سر سید یونیورسٹی میں ماحولیات کے عالمی دن پر شجر کاری مہم، چانسلر محمد اکبر علی خان کی قیادت میں سبز مستقبل کی جانب قدم


پریس ریلیز

سر سید یونیورسٹی میں ماحولیات کے عالمی دن پر شجر کاری مہم، چانسلر محمد اکبر علی خان کی قیادت میں سبز مستقبل کی جانب قدم

کراچی، 4 جون 2025 – سر سید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں ماحولیات کے عالمی دن کے موقع پر ماحولیاتی تحفظ کے فروغ کے لئے شجر کاری مہم کا انعقاد، مہم میں چانسلر محمد اکبر علی خان، رجسٹرار سید سرفراز علی، چیئرمین کمپیوٹر سائنس کاشف شیخ اور دیگرفیکلٹی ممبران، انتظامیہ اور طلبہ نے بھرپور شرکت کی۔

اس اہم دن کے موقع پر چانسلر محمد اکبر علی خان نے سرسبز ماحول کی افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ شجر کاری نہ صرف ہماری زمین کی خوبصورتی میں اضافہ کرتی ہے بلکہ ماحول کو بہتر بنا کر آنے والی نسلوں کے لیے صحت مند زندگی کی ضمانت بھی فراہم کرتی ہے۔

یونیورسٹی کیمپس میں مختلف اقسام کے نئے درخت اور پودے لگائے گئے، جن کا مقصد فضائی آلودگی کا خاتمہ، ماحولیاتی توازن کی بحالی، اور سبز ماحول کی ترویج تھا۔شرکاء نے نئے پودے لگانے کے بعد دعا کی کہ یہ کاوش ماحول کی بہتری، فضائی آلودگی میں کمی، اور فطرت کے ساتھ ہم آہنگی میں معاون ثابت ہو۔

یہ مہم سر سید یونیورسٹی کے اس عزم کو مزید مضبوط کرتی ہے کہ وہ مستقبل میں بھی ماحول کی بہتری کےلئے سرگرمیاں منعقد کرتی رہے گی تاکہ معاشرے میں ماحولیاتی شعور اجاگر ہو اور سر سبز پاکستان کے خواب کو حقیقت میں بدلا جا سکے

افسر تعلقات عامہ
======= صبانور
==============================

سر سید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈٹیکنالوجی کی ذہنی صحت کے حوالے سے چار روزہ آگاہی مہم – چانسلر اکبر علی خان نے ذہنی صحت کو انسانی فلاح و بہبود ، ذاتی و سماجی ترقی اور پیشہ ورانہ کامیابی کا بنیادی ستون قرار دیا

کراچی، 4 جون، 2025 – سرسید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (SSUET) نے چار روزہ ذہنی صحت اور ویلبیئنگ مہم کا انعقاد کیا، جس کا مقصد طلبہ، فیکلٹی، اور اسٹاف میں ذہنی، جسمانی، اور جذباتی صحت کو فروغ دینا تھا۔ یہ مہم شرکاء کو نفسیاتی چیلنجز سے نمٹنے، آگاہی حاصل کرنے، مشاورت، اور مزاحمتی صلاحیت بڑھانے کے مواقع فراہم کرنے کے لیے ترتیب دی گئی۔

ذاتی اور پیشہ ورانہ ترقی کے لیے دماغی صحت اور فلاح و بہبود” کے عنوان سے یہ اقدام یورپی یونین کے مالی تعاون سے چلنے والے BIOMED5.0 ٹاسک کے تحت منعقد ہوا، جس کا مقصد خطے میں اعلیٰ تعلیمی اداروں میں فلاح و بہبود کو فروغ دینا ہے۔ مہم کے دوران ماہرینِ نفسیات نے تناؤ، تھکن، اور جذباتی استحکام جیسے موضوعات پر روشنی ڈالی، اور شرکاء کو ذہنی سکون حاصل کرنے کے مؤثر طریقے سکھائے۔

اس موقع پر چانسلر سرسید یونیورسٹی، محمد اکبر علی خان نے ذہنی صحت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ “ذہنی صحت انسانی فلاح و بہبود اور تعلیمی کامیابی کا بنیادی ستون ہے۔ سرسید یونیورسٹی ہمیشہ مثبت تعلیمی ماحول کے فروغ کے لیے کوشاں رہی ہے، جہاں نہ صرف تعلیمی ترقی بلکہ ذہنی صحت کے مسائل پر بھی توجہ دی جاتی ہے۔”

رجسٹرار سرسید یونیورسٹی، سید سرفراز علی نے اس مہم کے انعقاد کو سراہتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں میں ذہنی صحت سے متعلق آگاہی پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے شرکاء کو ذہنی، جذباتی، اور سماجی توازن برقرار رکھنے کی ترغیب بھی دی۔

اس مہم میں ممتاز ماہرینِ نفسیات، عائشہ ثاقب، سعدیہ شمیم، اور ڈاکٹر ثناء سعدیہ نے سیمینار کے ذریعے پیشہ ورانہ ذہنی صحت کے چیلنجز پر گفتگو کی، جبکہ آئی پی پی، بحریہ یونیورسٹی کی جانب سے ذہنی صحت کے حوالے سے لگائے گئے کیمپ میں شرکاء کو ذاتی مشاورت فراہم کی گئی۔

یہ مہم سر سید یونیورسٹی کےشعبہ نفسیات کی ڈاکٹر سُنبُل مجیب کی قیادت میں بائیومیڈیکل انجینئرنگ کی چیئرپرسن ڈاکٹر سدرہ عابد کے ساتھ اسٹریٹجک تعاون سے منعقد کی گئی جس کا مقصد ذہنی صحت سے متعلق آگاہی کو یونیورسٹی کی روزمرہ زندگی میں شامل کرتے ہوئے شعبہ تعلیم میں مثبت اور صحت مند ذہنی ماحول کو فروغ دینا ہے۔

افسر تعلقات عامہ
صبانور
============================


سرسید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کا گورنر ہاؤس سندھ میں خصوصی کانووکیشن، عراقی سفیر کو ڈی لیٹ کی اعزازی ڈگری تفویض کی گئی

کراچی، 2 جون، 2025 — سرسید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے زیرِ اہتمام گورنر ہاؤس سندھ میں ایک خصوصی کانووکیشن منعقد ہوا، جس میں جمہوریہ عراق کے سفیر، حامد عباس علی المشاری کو ان کی سفارتی خدمات اور علاقائی امن کے فروغ اور پاکستان کے ساتھ دو طرفہ تعاون کے اعتراف میں ڈی لیٹ (Doctor of Letters) کی اعزازی ڈگری تفویض کی گئی۔

گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ عالمی چیلنجز میں ترکیہ، آذربائجان اور دیگر دوست ممالک کی جانب سے پاکستان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور حمایت قابلِ ستائش ہے۔ انہوں نے پاکستان اور عراق کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات کو خوش آئند قرار دیا اور سفیر حامد عباس علی المشاری کی کوششوں کو سراہا

اس موقع پر چانسلر سرسید یونیورسٹی، اکبر علی خان کاکہنا تھا کہ، “سرسید یونیورسٹی ہمیشہ علم اور سفارتی تعلقات کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرتی رہی ہے۔ حامد عباس علی کی کوششوں نے دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ اور تعلیمی روابط کو مزید مستحکم کیا ہے۔ یہ اعزازی ڈگری ان کے غیر معمولی سفارتی کردار کا ایک اعتراف ہے، اور ہم امید کرتے ہیں کہ مستقبل میں دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔”۔

اس پروقار تقریب میں متحدہ عرب امارات کے قونصل جنرل بخیت عتیق الرومیتی، ترکیہ کے جمال سانگو، اور عمان کے قونصل جنرل سمعی عبداللہ الخنجری نے خصوصی شرکت کی، جس نے بین الاقوامی سفارتی تعلقات کی مضبوطی اور باہمی تعاون کی اہمیت کو مزید اجاگر کیا.

گورنر ہاوس میں منعقدہ اس تقریب میں سلطنت عمان کے قونصل جنرل سمعی عبداللہ الخنجری کی اہلیہ مریم علی محمد، معروف صنعتکار شہباز ظہیر اور فرخ مہتاب کو بھی مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات پر ڈی لیٹ کی اعزازی ڈگریوں سے نوازا گیا

تقریب میں شریک معززین نے اس کانووکیشن کو پاکستان اور عراق کے درمیان مضبوط سفارتی تعلقات کا ایک خوبصورت مظہر قرار دیا۔ اس تقریب میں وائس چانسلر سرسید یونیورسٹی افضل حق، رجسٹرار سید سرفراز علی، اور دیگر اہم سماجی شخصیات نے بھی شرکت کی۔

تقریب کے اختتام پر مہمانوں کو اعزازی شیلڈز پیش کی گئیں، جبکہ سرسید یونیورسٹی کے منتظمین نے اس کامیاب تقریب کے انعقاد پر اظہارِ تشکر کیا