سندھ ہائی کورٹ سکھر بنچ نے بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اینڈ سکل ڈویلپمنٹ خیرپور میرس کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر داخلہ محمد اعظم سہتو کی جانب سے یونیورسٹی انتظامیہ کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کی۔

خیرپور (رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ سکھر بنچ نے بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اینڈ سکل ڈویلپمنٹ خیرپور میرس کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر داخلہ محمد اعظم سہتو کی جانب سے یونیورسٹی انتظامیہ کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کی۔
درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر رسول بخش مہر نے یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر صفدر ابڑو اور خیرپور میرس کے ایک سیاسی ھائوس کے سیکریٹری اطلاعات ایوب ابڑو کے ذریعے درخواست گزار کی ملازمت کو مستقل کرنے کے لیے ایک کروڑ روپیہ رشوت طلب کی ۔ وائس چانسلر نے رشوت نہ دینے پر ملازمت سے برطرف کر دیا اور سیاسی گھرانے کے گروہ درخواست گزار کے خلاف انتقامی کارروائی کر رہے ہیں اور اسے فوجداری الزامات کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔
اسی طرح کی درخواست ایس ایس پی خیرپور سے بھی تحفظ کے لیے کی گئی ہے۔

درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے حال ہی میں بدنیتی کی بنیاد پر اشتہار جاری کیا اور کنٹریکٹ کی بنیاد پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایڈمیشنس کی اسامی کو دوبارہ بھرنا چاہتی ہے۔ درخواست گزار نےاستدعا کی کہ عدالت ان کی ملازمت کو ریگولر کرنے کا حکم جاری کرے۔

جناب جسٹس ذوالفقار علی سانگی اور جناب جسٹس عبدالحمید بھرگڑی پر مشتمل ڈویژنل بنچ نے کیس کو قابل سماعت قرار دیتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے عدالت میں طلب کر لیا۔

درخواست گزار محمد اعظم سہتو نے ذاتی طور پر اپنے کیس کا دفاع کیا، جبکہ ایڈووکیٹ منظور حسین لاڑک نے یونیورسٹی انتظامیہ کی نمائندگی کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار کو کنٹریکٹ کی بنیاد پر ریگیولر پوسٹ پر تعینات کیا گیا تھا۔
مسٹر جسٹس ذوالفقار علی سانگی نے ٹیکنیکل یونیورسٹی کی انتظامیہ پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ کنٹریکٹ کی بنیاد پر ریگولرآسامیاں پر نہ کی جائیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ کو چاہیے تھا کہ وہ درخواست گزار محمد اعظم سھتو، اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایڈمیشنز کو ان کے کنٹریکٹ میں توسیع دینے کے بجائے فوری طور پر ریگولر کر دیتی۔
یونیورسٹی کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار کو ریگولر کرنے کے لیے انہیں یونیورسٹی کے چانسلر کی اجازت درکار تھی، جس پر عدالت نے سخت برھمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے اجازت لینے کے لیے چانسلر کو خط کیوں نہیں لکھا؟ وکیل نے کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے حال ہی میں کنٹریکٹ کی بنیاد پر بھرتی کا اشتہار شائع کیا تھا۔
عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ٹیکنیکل یونیورسٹی خیرپور میں ریگولر پوسٹوں پر کنٹریکٹ کی بنیاد پر بھرتیوں پر فوری پابندی عائد کر دی۔
عدالت نے یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے درخواست گزار کی دائر کردہ درخواست خارج کرنے کی درخواست رد کرتے ہوئے درخواست گزار کو یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے جمع کرائے گئے موقف کا قانونی جواب تیار کرنے کا حکم دیتے ہوئے آئندہ سماعت پر کیس چلانے کا حکم دے دیا.