سب سے بدتمیز انسان

سب سے بدتمیز انسان

بہت سے ایم این اے اور ایم پی اے ان سے اور ان کے رویے سے ناخوش ہیں۔

یہ شکایات عام ہیں کہ اس شخص کے پاس عوامی نمائندوں سے بات کرنے اور برتاؤ کرنے کا سلیقہ نہیں ہے۔

یہ آدمی بہت مغرور اور خود کی تعریف کرنے والا ہے۔
======================
سندھ، توانائی کمیٹی کا اجلاس، لوڈشیڈنگ پر ارکان پھٹ پڑے، مونس علوی کے غیرسنجیدہ رویہ پر اظہار برہمی
03 جون ، 2025FacebookTwitterWhatsapp
کراچی ( اسٹاف رپورٹر )سندھ اسمبلی کی کمیٹی برائے توانائی کا اجلاس،لوڈ شیڈنگ پر ارکان پھٹ پڑے،مونس علوی کے غیر سنجیدہ رویہ پر اظہار برہمی ، کے الیکٹرک سمیت بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی پر ارکان غصہ، کے الیکٹرک سی ای او نے گذشتہ اجلاس میں عدم شرکت پر معذرت،کمیٹی اراکین نے مونس علوی سے سوال کیا کہ کن قوانین کےتحت آپ لوڈ شیڈنگ کرتے ہیں ،قانون بتائیں،سی ای او کےالیکٹرک نے بتایا کہ ہم لائن لاسزکی وجہ سے لوڈ شیڈنگ کرتے ہیں۔جس پر کمیٹی اراکین نے کہا کہ لائن لاسزکوچھوڑیں قانون بتائیں تو ادارے کےسربراہ جواب دینے سے قاصر رہے، مونس علوی نے بجلی چوری روکنے میں اپنی ناکامی تسلیم کرلی،سندھ اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے توانائی نے صوبہ میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو ہدایت کی کہ وہ آئندہ 10روز میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا شیڈول مرتب کریں،عوام کو ریلیف دیں،بجلی کی چوری روکیں،غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ رات کو بند کریں ۔اگر ان احکامات پر عمل نہیں ہوا تو تمام بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے خلاف قانون کےمطابق کارروائی ہوگی،اجلاس میںسی ای او کے الیکٹرک مونس علوی کے غیر سنجیدہ رویہ پر اراکین نے برہمی کا اظہار کیا ،کراچی سمیت صوبہ بھر میں طویل لوڈشیڈنگ پر ارکان پھٹ پڑے، ۔خصوصی کمیٹی کا اجلاس سندھ اسمبلی بلڈنگ میں ہوا۔جس کی صدارت پیپلز پارٹی کے رکن فیاض بٹ نے کی۔کمیٹی کے اجلاس میں اسپیکر سندھ اسمبلی اویس قادر شاہ خصوصی طور پر شریک ہوئے ۔اجلاس میں پیپلز پارٹی کی جانب سے غلام قادر چانڈیو،آصف موسیٰ ،سعدیہ جاوید ،ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما و اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی ،معاذ محبوب ،عامرصدیقی ،شارق جمال ،بلقیس مختار اورجماعت اسلامی کے محمد فاروق اور دیگر شریک ہوئے ۔


سندھ اسمبلی خصوصی کمیٹی اجلاس

اراکین اسمبلی و سی ای او کے الیکٹرک مونس علوی کی شرکت

ملک کیا بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے حکم پر چلتا ہے؟ غلام قادرچانڈیو

غلط بیانی نہیں کریں ، یہ بتائیں کس قانون کے تحت لوڈ شیڈنگ کر رہے ہیں، غلام قادر چانڈیو

یہ لوڈ شیڈنگ کرنے کا کونسا جواز ہے ؟غلام قادر چانڈیو

بجلی کمپنیوں کو عوام سے غرض نہیں منافع کی فکر ہے، افتخار عالم ایم کیوایم

بجلی بل بھرنے اور نہ بھرنے والوں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکا جا رہا ہے، افتخار عالم

بجلی کا بل بھرنے والے بھی اذیت کا شکار ہیں، افتخار عالم

غیر قانونی کنڈے بھی بجلی کمپنی لگواتی ہے، افتخار عالم ایم کیوایم

نیپرا قواعد کی خلاف ورزی کی جاتی ہے، محمد فاروق جماعت اسلامی

سندھ اسمبلی میں حصوصی کمیٹی برائے توانائی کا اجلاس

لیاقت آباد سے منتخب ہونے والے رکن سندھ اسمبلی معاذ محبوب کا سی سی او مونس علوی سے مکالمہ

جب لوڈشیڈنگ کا شیڈول جاری کردیا گیا ہے اس کے بعد بجلی بند کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے

اگر غیر قانونی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے کہ تو کے الیکٹرک حکام کے خلاف ایف آئی آ تو درج ہونی چائیے ، معاذ محبوب

پھر کیا آپ بجلی کی چوری کے خلاف بھی ایف آئی آر درج کروائیں گے ، سی ای او مونس علوی

بجلی کی چوری کے خلاف آپ کے ساتھ ہیں ، غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ تو روکیں

تمام ڈیسکوز کو لوڈشیڈنگ کا شیڈول دینا ہوگا، اسپیکر اویس قادر شاہ
================

کراچی(اسٹاف رپورٹر ) امیرجماعت اسلامی کراچی منعم ظفر نے چیئر مین نیپرا کو فوری طور پر ایک خط ارسال کیا ہے جس میں نیپرا کی جانب سے کے الیکٹرک کو ریکوری نقصانات صارفین کے بجلی کے بلوں میں شامل کرنے کی اجازت دینے اور 40روپے فی یونٹ بنیادی ٹیرف مقرر کرنے کے فیصلے کو نیپرا کا دہرا معیار، ظالمانہ اور کراچی دشمن فیصلہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ فیصلہ کراچی کے ان لاکھوں صارفین کے ساتھ سراسر نا انصافی ہے جو باقاعدگی سے اپنے بل ادا کرتے ہیں لیکن ان پر اب نادہندہ صارفین اور کے الیکٹرک کی نااہلی، ناقص کارکردگی کا بوجھ بھی ڈال دیا گیا ہے، حیرت ہے کہ ملک کے دیگر شہروں میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں ریکوری نقصانات کو صارفین پر منتقل نہیں کر سکتیں مگر کے الیکٹرک کو نوازنے کے لیے کراچی میں ایسا کیوں کیا گیا؟ کیا نیپرا کا یکساں ٹیرف کا دعویٰ صرف کاغذی دعویٰ ہے؟ کراچی کے صارفین کے لیے 40روپے فی یونٹ ٹیرف مقرر کرنا جبکہ باقی ملک میں اوسط ٹیرف صرف 35روپے فی یونٹ ہے، نیپرا کے دہرے معیار اور متعصبانہ رویے کی واضح مثال ہے، اس اقدام سے کراچی کے شہریوں پر سالانہ اربوں روپے کا اضافی مالی بوجھ ڈالا جائے گا جو کہ کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں،منعم ظفر خان نے اپنے خط میں مزید کہا کہ کے الیکٹرک کے ملٹی ائیر ٹیرف کی منظوری کے تحت نیپرا نے سال 2004-25میں 97ارب روپے کراچی کے شہریوں سے بجلی کے ٹیرف میں اضافے کی صورت میں وصول کرنے کی منظوری دے دی ہے جو کہ محض آغاز ہے، یہ اضافی مالی بوجھ اگلے سات سال تک یعنی 2030تک کراچی کے شہریوں پر مسلط رہے گا جبکہ، نیپرا پہلے ہی کے الیکٹرک کی جانب سے رائٹ آف کلیم کے نام پر 76ارب روپے کی رقم بجلی کے بل باقاعدگی سے ادا کرنے والے صارفین سے وصول کرنے کے لیے سماعت مکمل کر چکی ہے اور اطلاعات کے مطابق نیپرا اس کیس میں بھی کے الیکٹرک کے حق میں فیصلہ دینے جا رہی ہے، یہ تمام اقدامات ایسے وقت میں کیے جا رہے ہیں جب کراچی کے شہری پہلے ہی کے الیکٹرک کی مہنگی ترین بجلی، بدترین لوڈشیڈنگ اور ناقص کارکردگی کا شکار ہیں، نیپرا کا یہ رویہ اس کے آئینی کردار یعنی صارفین کے تحفظ کے بالکل برعکس ہے، اس کے ساتھ ہی شدید گرمی اور ہیٹ ویو کے دوران شہر بھر میں بدترین لوڈشیڈنگ جاری ہے جبکہ نیپرا اور وفاقی حکومت نے اس پر مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے، کے الیکٹرک نہ صرف بلا تعطل بجلی کی فراہمی میں ناکام ہے بلکہ نیپرا بھی کراچی کے صارفین کے تحفظ کی اپنی آئینی و قانونی ذمہ داری پوری کرنے سے قاصر رہی ہے، منعم ظفر خان نے اپنے خط میں مطالبہ کیا کہ نیپرا فوری طور پر ریکوری لاسز کوصارفین پر منتقلی کے فیصلے کو واپس لے، کے الیکٹرک کو اپنی خراب وصولیوں، بد انتظامی اور ناقص کارکردگی کی سزا عوام کو دینے سے روکا جائے، نیپرا کراچی کے صارفین کے تحفظ کی اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرے اور ایک غیر جانب دار، شفاف اور یکساں پالیسی پر عمل درآمد کرے، کراچی کے لیے بجلی کا بنیادی ٹیرف باقی ملک کی طرح یکساں مقرر کیا جائے، کے الیکٹرک کی جانب سے جاری بدترین لوڈشیڈنگ کا سختی سے نوٹس لیا جائے اور فوری تادیبی کارروائی کی جائے، کے الیکٹرک کا لائسنس فوری طور پر منسوخ کر کے کراچی کو این ٹی ڈی سی سے سستی بجلی فراہم کی جائے۔
سندھ اسمبلی میں حصوصی کمیٹی برائے توانائی کا اجلاس

لیاقت آباد سے منتخب ہونے والے رکن سندھ اسمبلی معاذ محبوب کا سی سی او مونس علوی سے مکالمہ

جب لوڈشیڈنگ کا شیڈول جاری کردیا گیا ہے اس کے بعد بجلی بند کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے

اگر غیر قانونی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے کہ تو کے الیکٹرک حکام کے خلاف ایف آئی آ تو درج ہونی چائیے ، معاذ محبوب

پھر کیا آپ بجلی کی چوری کے خلاف بھی ایف آئی آر درج کروائیں گے ، سی ای او مونس علوی

بجلی کی چوری کے خلاف آپ کے ساتھ ہیں ، غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ تو روکیں

تمام ڈیسکوز کو لوڈشیڈنگ کا شیڈول دینا ہوگا، اسپیکر اویس قادر شاہ
اراکین اسمبلی سی ای او کے الیکٹرک مونس علوی پر برہم

شکایتوں کے انبار لگادیے

محمد فاروق جماعت اسلامی

گزشتہ اجلاس میں طے ہوا تھا کہ رات کی لوڈ شیڈنگ نہیں ہوگی

تو شیڈول کب اور کیسے کس کی اجازت سے تبدیل ہوا

ہیٹ ویو 45 ڈگری پر لوڈ شیڈنگ نہیں کرتے ، مونس علوی

کراچی میں 45 ڈگری درجہ حرارت کب ہوا ہے، محمد فاروق

جماعت اسلامی والوں کو ہم سےکچھ زیادہ محبت ہے، مونس علوی

جماعت اسلامی غور کررہی ہے کہ ہم ڈسٹری بیوشن کمپنی لے آئیں، محمد فاروق

کچھ تاجر برادری والے اپنی کمپنی لانا چارہے ہیں لیکن وہاں آپ ان کی مخالفت کررہے ہیں ، آصف موسی

آپ بورڈ آف گورنر میں پچاس فیصد شیئر کے مالک کو شامل نہیں ہونے دے رہے، محمد فاروق
پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں سی ای او مونس علوی غیر سنجیدہ رویے پر اراکین اسمبلی برہم

کے الیکٹرک کا سی ای او سنجیدہ نہیں اور پوائنٹ نوٹ نہیں کررہے، بلقیس مختار

آپ بار بار موبائل استعمال کررہے ہیں اب مت کیجیے گا، سجاد سومرو

گزشتہ اجلاس میں کے الیکٹرک حکام نے ہمارے ایم پی اے کے بارے سخت جملے استعمال کیے تھے، سعدیہ جاوید

انہیں اس عمل پر معافی مانگیں یا ورنہ اجلاس سے باہر نکالیں ، سعدیہ جاوید

مونس علوی نے ادارے کی طرف سے اراکین اسمبلی سے معذرت کی
محمد فاروق

آج کا اجلاس نتیجہ خیز ثابت ہونا چاہیے

شہریوں کو ریلیف ملنا چاہیے

اگر کے الیکٹرک نے اپنی ہٹ دھرمی جاری رکھی تو آئندہ اجلاس کا بائیکاٹ کرونگا ،

سی ای او کے الیکٹرک نے بجلی چوری روکنے میں اپنی ناکامی تسلیم کرلی

جن علاقوں میں بجلی چوری ہوتی ہے وہاں بجلی چوروں کے خلاف کاروائی کی جائے

جن علاقوں میں بجلی چوری ہوتی ہے ہم وہاں کنیکشن نہیں کاٹ پاتے ، سی ای او مونس علوی
=================

سندھ ہائیکورٹ نے کراچی واٹر کارپوریشن میں سی ای او اسد اللہ خان اور احمد علی صدیقی کی تعیناتی کیخلاف درخواست پر نوٹیفکیشن معطل کرنے کے احکامات پر حکم امتناع میں توسیع کردی۔ ہائیکورٹ میں کراچی واٹر کارپوریشن میں سی ای او سمیت اعلیٰ عہدوں پر تقرری کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے موقف دیا کہ میں اس رویئے پر معذرت خواہ ہوں۔ سرکاری وکیل نے موقف دیتے ہوئے کہا کہ واٹر کارپوریشن میں تقرریاں صوبائی حکومت کرتی ہے۔ صلاح الدین کو چیف ایگزیکٹو کے عہدے سے ہٹادیا گیا تھا۔ عدالت کے حکم امتناع کے بعد اسد اللہ کو ہٹا کر ڈپٹی کمشنر احمد علی صدیقی کو ایڈیشنل چارج دیا گیا۔ درخواستگزار نے اسد اللہ کی سی ای او کی حیثیت سے تقرری کو نہیں بلکہ عہدے کے اختیارات کو چیلنج کیا۔ سی ای او کے اختیارات ڈپٹی کمشنر ایسٹ کو سونپنے کے بعد یہ اعتراض بھی ختم ہوگیا۔ درخواست غیر مؤثر ہوچکی، نمٹادی جائے۔ عدالت کے حکم امتناع کی وجہ سے ملک کے سب سے بڑے شہر کو پانی فراہم کرنے والا ادارہ مفلوج ہے۔ جسٹس عمر سیال نے ریمارکس دیئے کہ ہمیں واٹر کارپوریشن کے پبلک یوٹیلیٹی ہونے سے متعلق تقریر مت سنائیں۔ یہ پبلک یوٹیلیٹی ہے لیکن پبلک مفاد کیلیے استعمال نہیں ہورہی، نجانے کس کے لیئے استعمال ہورہی ہے۔ خواجہ شمس الاسلام ایڈووکیٹ نے موقف اپنایا صوبہ سندھ میں سقراط، بقراط، افلاطون صرف اسداللہ ہیں۔ درخواستگزار کے وکیل نے موقف اپنایا کہ اسد اللہ خان مئی 2022 میں اسی ادارے سے ریٹائر ہوئے اور ستمبر میں دوبارہ تقرری کردی گئی۔ تمام عہدوں کے اختیارات اسد اللہ خان کو دیئے گئے ہیں، چار چار ٹوپیاں پہنا دی گئیں۔ اب گریڈ 19 کے من پسند ڈپٹی کمشنر کو سی ای او لگا دیا گیا، کراچی کو ایڈہاک بنیادوں پر چلایا جارہا ہے۔ جنگ میں ہی نہیں، عدالتوں میں بھی سچائی کا قتل ہوتا ہے جب کوئی سرکاری افسر عدالت آجائے۔ درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ اسد اللہ طویل عرصے واٹر کارپوریشن میں رہے، کے فور کی لاگت میں اضافہ ہوتا رہا۔ خواجہ شمس اسلام نے موقف دیا کہ شہر میں صرف پائپ بچھائے گئے ہیں پانی نہیں ہے۔ جس پائپ میں پانی ہوتا ہے وہ توڑ دیا جاتا ہے، عدالت میں موجود سابق جسٹس محمود عالم کے جملے نے کمرہ عدالت زعفران زار بنادیا۔ درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ افسران کی نااہلی کے سبب کراچی میں بار بار پانی کی لائنیں پھٹ جاتی ہیں۔عدالت نے کنٹریکٹ پر سی ای او اسد اللہ خان اور احمد علی صدیقی کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن معطل کر رکھا ہے۔ عدالت نے ریٹائرڈ افسران کی کنٹریکٹ پر دوبارہ تقرریوں اور حکومت سندھ کے رویئے پر اظہارِ افسوس کیا۔ عدالت نے آبزرویشن دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ حکومت سندھ عدالتوں کا احترام نہیں کرتی۔ جسٹس عمر سیال نے ریمارکس دیئے کہ 4 ماہ پہلے ایک نے کہا کہ واٹر کارپوریشن خود مختار ادارہ ہے، حکومت سندھ کا کوئی لینا دینا نہیں، جب عدالت نے حکم امتناع جاری کیا تو افسران کو بچانے کیلیے حکومت سندھ کے وکلاء پہنچ گئے۔ 26 ویں آئینی ترمیم کے بعد عدالتوں سے متعلق سندھ حکومت کے رویئے میں فرق محسوس ہوتا ہے۔ عدالت نے فریقین کے وکلاء کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ فیصلہ چند دنوں میں سنایا جائے گا۔ عدالت نے دونوں افسران کی تعیناتی کیخلاف درخواست پر حکم امتناع میں توسیع کردی۔

حکومتِ پاکستان کے الیکٹرک کمپنی میں اقلیتی شیئر ہولڈر ہے
03 جون ، 2025FacebookTwitterWhatsapp
کراچی ( اسٹاف رپورٹر) حکومتِ پاکستان کے الیکٹرک کمپنی میں اقلیتی شیئر ہولڈر ہے جس کے پاس 24.36فیصد حصص ہیں، کمپنی کے 66.4 فیصد حصص کے ای ایس( KES )پاور کے پاس ہیں، جو مختلف سرمایہ کاروں کے کنسورشیم پر مشتمل ہے، تفصیلات کے مطابقکے-الیکٹرک (کے ای) نے پیر کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں اپنا کارپوریٹ بریفنگ سیشن منعقد کیا، جہاں کراچی اور ملحقہ علاقوں کو قابلِ بھروسا، سستی اور پائیدار بجلی کی فراہمی کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔اس سیشن کے دوران اسٹیک ہولڈرز، تجزیہ کاروں، سرمایہ کاروں اور میڈیا کے نمائندگان کو ادارے کی آپریشنل پیش رفت، حالیہ ٹیرف فیصلوں اور مستقبل کی اسٹریٹیجک سمت سے متعلق جامع بریفنگ دی گئی۔اس موقع پر، کے-الیکٹرک نے مالی سال 2024 تا 2030 کے لیے منظور شدہ ملٹی ایئر ٹیرف (MYT) پیش کیا، جو کہ کراچی کے بجلی کے نظام کو جدید بنانے اور توسیع دینے کے لیے مجوزہ 2 ارب امریکی ڈالر کے سرمایہ کاری منصوبے پر عملدرآمد کا راستہ ہموار کرتا ہے۔

کے الیکٹرک کے ٹیرف پر نظر ثانی کی درخواست نیپرا میں جمع
03 جون ، 2025FacebookTwitterWhatsapp
اسلام آباد ( ناصر چشتی) پاور ڈویژن نے کے الیکٹرک کے ٹیرف پر نظر ثانی کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی، وزیرتوانائی اویس احمدخان لغاری نے کے الیکٹرک کے ٹیرف پر نظر ثانی کی درخواست دائر کرنے کے بعد کہا کہ پاور سیکٹر ٹیرف کے ڈھانچے میں اضافہ کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا،کسی نجی یا عوامی کمپنی کی نااہلی کی حوصلہ افزائی کیلئے ٹیرف ڈھانچے میں اضافے کے متحمل نہیں، نظر ثانی درخواست بجلی تقسیم کار نظام میں پائیدار اور صحتمندانہ ماحول کے فروغ کیلئے ہے لہٰذا امید ہے کہ نظرثانی کا عمل شفاف اور منصفانہ طریقے سے مکمل ہوگا۔

جماعت اسلامی کے تحت کے الیکٹرک آئی بی سیز سمیت 11 مقامات پر احتجاجی مظاہرے
03 جون ، 2025FacebookTwitterWhatsapp
کراچی(اسٹاف رپورٹر)کے الیکٹرک کی شہر میں بدترین لوڈشیڈنگ، ظالمانہ ملٹی ائیر ٹیرف کی منظوری، ریکوری نقصانات کی عام صارفین سے وصولی کے خلاف پیر کو جماعت اسلامی کے تحت شہر بھر میں کے الیکٹرک آئی بی سیز سمیت 11مقامات پر احتجاجی مظاہرے کیے گئے،مظاہرین نے کے الیکٹرک، نیپرا اور حکومتی گٹھ جوڑ کے خلاف شدید احتجاج کیا ، امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے لیاقت آباد ڈاکخانہ پر احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے عوام سخت گرمی میں کے الیکٹرک کی بدترین لوڈشیڈنگ کا شکار ہیں، بجلی کے ستائے عوام شہر بھر میں جگہ جگہ مظاہرے کر رہے ہیں، ہم واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ جب تک کراچی کے عوام کو حقیقی طور پر ریلیف نہیں ملے گا، کے الیکٹرک سے ہماری دشمنی اور جنگ جاری رہے گی،کے الیکٹرک جنریشن اور ٹرانسمیشن میں مکمل طور پر ناکام ہو گئی ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ صرف 300فیڈرز نہیں پوری کے الیکٹرک کو قومی تحویل میں لیا جائے،علاوہ ازیں کے الیکٹرک IBC دارالعلوم، جوہر موڑ، IBC بن قاسم، بنارس چوک، لیاری ریلوے اسٹیشن ماڑی پور روڈ محمدی کالونی،IBC شاہین کمپلیکس اورنگی ٹاؤن پونے پانچ نمبر، ملیر ہالٹ IBC،پاور ہاؤس چورنگی نارتھ کراچی اور حیدری بس اسٹاپ پر احتجاجی مظاہرے کیے گئے جن سے امراء اضلاع و دیگر ذمہ داران نے خطاب کیا۔

کراچی میں بدترین لوڈشیڈنگ‘ شدید گرمی‘ شہری بلبلا اٹھے
02 جون ، 2025FacebookTwitterWhatsapp
کراچی(اعظم علی /نمائندہ خصوصی ) شدید گرمی میں کراچی کے کئی علاقوں میں 48 گھنٹوں سے بجلی بندجبکہ لانڈھی ،کورنگی، شاہ فیصل کالونی ، ملیر ، لیاری ، عثمان آبا د، غازی نگر، حسن لشکری ولیج سمیت کئی علاقوں میں بجلی کی 18 گھنٹوں تک کی غیراعلانیہ لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے عوام بلبلا اٹھے ‘ممکنہ احتجاج کے پیش نظر امن وامان کا مسئلہ پیدا ہونے کا خدشہ پیداہوگیا‘کے الیکٹرک کا معلومات فراہم کرنے والا نظام صارفین کو غلط معلومات فراہم کرنے لگا جس کی وجہ سے صارفین میں شدید اشتعال پایا جاتا ہے، ڈیفنس سے ملحقہ گزری کے علاقے میں کئی اپارٹمنٹ عمارتوں میں بجلی کی عدم موجودگی کی وجہ سے پانی کی شدید قلت پائی جا رہی ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ حکمراں جماعت کے عوامی نمائندے بھی بجلی کے تعطل پر خاموش ہیں‘ اس ضمن میں کے الیکٹر ک کےافسران بجلی کے صارفین کو ہونے والی پریشانی سے بے نیاز ہیں، اس کے علاہ کاروباری علاقوں میں دکاندار جنریٹرز چلانے پر مجبورہیں۔ شہریوں نے بتایا ہے کہ کے الیکٹرک کی نااہلیت کی وجہ سے کراچی میں امن وامان خراب ہونے کا خطرہ ہے۔

صنعتوں کی گیس سے بجلی پر منتقلی
مرزا اختیار بیگ
02 جون ، 2025FacebookTwitterWhatsapp
گزشتہ دنوں قومی اسمبلی میں کیپٹو پاور پلانٹس لیوی بل 2025ءاکثریت سے منظور کرلیا گیا جسکی رو سے ہر کیپٹو پاور پلانٹ (cpp) وفاقی حکومت کو قدرتی گیس یا آر ایل این جی استعمال کرنے پر لیوی ادا کرے گا جو فوری طور پر 5فیصد ہے جس سے گیس کی قیمت 3500روپے سے بڑھ کر 4291mmbtu روپے ہوگئی ہے جو جولائی 2025 ءمیں مزید 10 فیصد، فروری 2026 میں 15 فیصد اور اگست 2026 ءمیں 20 فیصد بڑھا دی جائے گی جبکہ صارفین کیلئے بجلی کی قیمتوں میں مرحلہ وار کمی کی جائیگی جس کا مقصد گیس سے بجلی پیدا کرنیوالی صنعتوں کو نیشنل گرڈ پر منتقل کرنا ہے تاکہ یہ صنعتیں گیس کے بجائے بجلی استعمال کرسکیں لیکن اربوں روپے کی سرمایہ کاری سے کیپٹو پاور پلانٹس لگانے والے صنعتکاروں کو حکومت کا یہ فیصلہ منظور نہیں کیونکہ 1999 میں مشرف حکومت نے بجلی کی لوڈشیڈنگ کے باعث صنعتوں کو گیس سے چلنے والے کیپٹو پاور پلانٹ لگانے کی اجازت دی تھی جس کیلئے sngc اور ssgc نے صنعتوں کو گیس کنکشن دیئے اور صنعتکاروں نے اربوں روپے کی سرمایہ کاری سے کیپٹو پاور پلانٹس لگائے جو انکی صنعتوں کیلئے بجلی پیدا کررہے ہیں۔
قارئین! کیپٹو پاور پلانٹ گیس سے اوسطاً ایک میگاواٹ سے 20میگاواٹ تک 80سے 90 فیصد efficiency پر بلاتعطل 24 گھنٹے اپنی صنعتوں کیلئے بجلی پیدا کرتے ہیں جو ڈسکوز اور کے الیکٹرک کے مقابلے میں سستی ہوتی ہے۔ اسکے علاوہ cpp میں جنریٹرز سے ہیٹ ریکوری کے ذریعے بوائلرز سے ٹیکسٹائل صنعتوں کیلئے اسٹیم حاصل کی جاتی ہے جسکی وجہ سے cpp سے پیدا کی گئی بجلی کی اوسطاً قیمت حکومتی نرخوں سے کم پڑتی ہے لیکن آج 25 سال بعد حکومت نے آئی ایم ایف کے مطالبے پر صنعتوں کی اپنی گیس سے بجلی پیدا کرنے کی سہولت ختم کرکے انہیں بجلی پر منتقل ہونے کا بل منظور کرلیا ہے اور بجلی کے نیشنل گرڈ پر منتقل نہ ہونے کی صورت میں صنعتوں کے گیس کنکشنز کاٹنے کا حکم دیا ہے۔ میں نے فیڈریشن ہائوس کراچی میں ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں اس بل کی سختی سے مخالفت کی تھی۔ بزنس کمیونٹی کی مخالفت پر صدر آصف زرداری نے 3 وفاقی وزراء وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر توانائی اویس لغاری، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک اور وفاقی سیکریٹریز کو مذاکرات کیلئے کراچی بھیجا۔ وزیراعلیٰ ہائوس میں منعقدہ اجلاس میں وزیراعلیٰ مراد علی شاہ، پیپلزپارٹی کے رکن قومی اسمبلی نوید قمر، پیپلز بزنس فورم کے صدر اور کراچی سے قومی اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے میں نے شرکت کی جبکہ کراچی چیمبر کی طرف سے زبیر موتی والا، جاوید بلوانی، آصف انعام، فیڈریشن کی طرف سے ثا قب فیاض مگوں، فواد انور کریم، شبیر دیوان اور دیگر ممتاز صنعتکار بھی موجود تھے۔ اتوار کے روز ہونے والے طویل اجلاس میں وفاقی وزراء کو میں نے بتایا کہ نیشنل گرڈ پر منتقل ہونے سے صنعتوں بالخصوص ٹیکسٹائل کی پروسیسنگ انڈسٹریز کو بلاتعطل بجلی فراہم نہیں ہوسکتی، سندھ پاکستان کی 65 فیصد گیس پیدا کرتا ہے اور آئینی طور پر صوبہ سندھ کو یہ گیس استعمال کرنے کا پہلا حق حاصل ہے لیکن اب سندھ کی صنعتوں کی یہ برتری ختم ہوجائیگی۔ میں نے بتایا کہ سرکولر ڈیٹ اور بجلی کی ترسیل کے نقصانات میں کمی لانے کے بجائے صنعتی صارفین کی گیس سے بجلی پر منتقلی سےsngc اور ssgc اربوں روپے کے مالی نقصانات کا شکار ہوسکتے ہیں۔ کیپٹو پاور سے نیشنل گرڈ پر منتقلی کا کوئی واضح ٹائم فریم بھی نہیں دیا گیا ہے۔ گرڈ پر منتقل ہونے کیلئے صنعتکاروں کو کروڑوں روپے کے آلات میں مزید سرمایہ کاری کرنا پڑے گی جبکہ اربوں روپے کے cpp حکومتی پالیسی کی وجہ سے بے کار ہوجائیں گے۔ سرمایہ کاروں کو سب سے بڑا خوف اور نقصان حکومت کی غیر تسلسل پالیسیوں سے رہا ہے جس کی مثال حکومت کا گیس سے بجلی پر منتقل ہونے کا قانون ہے جسکی وجہ سے بجلی کی کمی اور لوڈشیڈنگ کی وجہ سے اربوں روپے کے گیس سے چلنے والے cpp اب ناکارہ نظر آئیں گے۔
اس قانون کا اصل مقصد نیشنل گرڈ میں موجود اضافی بجلی صنعت کو فراہم کرنا، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے گردشی قرضوں اور خسارے میں کمی لانا ہے جو آئی ایم ایف کی شرائط میں شامل ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے بتایا کہ آئی ایم ایف کے اسٹاف لیول معاہدے میں حکومت نے اس پر اتفاق کرلیا تھا لہٰذا بجٹ سے پہلے اس بل کو منظور کرانا پڑا۔
قارئین! اسی طرح کی صورتحال سولر پاور جنریشن کی ہے جہاں حکومت نے بجلی کے ٹیرف میں مسلسل اضافے سے مہنگی بجلی کے مدنظر لوگوں کو اپنے گھروں اور کمرشل اداروں میں شمسی توانائی پیدا کرنے کی اجازت دی جس کیلئے نیپرا نے نیٹ میٹرنگ کیلئے باقاعدہ لائسنس جاری کئے اور ڈسکوز 27روپے فی یونٹ سولر سے پیدا کی گئی بجلی خریدتے تھے جس کو اب کم کرکے 10 روپے فی یونٹ کردیا گیا ہے تاکہ سولر سے بجلی پیدا کرنے کے بجائے حکومت کی اضافی بجلی استعمال کی جائے لیکن یہ بھی حکومت کا ایک یوٹرن اور سولر توانائی کیلئے اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہے۔ حکومتی پالیسیوں میں عدم تسلسل دراصل بغیر پلاننگ 8 ہزار میگاواٹ اضافی بجلی کو سسٹم میں کھپانا ہے، چاہے اس سے صنعتی اور گھریلو صارفین بری طرح متاثر ہوں۔