بڑی عید اور بجٹ سے قبل پٹرول مہنگا، قیمت میں ایک روپے فی لیٹر اضافہ

بڑی عید اور بجٹ سے قبل پٹرول مہنگا، قیمت میں ایک روپے فی لیٹر اضافہ

بڑی عید اور بجٹ سے قبل پٹرول مہنگا، قیمت میں ایک روپے فی لیٹر اضافہ
اسلام آباد – بڑی عید اور بجٹ سے قبل پٹرول مہنگا کردیا گیا، پٹرول کی قیمت میں ایک روپے فی لیٹر اضافہ کردیا گیا، جبکہ ڈیزل کی قیمت موجودہ سطح پر برقرار ہے۔مٹی کا تیل 39پیسے مہنگا کردیا گیا۔ وزارت خزانہ نے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا نوٹی فکیشن جاری کر دیا، پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہوگا۔وزارت خزانہ کے نوٹیفکیشن کے مطابق 1 روپے فی لیٹر اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 253روپے 63 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق ڈیزل کی قیمت 254روہے 64 پیسے فی لیٹر برقرار ہے۔وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ اوگرا اور متعلقہ وزارتوں کی سفارشات کی روشنی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔مٹی کے تیل کی قیمت میں 39 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا ہے جس کے مطابق مٹی کے تیل کی نئی قیمت 165

روپے 4 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔

حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا جبکہ ڈیزل کی قیمت برقرار رکھی گئی ہے۔

حکومت کی جانب سے پیٹرول کی قیمت میں ایک روپے فی لیٹر اضافے کا اعلان کیا گیا ہے، ڈیزل کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔

پیٹرول کی قیمت 252.63 روپے سے بڑھ کر 253.63 روپے فی لیٹر ہوگئی ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق ڈیزل کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے اور ڈیزل کی قیمت 254.64 روپے فی لیٹر پر برقرار ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل ذرائع کی جانب سے کہا گیا تھا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کا امکان ہے۔

اطلاعات کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 60 پیسے سے ایک روپے فی لیٹر کمی ہوسکتی ہے ، جس سے موجودہ قیمت 252.63 روپے سے کم ہو کر 251.63 روپے اور 251.63 روپے کے درمیان ہونے کا امکان ہے۔

ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 28 پیسے فی لیٹر تک کی کمی متوقع ہے جبکہ مٹی کا تیل اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمتوں میں معمولی اضافے کا امکان ہے، تاہم حتمی فیصلہ وزارت خزانہ اور وزیراعظم کی مشاورت سے کیا جائے گا۔

خیال رہے اوگرا کی جانب سے ہر 15 دن بعد پیٹرولیم نرخوں پر نظرثانی کی جاتی ہے، جس میں بین الاقوامی منڈی کے اعداد و شمار اور ملکی مالیاتی پالیسیوں کو مدِنظر رکھا جاتا ہے۔