بیاد اعجاز رحمانی مشاعرہ کا انعقاد

کراچی :  نعتیہ شاعری میں اعجاز رحمانی اعلیٰ مقام رکھتے تھے۔ انہوں نے جو نعتیہ کلام کا اثاثہ چھوڑا ہے وہ ایک لازوال خزانہ ہے اور ہم سب کیلئے انعام ہے۔ یہ بات نارتھ کراچی میں بزم تقدیس ادب اور دارالارقم اسکول کے تعاون سے بیاد اعجاز رحمانی مشاعرے کے صدر امریکہ سے آئے ہوئے رفیع الدین راز نے کہا کہ اعجاز رحمانی کا خلا پورا ہونا نہ ممکن ہے۔ نعت گوئی میں ان کا ثانی نہیں ہے۔ مہمانِ خصوصی نیاز مندانِ کراچی کے چیئرمین اور معروف شاعر رونق حیات نے کہا کہ اعجاز رحمانی ایک صلاحیت اور اپنے شعبے میں مکمل عبور رکھتے تھے۔ انہوں نے جو شاعری کی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ وہ استاد الاساتذہ کی حیثیت رکھتے تھے۔ انہوں نے اپنا علم اپنے شاگردوں میں بھی منتقل کیا ہے۔ مہمانِ اعزازی معتر شاہجہاں پوری نے کہا کہ اعجاز رحمانی نہایت منکثر المجاز شخصیت کے مالک تھے۔ انہوں نے ہمیشہ انکساری کا مظاہرہ کیا۔ اسامہ رضی نے کہا کہ اعجاز رحمانی اور ان کی شاعری کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ اس موقع پر ایک مشاعرے کا بھی انعقاد کیا گیا جن شعراءنے اپنا کلام پیش کیا ان میں احمد سعید خان، خالد حسین خاموش، عمران شاد، حضرت نور تنہا، قرم آسی، خضر حیات، آفتاب زیدی، چاند علی، سید شائق شہاب، یاسر سعید صدیقی، تنویر حسن سخن، فخر اللہ شاد، صدیق راز، شاہین شمس زیدی، رضا حیدر زیدی، نظر فاطمی، اکرم رازی، افضل ہزاروی، واحد رازی، سعد الدین سعد، عتیق الرحمٰن عتیق، نور الدین نور، سیف الرحمٰن سیفی، عبدالمجید محور، سخاوت علی نادر، خالد میر، نسیم شیخ، شوکت اللہ جوہر، عبید اللہ ساگر، علی اوسط جعفری، فیاض علی فیاض، راشد نور، سید آصف رضا رضوی، چمن زیدی، رونق حیات اور صاحبِ صدر رفیع الدین راز نے اپنا کلام پیش کیا اور خوب داد وصول کی۔ احمد سعید خان نے بہت عمدہ میزبانی کے فرائض انجام دیئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں