یہ جنرل ضیاءالحق کا دور نہیں ہے جب گورنر اسمبلیاں توڑ سکتا تھا، گورنر اپنے چپڑاسی کا بوریا بستر گول نہیں کر سکتا، حکومت تو دور کی بات ہے : سعید غنی

کراچی  : سندھ کے وزیر اطلاعات و محنت سعید غنی نے کہا ہے کہ یہ جنرل ضیاءالحق کا دور نہیں ہے جب گورنر اسمبلیاں توڑ سکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ گورنر اپنے چپڑاسی کا بورا بستر گول نہیں کر سکتا ، حکومت تو دور کی بات ہے۔صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا ہے کہ آج کے آئین کے تحت تو گورنر اپنی گاڑی کے پیٹرول کے پیسے بھی نہیں دے سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم نہ چاہیں تو گورنر کی گاڑی بھی نہیں چل سکتی وہ اتنا بے بس ہیں۔سعید غنی نے کہا کہ گورنر صاحب صرف موجیں کرنے کے لئے وہ موجیں کریں ، گھومیں پھریں ، دوستوں کے ساتھ گپ شپ لگائیں، ان کے پاس کو ئی اختیار نہیںہے۔انہوں نے یہ بات ہفتے کے روز آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں جار ی ادبی میلے میں شرکت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔سعید غنی کا کہنا تھا کہ آئین پاکستان کے تحت صوبے کا چیف ایگزیکٹو وزیراعلیٰ ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ حلیم عادل شیخ کو موجودہ آئین پڑھنا چاہئے، پھر بات کرنی چاہئے۔سعید غنی نے کہا کہ ایم کیوایم کے ساتھ بات ہونی چاہئے۔ صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پی ٹی آئی کے اتحادی ان کی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے سخت نالاں ہیں، وہ کب تک پی ٹی آئی کے گناہوں کا نا کردہ بوجھ اپنے کاندھوں پر اٹھا کہ چلتے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف نے لوگوں کو بے روزگاری اور مہنگائی کے علاوہ کچھ نہیں دیا ، لوگ اب اس نالائق وفاقی حکومت سے تنگ آ چکے ہیں جس کا گناہ ان کے اتحادیوں کو بھی جا رہا ہوگا۔سعید غنی نے کہا کہ اگرپی ٹی آئی کے اتحادی اس گناہ سے چھٹکارہ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو انہیں چاہیے کے فالفور وفاقی حکومت کا ساتھ چھوڑ دیں تاکہ لوگ بھی انہیں دعائیں دیں اور وہ بھی لوگوں سے کہہ سکیں کہ اس حکومت نے جو مہنگائی اور بے روزگاری آپ کو دی ہے اسی بنا پر ہم نے اس حکومت کو چھوڑا ہے۔ سعید غنی نے مزید کہا کہ اگر ایم کیو ایم وفاقی حکومت کو چھوڑ کر سندھ حکومت کو جوائن کرے گی تو انہیں کا بینہ کا بھی حصہ بنایا جائے گا۔صوبائی وزیر اطلاعات سعید غنی نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا نام تبدیل کرنے کی کوشش کی مخالفت کی جائے گی ۔صوبائی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ پروگرام کا نام قانون سازی کے ذریعے رکھا گیا تھا ۔انہوں نے کہا سینٹ اور قومی اسمبلی نے اس قانون کو منظور کیا۔ سعید غنی نے واضح کیا کہ جس وقت یہ قانون سازی کی گئی اس وقت پارلیمنٹ میں جتنی بھی سیاسی جماعتیں تھیں انہوں نے نہ صرف اس نام کو بلکہ اس پروگرام کو اتفاق رائے سے منظور کیا تھا۔

صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ اب کوئی بھی حکومت اس نام کو تبدیل کرنا چاہتی ہے تو اسے آئین میں ترمیم کرنا ہوگی۔ ایک اور سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ چیئرمین نیب نے پی ٹی آئی کے اراکین کو کلین چٹ دے کر اور دیگر پارٹیوں کے لوگوں کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا۔ انسپیکٹر جنرل آف سندھ پولیس کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ سید کلیم امام چند وفاقی وزراءکی ایماءپر اپنی سیٹ پر بیٹھے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ انہیں سمجھ میں نہیں آ رہی کہ وفاقی حکومت کس چیز کا انتظار کر رہی ہے۔صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ اگر وہی تقریر جو کہ سید امام کلیم نے چند روز پہلے کی تھی کسی اور صوبے کے آئی جی یا کسی بیو روکریٹ نے کی ہوتی تو وزیراعظم یا اس صوبے کے وزیراعلیٰ کا رد عمل کچھ اور ہوتا۔لیکن چونکہ سندھ کو ایک سوتیلے صوبے کے طور پر برتاجاتا ہے لہٰذا کسی نے بھی کوئی کارروائی نہیں کی۔ایک اور سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ ان کے علم میں نہیں ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ نے اپنے حالیہ دورہ اسلام آباد میں جہانگیر ترین سے ملے ہیں۔صوبائی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ سندھ اسلام آباد میں صرف وزیراعظم عمران خان سے ملے تھے اور ان سے سندھ میں وفاق کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں اور وفاق کی طرف سے سندھ کو ملنے والے فنڈ کی تاخیر کے حوالے سے بات چیت کی۔دریں اثناءسندھ کے وزیراطلاعات نے آرٹس کونسل کراچی میں جاری ادبی میلے میں شرکت کے دوران بات کرتے ہوئے کیا کہ وہ جب بھی آرٹس کونسل آتے ہیں تو انہیں بیحد خوشی ہوتی ہے۔صوبائی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ آرٹس کونسل میں متواتر اس طرح کی سرگرمیوں کا انعقاد نہ صرف کراچی شہر کا ایک مثبت تصور اجاگر کرتا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ یہاں آنے والے نوجوانوں کو شہر کی نامی گرامی، ادبی اور دیگر شخصیات کے ساتھ میل جول کا موقع بھی ملتا ہے جس سے انہیں بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں