کے ایم سی میں گریڈ ایک تاچار کی بھرتی کے لیے درخواستوں کی طلبی خوش آئند ہے، ریٹائر ملازمین کے بچوں کو سن کوٹے اور مرحوم ملازمین کے بچوں کو فوتگی کوٹے میں ملازمتیں دی جائیں : سجن یونین (سی بی اے)

کے ایم سی میں گریڈ ایک تاچار کی بھرتی کے لیے درخواستوں کی طلبی خوش آئند ہے۔مروجہ قانون اور معاہدے کے تحت ملازمین کے بچوں کو فوقیت دی جائے۔ریٹائر ملازمین کے بچوں کو سن کوٹے اور مرحوم ملازمین کے بچوں کو فوتگی کوٹے میں ملازمتیں دی جائیں۔چوردروازے سے بھرتی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔عدالت میں غیر قانونی بھرتی پر رجوع کیا جائے گا۔شفاف بھرتی کے لیے یونین کی چاررکنی کمیٹی بنانے کا فیصلہ۔
سجن یونین (سی بی اے) کے ایم سی کے مرکزی صدر سیدذوالفقارشاہ نے کہا ہے کہ کے ایم سی میں گریڈ ایک تا گریڈ چار کی بھرتی کرنے کے لیے حکومت سندھ سے منظوری ملنے کے بعد قومی اخبارات میں گذشتہ روز بھرتی کے اشتہارات شائع کئے گئے ہیں جوکہ خوش آئند عمل ہے لیکن اس سلسلے میں مروجہ قوانین اور یونین معاہدے کے تحت ملازمین کے بچوں کو فوقیت دیتے ہوئے ریٹائر ملازمین کے بچوں کو سن کوٹے اور مرحوم ملازمین کے بچوں کو فوتگی کوٹے میں ملازمتیں دی جائیں۔چوردروازے اور اوپر سے بھیجی گئی لسٹوں پر بھرتی کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی اور اس سلسلے میں بھرپور مزاحمت کی جائے گی انہوں نے کہا کہ شفاف بھرتی کے لیے سی بی اے یونین نے چار رکنی کمیٹی محمد نذیر،شکیل احمد،راجہ عاصم شہزاداور محمد روشن پر مشتمل تشکیل دے دی ہے جوکہ اس عمل کی یونین کی جانب سے مانیٹرنگ کریں گے اور درخواستیں جمع کروانے سے لیکر کال لیٹر،انٹرویواور کاغذات کی چھان بین تک کے عمل کا معائنہ کرکے رپورٹ یونین کے مرکزی صدرسیدذوالفقارشاہ اور لیگل ٹیم سابق جسٹس سندھ ہائی کورٹ شہاب سرکی،ندیم شیخ ایڈوکیٹ،خالد الیاس ایڈوکیٹ اورسلیم مائیکل ایڈوکیٹ پیش کریں گے تاکہ اگر بھرتی میں غیر قانونی مداخلت یاکسی مرحلے پر غیر شفاقیت کا مظاہرہ کیا گیا ہواسے عدالت میں چیلنج کرکے غیر قانونی بھرتی کے عمل کو رکوایاجاسکے انہوں نے میئر کراچی،میٹروپولیٹن کمشنر سے اس سلسلے میں قانونی کاروائی کے تحت بھرتی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
میئر کراچی، میٹروپولیٹن کمشنر کی بلدیہ عظمیٰ کراچی کے معاملات میں عدم دلچسپی کے باعث مالی بحران میں دن بدن مزید اضافہ ہورہا ہے۔ ایک لاکھ روپے کی عدم ادائیگی پر کے ایم سی کی ویب سائٹ بند کردی گئی۔ اس ماہ کی تنخواہ اور پنشن میں 15 فیصد اضافہ ادا نہیں کیا جاسکا۔
سجن یونین (سی بی اے) کے ایم سی کے مرکزی صد ر سیدذوالفقارشاہ نے کہا ہے کہ میئر کراچی اور میٹروپولیٹن کمشنرکی بلدیہ عظمیٰ کراچی کے معاملات میں عدم دلچسپی کے باعث مالی بحرام میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ صرف ایک لاکھ روپے کی عدم ادائیگی کی وجہ سے کے ایم سی کی ویب سائٹ بند کردی گئی ہے جبکہ اس ماہ کی ماہوار تنخواہ میں بھی جولائی 2019 سے اضافہ شدہ 15 فیصد تنخواہ اور پنشن میں اضافہ ادا نہیں کیا جاسکا۔ جس سے ملازمین اور پنشنرز میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے مالی معاملات میں دونوں اعلیٰ حکام کی عدم دلچسپی کے باعث ریکوریز میں دن بدن کمی آرہی ہے جس سے ادارے کے ماہانہ شارٹ فال میں بھی اضافہ ہورہا ہے جو کہ ماہوار 8 کروڑ سے بڑھ کر 12 کروڑ کو پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر میئر کراچی بلدیہ عظمیٰ کراچی کے معاملات سے لاتعلق ہونا چاہتے ہیں تو پھر استعفیٰ دیکر چارج ڈپٹی میئر کے حوالے کردیں اور میٹروپولیٹن کمشنر بھی اگر سارا وقت کے ڈی اے میں دینا چاہتے ہیں تو پھر میٹروپولیٹن کمشنر کا چارج چھوڑ دیں۔ انہوں نے وزیربلدیات سے صورتحال کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں