عید الاضحی و سنت ابراھیمی

کالم: ذوق سجدہ
عید الاضحی و سنت ابراھیمی
قمررضا محمد
razagee72@gmail.com

عید الاضحی کا عظیم دن مسلمانوں کیلئے بہت سارے سبق سموئے ہوئے ہیں جن کا احاطہ یقینا ناممکن ہے اور اہل علم حضرات بھی اپنی اپنی استطاعت کے مطابق اس مبارک و روشن دن کی کچھ نا کچھ کرنوں کا اظہار کرتے رہتے ہیں یوں اس عظمتوں والے دن کا ذکر ہر گزرتے لمحہ کے ساتھ جاری و ساری ہے۔
ایسا کہنا بھی یقینا غلط نہ ہو گا کہ عید الاضحی کی خصوصی عبادات و افعال کا مجموعہ جناب سیدنا ابراھیم خلیل اللہ علیہ الصلوة والسلام کی ادا کردہ عبادات و افعال کو بجا لانا ہے اور آپ علیہ الصلوة السلام کے طریقے اور یاد کو جیسے دین اسلام نے تصدیق فرمائی اسی طرح انجام دینا قرب الہی کے حصول کا ذریعہ ہے

قران پاک میں اللہ سبحانہ وتعالی سورة آل عمران میں فرماتے ہیں
مَا كَانَ اِبْرٰهِیْمُ یَهُوْدِیًّا وَّ لَا نَصْرَانِیًّا وَّ لٰـكِنْ كَانَ حَنِیْفًا مُّسْلِمًاؕ-وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ(67)
ابراہیم نہ یہودی تھے نہ نصرانی بلکہ ہر باطل سے جدا مسلمان تھے اور مشرکوں سے نہ تھے۔

اسی طرح سورة آلعمران میں ایک اور جگہ فرمایا:
قُلْ صَدَقَ اللّٰهُ۫-فَاتَّبِعُوْا مِلَّةَ اِبْرٰهِیْمَ حَنِیْفًاؕ-وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ(95)
تم فرماؤ اللہ سچا ہے پس ابراہیم کے دین پر چلو جو ہر باطل سے جدا تھے اور شرک والوں میں سے نہ تھے۔

یعنی سیدنا ابراھیم علیہ الصلوہ والسلام نہ ہی یہودی تھے، نہ عیسائی تھے اور نہ ہی مشرکین میں سے تھے، بلکہ آپ کا طریقہ تو قابل تقلید اور بارگاہ الہی کی قربت کی لئے مشعل راہ تھا اور یقینا آپ مسلمان تھے

چنانچہ باقاعدہ سورة النساء میں اللہ سبحانہ وتعالی نے بالکل کھول کھول کر واضح فرما دیا کہ:
وَ مَنْ اَحْسَنُ دِیْنًا مِّمَّنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ وَّ اتَّبَعَ مِلَّةَ اِبْرٰهِیْمَ حَنِیْفًاؕ-وَ اتَّخَذَ اللّٰهُ اِبْرٰهِیْمَ خَلِیْلًا(125)
اور اس سے بہتر کس کا دین جس نے اپنا منہ اللہ کے لیے جھکا دیا اور وہ نیکی والا ہے اور ابراہیم کے دین پر چلاجو ہر باطل سے جدا تھا اور اللہ نے ابراہیم کو اپنا گہرا دوست بنایا۔

اسی طرح آپ کی شان کچھ اس طرح بھی رب تعالی نے سورة ھود میں بیان فرمائی:
اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ لَحَلِیْمٌ اَوَّاهٌ مُّنِیْبٌ(75)
بیشک ابراہیم بڑے تحمل والے (بردبار) اور (اپنے رب) سے بہت ڈرنے والے اور رجوع لانے والے ہے۔

