
ملیر جیل توڑنے سے متعلق مقدمے کی ابتدائی رپورٹ پولیس نے انسداد دہشتگردی کی منتظم عدالت میں جمع کرادی۔ کراچی سینٹرل جیل انسداد دہشتگردی کمپلیکس میں منتظم عدالت کے روبرو شاہ لطیف پولیس نے توڑنے کے مقدمے کی ابتدائی رپورٹ جمع کرادی۔ رپورٹ میں 8 قیدیوں کے زخمی ہونے کا زکر کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کسی ملزم کی گرفتاری کا ذکر نہیں کیا گیا۔
کراچی، قیدیوں کے فرار کی ابتدائی رپورٹ ATC میں جمع
کراچی، قیدیوں کے فرار کی ابتدائی رپورٹ ATC میں جمع
کراچی میں ملیر جیل سے قیدیوں کے فرار کے مقدمے کی ابتدائی رپورٹ انسداد دہشت گردی کی منتظم کورٹ میں جمع کرادی گئی۔
شاہ لطیف پولیس نے رپورٹ عدالت میں جمع کرائی، رپورٹ میں بتایا گیا ہے جیل توڑنے میں ملوث قیدیوں کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
ملیر جیل سے 216 قیدی فرار ہوئے، 88 قیدیوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے، ابتدائی رپورٹ میں 8 قیدیوں کے زخمی ہونے کا ذکر ہے۔
رپورٹ میں کسی ملزم کی گرفتاری کا ذکر نہیں ہے۔
=================
کراچی میں مسلسل دوسری رات 3 پولیس مقابلے، 5 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار
کراچی پولیس مقابلے
کراچی: شہر قائد میں مسلسل دوسری رات 3 پولیس مقابلے ہوئے ہیں، جن میں 5 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار ہوئے۔
تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے اجمیر نگری میں پولیس اور ڈاکوؤں میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں 2 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار ہو گئے، جن سے اسلحہ اور موٹر سائیکل برآمد ہوئی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان زرینہ کالونی قبرستان کے قریب لوٹ مار کر رہے تھے، گرفتار ملزمان کی شناخت وسیم اور سراج کے نام سے ہوئی ہے۔
کراچی کے علاقے بلال کالونی میں بھی مبینہ پولیس مقابلے میں 2 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار ہوئے ہیں، جن سے 2 پستول، چھینے ہوئے موبائل فون اور موٹر سائیکل برآمد ہوئی ہے، ایس ایس پی سینٹرل کا کہنا ہے کہ ملزمان کی شناخت محسن خان اور ساجد کے نام سے ہوئی ہے۔
رات گئے کراچی میں تین پولیس مقابلوں میں 7 ملزمان گرفتار
ادھر نارتھ کراچی سیکٹر 2 میں بھی ایک مبینہ پولیس مقابلہ ہوا ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ دو طرفہ فائرنگ میں ایک ملزم زخمی حالت میں گرفتار ہوا ہے، زخمی ملزم کی شناخت محمد حسن کے نام سے ہوئی ہے۔
اس سے قبل والی رات کو بھی کراچی میں 3 پولیس مقابلوں میں 7 ملزمان گرفتار کیے گئے تھے، نادرن بائی پاس پر سرجانی پولیس اور 8 رکنی ڈکیت گینگ میں مقابلے کے بعد 3 ملزمان زخمی حالت میں گرفتار ہوئے تھے، ریڑھی گوٹھ کے قریب سکھن پولیس اور ملزمان میں مقابلے میں ایک ملزم زخمی حالت میں گرفتار ہوا تھا، جب کہ ناتھا خان گوٹھ میں اے وی ایل سی پولیس اور ڈاکوؤں میں فائرنگ کے تبادلے میں 2 زخمیوں سمیت 3 ڈاکو گرفتار ہوئے تھے۔
====================
ملیر جیل سے قیدیوں کے فرار کا معاملہ، محکمہ جیل کے انتظامی قوانین تبدیل
کراچی: سندھ حکومت نے ملیر جیل میں پیش آنے والے واقعے کے بعد محکمہ جیل میں اہم انتظامی تبدیلیاں کردیں۔
محکمہ جیل میں انتظامی عہدوں پر تعیناتیوں کیلئے قوانین میں تبدیلیاں کی گئی ہیں جس سلسلے میں قائم مقام گورنر سندھ اویس قادر شاہ نے آرڈیننس کے اجرا کی منظوری دے دی۔
آرڈیننس کے ذریعے انتظامی اور رولز میں تبدیلیاں کی گئی ہیں جس کے تحت انسپکٹر جنرل جیل سمیت ڈی آئی جی اور جیل سپرنٹنڈنٹس کے عہدوں پر سول سروس کے افسران کی تعیناتیاں کی جا سکیں گی۔
واضح رہے کہ چند روز قبل کراچی کے علاقے ملیر میں آنے والے زلزلے کے باعث متعدد قیدی جیل سے فرار ہوگئے تھے۔
