ڈرامہ تو ختم ہو گیا لیکن لوگوں کی زبان پر یہ “دو ٹکے” کا لفظ چھوڑ گیا ۔

‏”دو ٹکے” کا ڈرامہ تو ختم ہو گیا لیکن لوگوں کی زبان پر یہ “دو ٹکے” کا لفظ چھوڑ گیا ۔
لیکن “دو ٹکے” کا طعنہ دینے والوں کی اکثریت کو نہیں معلوم کہ” ٹکا ” ہوتا کیا ہے اور اس کی قیمت کتنی ہے؟

” ٹکا ” پرانے زمانے کی کرنسی تھی جس کی مالیت دو یپسے کے برابر ہے، یعنی ‏دو ٹکے دراصل 4 یپسے ہوتے ہیں ۔
اور کتنی حیرت کی بات ہے کہ ہم نے جب کسی کو امیری کا طعنہ مارنا ہو تو کہتے ہیں “4 یپسے آتے ہی دماغ خراب ہوگیا اسکا” ۔
“دو ٹکے” اور “چار یپسے” قیمت میں برابر لیکن بولنے میں بالکل متضاد، یعنی اصل قدر وقیمت سکہ رائج الوقت کی ہی ہوتی ہے
لیکن اسکا مطلب ‏یہ نہیں کہ “ٹکا” سب سے کم قدر ہے، اس سے کم قدر کرنسی بھی رائج رہ چکی ہیں، اور سب سے کم قیمت “پھوٹی کوڑی” کی ہے ۔

پھوٹی کوڑی مغل دور حکومت کی ایک کرنسی تھی جس کی قدر سب سے کم تھی
3 پھوٹی کوڑیوں سے ایک کوڑی بنتی تھی اور 10 کوڑیوں سے ایک دمڑی ۔

علاوہ ازیں اردو زبان کے ‏روزمرہ میں پھوٹی کوڑی کو محاورتاً محتاجی کی علامت کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے
مثلاً میرے پاس پھوڑی کوڑی تک نہیں بچی ۔
اب وہ دور نہیں رہا ۔ کوڑی (جسے عرف عام میں کوڈی بھی کہا جاتا ہے ) دراصل سمندر کے کیڑوں کے چھوٹے چھوٹے خول ہوتے ہیں ۔ ایک قسم کا چھوٹا صدف جو ‏کسی زمانے میں خرید و فروخت کے سلسلے میں استعمال کیا جاتا تھا ۔
یہ کوڑی دراصل Monetaria moneta نامی سمندری گھونگےکا شیل ہوتا ہے جو عام طور پر سمندری چٹانوں سے چپکا ہوتا ہے ۔ کوڑیاں آجکل بھی زیورات، آرائشی اشیاء بنانے کےلئے اور مختلف حکیمی نسخوں میں بھی استعمال کی جاتی ہیں ۔
‏بطور کرنسی ان کی قیمت یہ تھی :
3پھوٹی کوڑی = 1کوڑی
10 کوڑی = 1 دمڑی
2 دمڑى = 1.5پائى
1.5پائى = 1دهيلا
2 دهيلا = 1 پيسہ
6.25 یپسے = 1 آنہ
16 آنے = 1 روپیہ

اپنا تبصرہ بھیجیں