کراچی میں زلزلے کے غیر سائنسی پیشنگوئی پر میڈیا کی اشاعت نے عوام میں خوف و ہراس پھیلا دیا


کراچی میں زلزلے کے غیر سائنسی پیشنگوئی پر میڈیا کی اشاعت نے عوام میں خوف و ہراس پھیلا دیا

کراچی: بدھ کو ایک بڑے میڈیا گروپ کی جانب سے شائع ہونے والی ایک خبر نے شہر میں شدید خوف و ہراس پیدا کر دیا۔ خبر میں بتایا گیا تھا کہ کراچی میں جمعرات اور ہفتہ کو بڑے زلزلے کے امکانات ہیں۔ بعد میں یہ انکشاف ہوا کہ یہ پیشنگوئی کرنے والا شخص ایک این جی او کا سربراہ ہے جس نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران دعویٰ کیا تھا کہ کراچی کو جلد بڑے زلزلے کا سامنا ہوگا۔ میڈیا ہاؤس نے اس غیر مصدقہ خبر کو فرنٹ پیج پر نمایاں طور پر شائع کیا، جس کے بعد ملک کے سب سے بڑے شہر میں رہائشیوں میں دہشت پھیل گئی۔

صحافیوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے اس پیشنگوئی کو نمایاں کرنے پر حیرت کا اظہار کیا اور کہا کہ دنیا کا کوئی بھی معیاری میڈیا ایسے بے بنیاد اور خوف زدہ کرنے والی خبریں شائع نہیں کرتا۔ عوامی رائے سازوں نے اس خبر کو میڈیا کے اخلاقی اصولوں کے خلاف قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی۔

کراچی میں زلزلوں کی صورتحال:
میٹرولوجسٹ کے مطابق، کراچی میں یکم جون سے اب تک 26 زلزلے ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔ ابتدائی زلزلوں کی شدت 3 ریکٹر اسکیل سے زیادہ اور گہرائی 10 سے 12 کلومیٹر تھی، جبکہ گزشتہ روز آنے والے زلزلوں کی شدت 2 ریکٹر اسکیل تک رہی اور گہرائی 30 سے 80 کلومیٹر تک ہو گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ زلزلے خطرناک نہیں ہیں، بلکہ درحقیقت یہ بڑے زلزلے کے خطرے کو کم کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ جن عمارتوں کی دیواروں میں دراڑیں پڑی ہیں، وہ ناقص تعمیر کا نتیجہ ہیں، زلزلے کی وجہ سے نہیں۔

ماہرین نے عوام کو پرسکون رہنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ غیر مصدقہ خبروں پر دھیان دینے کے بجائے سرکاری اداروں کی جانب سے جاری کردہ معلومات پر اعتماد کریں۔
کراچی میں یکم جون سے اب تک زلزلوں کی تعداد 26 ہوگئی
زلزلوں کی شدت شروع میں 3 سے زیادہ اور گہرائی 10 سے 12 کلو میٹر تھی
کل کے زلزلوں کی شدت 2 تک ہوگئی گہرائی 30 سے 80 کلو میٹر ہوگئی۔ میٹرولوجسٹ
کوئی زلزلہ خطرناک نہیں بلکہ بڑے زلزلے کا خطرہ کم کررہا ہے
جن دیواروں میں دراڑیں پڑیں ان کی تعمیر ناقص تھی