
ٹک ٹوکر ثنا یوسف سانحہ | موت سے پہلے اس کے گھر کے اندر کیا ہوا؟ |
ٹک ٹوکر ثنا یوسف سانحہ | موت سے پہلے اس کے گھر کے اندر کیا ہوا؟ | سماء ٹی وی
TikToker Sana Yousaf Tragedy | What Happened Inside Her Home Before Death? | SAMAA TV
==============================
قتل کے موقع پر گھر میں موجود ثناء یوسف کی پھوپھو نے کیا دیکھا؟ مقتولہ کے والد کا انکشاف
2 جون کی شام ملزم عمر حیات عرف ‘کاکا’ نامی ٹک ٹاکر نے دوستی کرنے کے جواب میں مسلسل ‘نا’ سننے کے بعد ٹک ٹاکر ثناء یوسف کو ان کی رہائش گاہ پر قتل کردیا تھا/
اسلام آباد میں اپنے ہی گھر میں قتل کی جانے والی ٹک ٹاکر ثناء یوسف کے والد نئے انکشافات کیے ہیں۔
قتل کی واردات اور ملزم کی گرفتاری
2 جون کی شام فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے 22 سالہ ملزم عمر حیات عرف ‘کاکا’ نامی ٹک ٹاکر نے دوستی کرنے کے جواب میں مسلسل ‘نا’ سننے کے بعد ٹک ٹاکر ثناء یوسف کو ان کی رہائش گاہ پر قتل کردیا تھا ۔
ثناء یوسف کے قتل کے بعد ان کی والدہ کی مدعیت میں قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا جس کے بعد اسلام آباد پولیس نے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
ثناءکے والد کے انکشافات
چترال میں موجود سید یوسف حسن نے برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی ) کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ قتل سے کچھ دیر قبل ثناء نے والدہ کو یہ کہہ کر مارکیٹ بھیجا تھا کہ عید آ رہی ہے کپڑے دھونے ہیں، آپ مارکیٹ جاکر سرف لادیں جس کے بعد قاتل نے اسی موقع سے فائدہ اٹھایا اور گھر کے اندر گھس کر ثناء کو گولیاں مار کر چلاگیا۔
سید یوسف حسن نے واقعے کی عینی شاہد اور ثناء کی پھوپھو جو قتل کے وقت گھر میں موجود تھیں ان کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ قاتل گھر میں کیسے داخل ہوا اس حوالے سے کچھ نہیں معلوم لیکن اس وقت ان کے گھر میں کوئی مرد موجود نہیں تھا ۔
یہ بھی پڑھیں
ٹک ٹاکر ثناء یوسف کو قتل کیوں کیا؟ گرفتار ملزم نے اعتراف جرم کرلیا
ٹک ٹاکر ثناء یوسف کے مبینہ قاتل کے فرار ہونےکی ویڈیو سامنے آگئی
ٹک ٹاکر ثناء یوسف کے قتل میں ملوث ملزم گرفتار
ثناء کے والد نے بتایا کہ ’ گھر میں گھستے ہی یہ لڑکا ثناء کے کمرے میں داخل ہوگیا، قتل کے وقت میری چھوٹی بہن بھی گھر پر موجود تھیں، فائرنگ کی آواز سے اسے محسوس ہوا جیسے کوئی غبارہ پھٹا ہو، اس آواز کو سنتے ہی بہن ثناء کے کمرے کی طرف بھاگی تو اس لڑکے کو ثناء کے کمرے سے نکلتے دیکھا جب میری بہن نے اسے روکنے کی کوشش کی تو اس لڑکے نے میری بہن پر بھی پستول تان لی لیکن جب پستول نہیں چلی تو لڑکا وہاں سے بھاگ نکلا ‘ ۔
سید یوسف حسن کے مطابق ’میری بہن بھی اس لڑکے کو ڈاکو سمجھ کر اس کے پیچھے بھاگی، اس وقت تک وہ نہیں جانتی تھی کہ ثناء کو گولیاں لگ چکی ہیں ،اس لڑکے کے بھاگ جانے کے بعد میری بہن کو گھر جاکر پتا چلاکہ ثنا کو گولیاں لگی ہیں جس کے بعد اسے اسپتال پہنچایا گیا‘۔
ثناء کے والد نے مزید بتایا کہ ’ میں اس دن گھر پر موجود نہیں تھا لیکن گھر کے نزدیک ہی ایک دوست کے پاس بیٹھا تھا جب دوست کو کال آئی اور اس نے مجھے بتایا کہ ایک ایمرجنسی ہو گئی ہے جس کے بعد میری اہلیہ نے بھی مجھے کال کرکے ساری صورتحال بتائی، میں بھی اسپتال پہنچا تو پتا چلا کہ ثناء انتقال کرگئی ہے۔























