تجویز کئے گئے پانچ ناموں میں سے کسی ایک کو آئی جی سندھ مقرر کیا جائے : وزیراعلیٰ سندھ کا وزیراعظم عمران خان کو تیسرا خط

کراچی: وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے آئی جی پولیس سندھ کی تبدیلی کے لئے وزیراعظم عمران خان کوتیسرا خط بھیج دیا ہے کہتے ہیں آئی جی کلیم امام نے کھلے عام سندھ حکومت کا مزاق اُڑانا شروع کردیا ہے تجویزکئے گئے پانچ ناموں میں سے کسی ایک کوآئی جی سندھ مقررکیاجائے وزیراعلیٰ سندھ کے بھیجے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ وفاقی کابینہ کا آئی جی سےمتعلق فیصلہ 1993کےمعاہدے کی خلاف ورزی ہے شکایتوں بھرے خط میں وزیراعلی نےلکھاہے کہ موجودہ آئی جی پولیس کلیم امام نے کھلے عام سندھ حکومت کا مزاق اُڑانا شروع کردیا ہےان کا رویہ سندھ میں نفرتوں کا سبب بن رہاہے جبکہ وہ غیرسنجیدہ اور غیرمہذب روئیے کےزریعے صوبائی حکومت کی توہین کے مرتکب بھی ہورہے ہیں خط میں کہا ہے کہ آپ ( وزیراعظم) کےمشورےپر ہی آئی جی پولیس کی تبدیلی کا عمل شروع کیاتھا لیکن یہ معاملہ وفاقی کابینہ میں بھیج کر مشاورت کا مینڈیٹ گورنر سندھ کو دیا گیا ہے خط میں کہا گیاہے کہ آئی جی کو ہٹانے کی ٹھوس وجوہات کےباوجود ایک ماہ سےمعاملہ التواء کا شکار ہے خط کے مطابق سندھ میں آئی جی پولیس کی تبدیلی کا معاملہ وفاقی کابینہ کو بھیجا گیا جبکہ وفاقی کابینہ کا آئی جی سےمتعلق فیصلہ 1993کےمعاہدے کی خلاف ورزی ہے گورنر سندھ کو آئی جی کی تقرری کےمشاورتی عمل میں شامل کرناغلط ہے قواعد کی رو سےگورنر کا آئی جی پولیس کی تبدیلی کےلیےکوئی مشاورتی کردار نہیں ہے وزیراعلی سندھ نے اپنے خط میں مزیر کہا ہے کہ گورنر کا وفاقی و صوبائی حکومت سےکوئی تعلق نہیں ہے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں آئی جی فوری تبدیل کیےگئے لیکن سندھ کا معاملہ التواء کا شکار ہے ایسے رویوں سے سندھ کے عوام میں مایوسی پھیل رہی ہے مراد علی شاہ نے اپنے خط میں کہا ہے کہ اسی پنجاب اور خیبرپختون خوا کی طرح سندھ حکومت کے تجویزکئے گئے پانچوں ناموں میں سے کسی ایک کو آئی جی سندھ مقررکیا جائے واضح رہے کہ سندھ حکومت کی جانب سے مشتاق مہر،غلام قادرتھیبو،ثنا اللہ عباسی،انعام غنی اورڈاکٹرکامران فضل کے نام وفاق کو بھیجے گئے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں