
سپریم کورٹ نے سابق ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام قادر تھیبو کی ترقی نا دینے کے خلاف اپیل پر سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا۔ سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں سابق ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام قادر تھیبو کی ترقی نا دینے کے خلاف اپیل کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے ہائی پاور سلیکشن بورڈ کی جانب سے ریٹائرڈ افسر کے خلاف غیر ضروری ریمارکس پر اظہار برہمی کیا۔ جسٹس عقیل احمد عباسی نے ریمارکس دیئے کہ یہ کیا طریقہ ہے کہ کسی کے بھی سروس ریکارڈ میں کچھ بھی لکھ دیا جائے۔ جس دن موڈ اچھا نہیں ہے ڈی پی سی کی میٹنگ میں کچھ بھی لکھ کر ریکارڈ خراب کردیا۔ کسی کی عزت نفس اور ساکھ کو مجروح کیا گیا۔ درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ الیکشن بورڈ نے غلام قادر تھیبو کو گریڈ 21 سے 22 میں ترقی کے لئے میٹنگ طلب کی تھی۔ درخواستگزار کی فائل پر بری ساکھ کو حامل قرار دیکر ترقی نہیں دی گئی۔ درخواست گزار کیخلاف کوئی شواہد پیش نہیں کئے گئے۔ عدالت نے سرکاری وکیل سے درخواست گزار سے متعلق استفسار کیا۔ سرکاری وکیل نے موقف دیا کہ میرے پاس کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔ عدالت نے سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے ہائی پاور سلیکشن بورڈ کو 2 ماہ میں درخواستگزار کی سروس ریکارڈ کا دوبارہ جائزہ لینے کی ہدایت کردی۔























