افسوس کی بات ہے فرمائشی پروگراموں کی تکمیل کے لئے جھوٹی خبریں پھیلائی جارہی ہیں : حلیم عادل شیخ

تحریک انصاف مرکزی نائب صدر و سندھ اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر حلیم عادل شیخ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ افسوس کی بات ہے فرمائشی پروگراموں کی تکمیل کے لئے جھوٹی خبریں پھیلائی جارہی ہیں۔ آج کی اخبارات میں لگا ہوا ہے کہ وزیر اعلی کی آئی جی سندھ کے متعلق اسلام آباد میں اہم ملاقاتیں ہوئی ہیں۔یہ بھی لکھا گیا ہے کہ جہانگیر ترین سے بھی خصوصی ملاقات ہوئی ہے۔ اور جہانگیر ترین نے معاملات کے حل کی خاطری کرائی ہے۔ جبکہ آئی جی سندھ کے تبادلے کا مسئلا حل ہوچکا ہے وفاقی کیبینٹ کا فیصلہ آچکا ہے کہ اب وزیر اعلیٰ کو گورنر سندھ سے مشاورت کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پارٹی آئین اور قانون کے مطابق کام کرتی ہے کسی بھی خفیہ ملاقاتوں پر یقین نہیں رکھتی۔ اسد عمر سے سندھ کے دیگر معاملات پر پبلک ملاقات ہوئی تھی۔ اگر سندھ حکومت چاہتی ہے کہ بیک ڈور سے آئی جی کو تبدیل کیا جائے گا تو ایسا نہیں ہوسکتا۔ وفاقی کیبینٹ نے اپنا فیصلا دیا ہے سندھ حکومت فیس سیونگ کے لئے ایسی خبریں لگوا رہی ہے۔ میں سمجھ رہا تھا کہ وزیر اعلی ا نے آج کے اخبارات پڑھے ہونگے اور کوئی تردید آئے گی۔ کیوں کہ جہانگیر ترین تو ملک سے باہر تھے آج صبح ملک پہنچے ہیں پھر کس طرح ملاقاتیں کر لی گئیں۔ ہم سب ترین صاحب ، گورنر صاحب ہمارے وزیر اعظم سمیت تمام کیبینٹ کے لوگ آئین اور قانون ہے مطابق چلتے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ اس طرح کی جھوٹی خبروں سے پرہیز کیا جائے گا اور رولز پر عمل کروایا جائےگا۔ دوری جانب حلیم عادل شیخ نے صوبائی وزیر سعید غنی کے بیان پر رد عمل دیتے ہوئے کہا سعید غنی نے صحیح فرمایا گورنر سندھ چپڑاسی بھی تبدیل نہیں کرا سکتا۔ چپڑاسی لگانا ہٹانا چپڑاسی کی نوکری دینا تو آپ لوگوں کا کام ہے۔ گورنر ہائوس میں جو پئٹرول کے پئسے دیئے جاتے ہیں وہ عوام کے پئسے ہیں۔ وفاقی سے این ایف سی ایوارڈ کے مد میں بجیٹ آتا ہے گورنر ہائوس کے لئے پئسے کسی جعلی اکائونٹ یا اومنی اکائونٹ یا سعید غنی کےجیب سے نہیں آتے۔ 12 سو ارب سندھ کا بجیٹ ہے سارا پئسا عوام کا ہے۔سعید غنی جب آپ کی جیب سے گورنر ہائوس کو پئسے جائیں تو بیشک بند کر دینجئے گا۔ مجھے پتہ ہے 18 ترمین کے آئین کے بعد بھی گورنر آپکا بوریا بستر گول کر سکتے ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 234۔235 کے تحت تمام اختیارات گورنر کے پاس ہیں۔ ہم ایسا نہیں کر رہے نہ ایسا کر نا چاہتے ہیں۔ اگر آپ کی سندھ حکومت غیر آئینی طور پر حکومت چلائے گی تو گورنر کے پاس سارے اختیارات موجود ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں