میگا پراجیکٹس میں سکھر، روہڑی کے لئے بھی فنڈز رکھے جائیں گے، سید ناصر حسین شاہ

سکھر : سید ناصر حسین شاہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر سندھ بھر میں ترقیاتی کام کرائے جارہے ہیں،  سکھر تجارتی حب ہے، بلوچستان و پنجاب کے علاقے بھی لگتے ہیں، یونیورسٹیز اور اسپتال کے منصوبے تکمیل کے مراحل سے گزر رہے ہیں،  اسپورٹس کمپلیکس تعمیر ہونے سے انٹرنیشنل میچز کا انعقاد یوسکے گا، سندھ حکومت کے لئے رکاوٹیں پیدا کی جارہی ہیں، آئی جی سندھ کو تبدیل نہ کئے جانا ایک بڑا المیہ ہے،  پہلے حکومت بننے سے روکنے کی کوشش کی گئی، پھر وزیر اعلی سندھ کی تبدیلی کی باتیں کی گئیں، گورنر راج کا بھی کہا گیا، اب آئی جی کے ایشو کو متنازع بنایا گیا، آئی جی کو مخلصانہ مشورہ ہے کہ وہ چھٹیوں پر چلے جائیں،  ان کی پیٹھ تھپتھپانے والے ان کے خیر خواہ نہیں، اس تنازع کی وجہ سے امن و امان کی صورتحال بھی بگڑ رہی ہے،  پہلے 3 نام مانگے، حامی بھری اور اب مزید نام مانگے جارہے ہیں، جی ڈی اے اور ایم کیو ایم و دیگر نے مشورے دیے جس کے بعد معاملہ تعطل کا شکار ہے،  بڑی قربانیوں سے معاملات بہتر ہوئے، امن قائم ہوا، اب پھر بگڑ رہا ہے، ہم نے جو پہلا نام دیا اصولی طور پر اسے لگانا چاہیے،  پنجاب، کے پی کے، بلوچستان میں آئی جیز تبدیل ہورہے ہیں مگر سندھ میں نہیں ہورہا، یہ سندھ حکومت کو ڈسٹرب کررہے ہیں،  جب تک معاملہ حل نہیں ہوتا تب تک آئی جی چھٹی پر چلے جائیں، ٹریفک انجینیرنگ بیورو سے سروے کرایا جارہا ہے،  ٹریفک جام کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے جامعہ پلان بنایا جارہا ہے، مرغی، انڈہ اور اب قبر بھی وزیر اعظم کے ویژن میں شامل ہے، موجودہ آٹے کا بحران پورے ملک میں ہے، سندھ حکومت کا قصور نہیں،  وفاقی حکومت کی غلط پالیسیوں کا شاخسانہ ہے،
ہم نے اس سال 14 لاکھ ٹن کا ہدف مقرر کیا ہے،  حکومت نے جو گندم درآمد کی وہ اس وقت آئے گی جب ہماری گندم اترنا شروع ہوجائے گی، یہ بڑا احسان جتاتے ہیں کہ پاسکو سے سندھ کو گندم دی،  پاسکو ملک کا ادارہ ہے، جہاں ضرورت ہوتی ہے وہ دیتا ہے، یہ احسان نہیں ہے بلکہ دیگر صوبوں کو بھی دی ہے، ہماری کوشش ہے کہ بلدیاتی الیکشن وقت پر ہو،  تحریک انصاف کی طرح نہیں کرینگے، پنجاب میں تحلیل کرکے ایڈمنسٹریٹر لگادیے،  اختیارات دینے کی بعد کرتے ہیں مگر ادارے تحلیل کردیتے ہیں، دہرا معیار ہے، بلدیاتی الیکشن وقت پر ہونگے، مزید بااختیار بنائیں گے،  جی ڈی اے، تحریک انصاف اور ایم کیو ایم نے واویلا کیا،  2008 سے آج تک پی پی نے پولیس کو کب استعمال کیا،  کوئی ایک سیاسی کیس کی مثال دی جائے، پی پی ان باتوں پر یقین نہیں رکھتی، پی پی کے دور میں امن قائم ہوا، پہلے کانوائے چلتے تھے،  مشرف دور میں بھی امن و امان کی صورتحال خراب تھی، اب پھر معاملات کو وہی لیجانے کی کوشش کی جارہی ہے،  چئیرمین بلاول بھٹو نے ایم کیو ایم کو آفر دی تھی، ایم کیو ایم والے زیادہ بات کراچی یا حیدرآباد کی کرتے ہیں، میرپور خاص، سکھر ودیگر کی بات نہیں کرتے، کراچی کے لئے ہی پیکیج مانگ رہے ہیں، پہلے نواز شریف اے مانگتے تھے،  چئیرمین سے ایم کیو ایم والوں نے شکوہ کیا، جس پر بلاول بھٹو نے یہ آفر دی، مینگل گروپ، ایم کیو ایم، جنوبی پنجاب کے اراکین سمیت دیگر لوگ نالاں ہیں،  یہ تحریک انصاف کی حکومت کی نااہلی ہے، چین میں پھنسے پاکستانی طلباء کو واپس نہ لانے کا فیصلہ غلط ہے، چائنہ میں پھنسے ہوئے ہمارے بیٹے اور بیٹیاں ہیں، انہیں واپس لانا چاہیے، آئسولیشن وارڈ بنایا جائے، تاکہ چائنہ سے انہیں بلاکر رکھا جائے، 10 سے 15 دن تک انہیں رکھا جائے۔  انہیں واپس لانا ہماری ذمہ داری ہے، اس سے بری الذمہ نہیں ہوسکتے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں