پاکستان: دیامر میں 7 سال بعد پولیو کا نیا کیس، صحت کے لیے سنگین چیلنج

پاکستان: دیامر میں 7 سال بعد پولیو کا نیا کیس، صحت کے لیے سنگین چیلنج

دیامر: پاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلتستان کے ضلع دیامر میں سات سال کے طویل عرصے کے بعد پولیو وائرس کا ایک نیا کیس رپورٹ ہوا ہے، جو ملک میں اس موذی مرض کے خاتمے کی کوششوں کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ یہ کیس رواں سال جنوری سے اب تک رجسٹرڈ ہونے والا 11 واں واقعہ ہے، حالانکہ حکومت اور عالمی ادارے مسلسل ویکسینیشن مہمات چلا رہے ہیں۔

وائرس کیسے پھیلا؟
پولیو پروگرام کے حکام کے مطابق، متاثرہ بچہ دیامر کا رہائشی ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ یہ وائرس کراچی میں پایا جانے والا قسم ہے، جس نے ماہرین کو تشویش میں ڈال دیا ہے۔ گرمیوں کے موسم میں ہزاروں سیاح شمالی علاقوں کا رخ کرتے ہیں، جس سے وائرس کے پھیلاؤ کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

پاکستان اور افغانستان: پولیو کے آخری گڑھ
عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق، پاکستان اور افغانستان دنیا کے واحد ممالک ہیں جہاں پولیو وائرس کا خاتمہ ابھی تک ممکن نہیں ہو سکا۔ سیاسی عدم استحکام، سیکورٹی مسائل اور ویکسین کے خلاف غلط فہمیوں نے اس بحران کو طول دیا ہے۔ گزشتہ تین دہائیوں میں پولیو ورکرز اور سیکورٹی اہلکاروں پر 200 سے زائد حملے ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے ویکسینیشن مہمات شدید متاثر ہوئی ہیں۔

حکومتی کوششیں اور عوامی آگاہی کی ضرورت
حکومت نے حال ہی میں 45 لاکھ بچوں کو ویکسین دینے کے لیے قومی مہم مکمل کی ہے۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ وائرس کی بہتر مانیٹرنگ اور عوامی شعور بیدار کرنے کی فوری ضرورت ہے، خاص طور پر دیہی اور دور دراز علاقوں میں جہاں لوگ ویکسینیشن کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔

پولیو کیوں خطرناک ہے؟
پولیو ایک شدید متعدی بیماری ہے جو خاص طور پر 5 سال سے کم عمر کے بچوں کو نشانہ بناتی ہے۔ یہ اعصابی نظام کو تباہ کر کے مستقل معذوری یا موت کا سبب بن سکتی ہے۔ عالمی سطح پر اس کے خاتمے کے لیے کوششیں جاری ہیں، لیکن پاکستان میں صورتحال اب بھی تشویشناک ہے۔

گلگت بلتستان بھی پولیو وائرس سے متاثر، پہلا کیس رپورٹ، 23 ماہ کا بچہ شکار بنا
گلگت بلتستان میں وائلڈ پولیو وائرس کا پہلا کیس سامنے آگیا جس کے بعد رواں سال ملک میں پولیو کے کل کیسز کی تعداد 11 ہوگئی ہے۔

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) اسلام آباد میں قائم پولیو کے خاتمے کے لیے ریفرنس لیبارٹری نے ضلع دیامر میں پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق کی ہے، پاکستان پولیو ایریڈیکیشن پروگرام کے مطابق یہ گلگت بلتستان کا پہلا تصدیق شدہ کیس ہے۔

تیسری قومی انسداد پولیو مہم 26 مئی سے شروع ہو کر کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی، جس کے دوران 5 سال سے کم عمر کے تقریباً ساڑھے 4 کروڑ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے، یہ مہم ملک کے 159 اضلاع میں چلائی گئی جن میں حساس علاقے بھی شامل تھے۔

پولیو ایک انتہائی متعدی اور معذور کر دینے والی بیماری ہے جس کا کوئی علاج موجود نہیں، بچوں کو اس سے محفوظ رکھنے کا واحد مؤثر طریقہ ویکسی نیشن ہے، جو پیدائش کے فوراً بعد شروع ہو کر متعدد بار دی جاتی ہے، پروگرام نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو ہر ممکن موقع پر پولیو کے قطرے پلائیں اور ویکسی نیشن کا مکمل کورس یقینی بنائیں۔

سیکریٹری صحت گلگت بلتستان آصف اللہ خان نے بتایا کہ متاثرہ بچہ 23 ماہ کا ہے اور ضلع دیامر کے علاقے تانگیر سے تعلق رکھتا ہے، ان کے مطابق بچے نے کبھی علاقہ نہیں چھوڑا، مگر وائرس کے جینیاتی تجزیے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس کا تعلق کراچی کے علاقے لیاقت آباد سے ہے، اگرچہ پولیو کے قطرے پلانے کا ریکارڈ موجود ہے مگر پیدائش کے فوری بعد دی جانے والی ابتدائی ویکسی نیشن نہیں کی گئی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ صحت نے تاحال عوام کو اس کیس کے بارے میں باضابطہ اطلاع نہیں دی، تاہم یہ بات واضح ہے کہ گلگت بلتستان جو پہلے پولیو فری قرار دیا گیا تھا، اب وائرس سے متاثر ہو چکا ہے۔

پاکستان اور افغانستان وہ دو ممالک رہ گئے ہیں جہاں پولیو اب بھی مقامی سطح پر موجود ہے، 2024 میں ملک میں 70 سے زائد کیسز سامنے آئے تھے اور وائرس تقریباً 90 اضلاع میں پایا گیا تھا، حالیہ سال کی پہلی انسداد پولیو مہم فروری میں جبکہ ایک خاص انجیکٹ ایبل پولیو ویکسین مہم کوئٹہ اور کراچی میں منعقد ہوئی، جس میں تقریباً 10 لاکھ بچوں کو ویکسین لگائی گئی۔

یہ نیا کیس ایک بار پھر اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ مکمل ویکسی نیشن اور بروقت حفاظتی اقدامات ہی اس مرض سے نجات کا واحد راستہ ہیں۔