پولیس کے مطابق جیل سے مجموعی طور پر 216 قیدی فرار ہوئے جن میں سے 94 کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
====================
ملیر جیل کے قیدی فرار ہوتے ہوئےکینٹین سے لاکھوں روپےکا سامان بھی لوٹ کر لےگئے
کراچی: ڈسٹرکٹ جیل ملیر کے قیدی فرار ہوتے ہوئےکینٹین سے 20 لاکھ روپے سے زائد کا سامان لوٹ کر لےگئے۔
ڈسٹرکٹ جیل ملیر کے سی سی ٹی وی کیمرے خراب اور ناکافی ہونےکا بھی انکشاف ہوا ہے۔
ذرائع کے مطابق قیدیوں نے فرار کے وقت جیل کی کینٹین سے 20 لاکھ روپے سے زائد کا سامان لوٹا، جیل ڈسپنسری میں رکھی ادویات اور دیگر سامان بھی لوٹ کرلےگئے۔
ذرائع کا کہنا ہےکہ جیل حکام نےگزشتہ سال دسمبر میں سی سی ٹی وی کیمروں کے ناکافی اور خراب ہونے پر خط بھی لکھا تھا لیکن محکمہ داخلہ سے فنڈ سے متعلق کوئی مناسب جواب نہیں آیا۔
ملیر جیل سے قیدیوں کا فرار، آئی جی جیل خانہ جات کو فوری طور عہدے سے ہٹا دیا گیا
ذرائع کے مطابق محکمہ جیل خانہ جات کو نفری کی کمی کا بھی سامنا ہے، منظور شدہ اسامیوں کی تعداد ساڑھے 6 ہزار ہے لیکن نفری 5 ہزار بھی نہیں ہے۔
خیال رہے کہ شہر میں مسلسل زلزلے کے جھٹکوں نے شہری آبادیوں کے ساتھ ساتھ، ملیر جیل کو بھی متاثر کیا، گزشتہ رات تقریباً ایک بجے ملیر اور اطراف کے علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، قیدیوں کی حفاظت کے لیے جیل انتظامیہ نے 2 سرکل کے قیدیوں کو بیرکس سے باہر نکال دیا۔
جیل حکام کے مطابق اسی دوران قیدیوں نے ہنگامہ آرائی اور پولیس اہلکاروں سے ہاتھا پائی بھی کی اورجیل سے فرار ہونے لگے، قیدیوں کے ہجوم کو دیکھ کر جیل پولیس اور ایف سی اہلکاروں نے ہوائی فائرنگ کردی۔۔
پولیس حکام کے مطابق ملیرجیل سے 213 قیدی فرار ہوئے جن میں سے 80 سے زائدکو دوبارہ گرفتار کرلیا گیا ہے
=====================
ملیر جیل سے قیدیوں کا فرار، آئی جی جیل خانہ جات کو فوری طور عہدے سے ہٹا دیا گیا
کراچی کی ملیر جیل سے 200 سے زائد قیدیوں کے فرار پر انسپکٹر جنرل(آئی جی) جیل خانہ جات قاضی نظیر کو فوری طور عہدے سے ہٹا دیا گیا۔
وزیراعلیٰ ہاؤس کراچی میں ملیر جیل سے قیدیوں کے فرار کے معاملے پر اجلاس ہوا جس میں اہم فیصلے کیے گئے۔
ذرائع کے مطابق آئی جی جیل قاضی نظیر کو فوری طور ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا اور وزیراعلیٰ سندھ نے چیف سیکرٹری کو آئی جی جیل کوہٹانے کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کی ہدایت کی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈی آئی جی جیل اور سپرنٹنڈنٹ ملیر جیل کو بھی عہدے سے معطل کردیا۔
انہوں نے وارننگ دی کہ فرار ہونے والے قیدی سر ینڈر کردیں ورنہ جیل توڑنے کا سنگین مقدمہ بنے گا ۔ اس کے علاوہ وزیر داخلہ سندھ ضیا لنجار نے کہاکہ واقعہ ملیر جیل افسران اور انتظامیہ کی نا اہلی ہے، 24گھنٹوں کا وقت دیا ہے، فرارقیدی واپس آئے تو سزا میں رعایت دیں گے، آج نہیں تو کل تمام فرار قیدیوں کو گرفتار کیا جائے گا۔
خیال رہے کہ شہر میں مسلسل زلزلے کے جھٹکوں نے شہری آبادیوں کے ساتھ ساتھ، ملیر جیل کو بھی متاثر کیا، گزشتہ رات تقریباً ایک بجے ملیر اور اطراف کے علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، قیدیوں کی حفاظت کیلئے جیل انتظامیہ نے 2 سرکل کے قیدیوں کو بیرکس سے باہر نکال دیا۔
جیل حکام کے مطابق اسی دوران قیدیوں نے ہنگامہ آرائی اور پولیس اہلکاروں سے ہاتھا پائی بھی کی اورجیل سے فرار ہونے لگے، قیدیوں کے ہجوم کو دیکھ کر جیل پولیس اور ایف سی اہلکاروں نے ہوائی فائرنگ کردی۔۔
آئی جی سندھ غلام نبی میمن کے مطابق ملیرجیل سے 213 قیدی فرار ہوئے جن میں سے 70 سے زائد کو دوبارہ گرفتار کرلیا گیا۔