سو سیدنا ابراھیم علیہ الصلوہ والسلام کی حیات مبارکہ اور بارگاہ الہی میں سجدہ ریزی قران پاک میں کئ مقامات پر بیان ہوتے یہی درس دیتی ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالی ہی خالق و مالک برحق ہے اور اسی کی بندگی میں سب کامیابیوں اور عظمتوں کے راز پوشیدہ ہے اگر ہم اللہ کے ان پیاروں کے نقش قدم پر نہ چلیں گے تو گمراہ ہو جائیں گے، اگر ہم دین حنیف کو صحیح معنوں میں اپنی زندگیوں میں شامل نہ کر پائے تو پھر یہی بے راہ روی و قتل و غارت اور جھوٹ و غیبت جیسے باہمی فسادات ہی ہمیں نوچ نوچ کر ختم کر دیں گے، ہمیں بارگاہ الہی سے سیدنا ابراھیم علیہ الصلوة والسلام کے وسیلے سے جزبہ ایثار و قربانی کی بھیک مانگنا ہو گی، ہمیں ہی بارگاہ الہی میں سر تسلیم خم کرتے ہوئے قربانی و ایثار کے اصول اپناتے ہوئے اپنے مسلمان ہونے کا حق ادا کرنا ہو گا۔
ہاں مسلمان ہونا کمال نہیں، بیشک مسلمان ہونا بہت بڑی نعمت ہے لیکن مسلمان ہونے کا کمال یہ ہے کہ آپ مسلمان ہونے کا حق ادا کریں اگر گھر کا معاملہ ہے تو بیوی بچوں کو ان کے حقوق ادا کریں بہن بھائیوں کے معاملے میں ان کو خود پر فوقیت دیں، والدین کے معاملے میں سر جھکا کر احسان پر احسان ایسے کرتے چلے جائیں کہ دل میں کبھی یہ خیال نہ آئے کہ میں نے کتنا کچھ کر دیا۔ بلکہ یہ سوچ ہو کہ جو بھلائیاں میرے ساتھ ان کی طرف سے کر دی جا چکی ان کا کچھ ہلکا سا نعم البدل پہنچا سکوں۔ اگر امام ہے تو محبت و اقتداء بجا لانے والوں کو قدر و تعظیم سے دیکھے، اگر قاضی ہے تو مسلمانی کا حق ادا کرتے ہوئے انصاف قائم کرے، اگر خلیفہ وقت ہے تو مسلمانی کا حق ادا کرتے ہوئے ظلم و زیادتی، جھوٹ و طعنہ زنی، نفرت و شدت سے پرہیز کرے۔ ہمیں بارگاہ ابراھیم سے سیدی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وسیلے سے ایسے نایاب موتی حاصل ہوئے ہیں کہ دنیا کو یہ امت مسلمہ اپنی مقتدی بنا سکتی ہے۔ مگر ایمانداری، رواداری، قربانی و صداقت و امانت ضروری ہے۔

عیدالاضحی ایک مبارک دن ہے، اور سنت ابراھیمی علیہ السلام یقینا قربانی ادا کرنے کو کہا جاتا ہے لیکن میں سمجھتا ہوں یقینا جانور کی قربانی بھی سنت ہے اور امت پر حثیت کے حساب سے واجب ہے لیکن اس کے ساتھ نفس کی قربانی بھی اصل سنت ابراھیمی ہے جس کا اہتمام و نفاذ ہمیں اپنے آپ کے ساتھ ہر لمحہ کرتے رہنا چاہئے ہمیں اسی نفس پرستی سے نکل کر صداقت و رواداری و خوش اخلاقی کے اسلوب اپنانے ہو گے ہمیں سیدنا ابراھیم علیہ السلام کے نقش قدم سے نوع انسانی کی خدمت کی بھیک مانگنا ہو گی ہمیں سیدنا ابراھیم علیہ السلام کی سنت ادا کرتے ہوئے بے راہ روی و فحاشی و فتنہ و زیادتی و ظلم جیسے قبیح شیاطین کو کنکر مارنا ہو گے کہ معاشرہ قائم رہ سکے معاشرتی اقدار پروان چڑھ سکیں۔ جب زندگی کے اصول سیدنا ابراھیم علیہ الصلوة والسلام کی حیات مبارکہ سے لئے جائیں گے تو اقبال علیہ الرحمہ کا شہرہ آفاق شعر بھی آپ کی زندگیوں پر غالب آئے گا کہ:
سبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا