
سندھ کی مختلف یونیورسٹیوں کے اساتذہ، پروفیسرز اور وائس چانسلرز نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے ان پر سندھ کی سرکاری یونیورسٹیوں میں تعلیمی معیار گرانے کا الزام عائد کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ اور ان کی حکومت نے میرٹ کو نظرانداز کرتے ہوئے یونیورسٹیوں میں تقرریوں پر غیرمناسب دباؤ ڈالا، جس کے نتیجے میں نااہل افراد کو اہم عہدے دیے گئے۔
وزیراعلیٰ نے خود بھی کئی وائس چانسلرز، پروفیسرز اور انتظامی افسران کی تقرریاں کیں جو میرٹ لسٹ میں کم ترین درجے پر تھے، جبکہ اہل، ذہین اور قابل امیدواروں کو نظرانداز کرکے ان کے ساتھ ناانصافی کی گئی۔ اب وزیراعلیٰ کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ سندھ کی سرکاری یونیورسٹیوں کے نتائج اور کارکردگی سے ناخوشی کا اظہار کریں، جبکہ ان کی حکومت ان یونیورسٹیوں کو 35 ارب روپے کی فنڈنگ فراہم کر رہی ہے۔ درحقیقت، وزیراعلیٰ اور ان کی پارٹی کی حکومت نے اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں جو کچھ بویا ہے، وہی کاٹ رہے ہیں۔
کئی یونیورسٹیوں میں وزیراعلیٰ ہاؤس کے بااثر افسران اور سیاسی دوستوں نے اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا، جس کے نتیجے میں یونیورسٹیوں کے معیار کو شدید نقصان پہنچا۔ اس ساری تباہی کا ذمہ دار کوئی اور نہیں بلکہ خود وزیراعلیٰ مراد شاہ ہیں، جن کی پالیسیوں نے اعلیٰ تعلیم کے شعبے کو بدنام کر دیا ہے۔
“مسٹر بجاری” کون ہے؟
یہ نام ایک ایسے شخص کا ہے جس کے پیچھے وزیراعلیٰ ہاؤس کی مکمل پشت پناہی ہے۔ کئی سینئر پروفیسرز کے مطابق، مسٹر بجاری نے اپنے اثر و رسوخ کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے تقرریوں اور ٹھیکوں میں اپنی مرضی کے نتائج حاصل کیے ہیں۔
اساتذہ کے وزیراعلیٰ پر براہ راست تبصرے
اساتذہ کے غصے اور مایوسی کو دیکھیں:
“کوتاہ نظر اور متعصب ہیں، صرف انجینئرز سے خوش ہو سکتے ہیں، اس لیے این ای ڈی سے خوش ہیں۔ اگر ان انجینئرز نے کوئی ایک سائیکل یا سوئی بھی بنائی ہو، یا کوئی عالی شان بلڈنگ یا روڈ بنایا ہو تو ضرور بتائیں؟؟؟”
“اپنے دوستوں، کلاس میٹس اور ان کے دوستوں کو عہدے دینا کہاں کی میرٹ ہے؟ کیا یہ اقربا پروری (Nepotism) نہیں؟ میرٹ کو مار کر کیا توقع رکھتے ہیں؟ اس وزیراعلیٰ نے تو حد ہی کر دی! اپنی گرل فرینڈ (ایم این اے) کے رشتے دار کو، جو اسسٹنٹ پروفیسر تھا، وائس چانسلر بنا دیا، اور اب دوبارہ اسے وائس چانسلر بنانے کی تیاری ہو رہی ہے!”
“موجودہ حکومت نے ہر شعبے میں بدعنوانی کے دام بچھا دیے ہیں۔ کھلم کھلا ہر کام کے پیسے مانگے جاتے ہیں۔ کوئی ایک وزیر یا مشیر بتا دیجئے جو ایماندار ہو؟ ماضی میں تاج حیدر جیسے لوگ تھے، آج کوئی ایک بھی ہے؟؟؟”
“سندھ حکومت کی اپنی کارکردگی کیا ہے؟ کراچی کا کیا حال بنا دیا ہے؟”
سندھ کی اعلیٰ تعلیم کا یہ المیہ صرف ایک حکومتی ناکامی نہیں، بلکہ پورے صوبے کے مستقبل کے ساتھ کھیلنا ہے۔ جب تک میرٹ اور شفافیت کو ترجیح نہیں دی جاتی، سندھ کی یونیورسٹیاں اپنا وقار کبھی بحال نہیں کر پائیں گی۔
سینیئر پروفیسرز اساتذہ اور موجودہ اور سابقہ اکثر وائس چانسلر کا کہنا ہے کہ وزیر اعلی کا ناخوش ہونا بنتا نہیں ہے کیونکہ انہوں نے یونیورسٹیز کا خانہ خراب تو خود اپنے ہاتھ سے کیا ہے جو انہوں نے تقرریوں اور تعیناتیوں کا معیار گرایا ہے اس کا ذمہ دار کوئی اور نہیں خود وزیراعلی سید مراد علی شاہ ہیں انہوں نے تقرری کے لیے جو کمیٹی قائم کی جس طرح کے لوگ رکھے ان سے جو فیصلے کروائے اس کا نتیجہ تو یہی نکلنا تھا جو اآج سب کے سامنے ہے ہاں انہوں نے اربوں روپے یونیورسٹیز کو دیے ہیں لیکن ان اربوں روپے کو استعمال کرنے کے لیے جو لوگ رکھے اس کا بھی کوئی ان سے پوچھ سکتا ہے کہ وہ لوگ کیا معیار پر پورے اترتے تھے اور ان کو رکھنے کا مقصد اور ایجنڈا کیا تھا سب لوگ جانتے ہیں اور باتیں کرتے ہیں کہ ایجنڈا کیا تھا اور ایسے لوگ کیوں رکھے جاتے ہیں جو ذہین قابل باصلاحیت لوگ ہیں ان کو مختلف بہانے بنا کر انٹرویوز میں یا کسی اور وجہ سے شارٹ لسٹ نہیں کیا جاتا نکال دیا جاتا ہے اور یونیورسٹی سے دور رکھا جاتا ہے یا کوشش کی جاتی ہے کہ وہ مقابلے میں شامل نہ ہو سکیں یا ان کے نام شارٹ لسٹ نہ ہو سکیں جان بوجھ کر رونا رویا جاتا ہے کہ قابل لوگ نہیں ہیں بس صلاحیت لوگ نہیں ہیں اس لیے چند گنے چنے لوگ ہیں اور پھر سرکاری افسران کو ایک مقصد کے تحت اب یونیورسٹیز اور بورڈز کے عہدوں پر لایا جا رہا ہے کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے سب جانتے ہیں اس کے مقاصد کیا ہیں اگر وزیراعلی واقعی معاملات کو سدھارنا چاہتے ہیں تو پہلے ان معاملات کو سنبھالیں جو ان کی ناک کے نیچے ہو رہے ہیں پہلے اپنے فیصلوں کو دیکھیں کہ کیسے فیصلے کر رہے ہیں اگر اپنے معاملات کو سنبھال لیں گے تو اگے بھی چیزیں بہتر ہی ہوں گی بات یہ ہے کہ لوگ سب کو جانتے ہیں لیکن ان سے بات نہیں کرتے لوگ ان سے ڈرتے ہیں کیونکہ ان کی تباہ کن نظروں سے اور انتقام پسند طبیعت سے لوگ ڈرتے بھی ہیں گھبراتے بھی ہیں اس لیے چپ رہتے ہیں لہذا وزیراعلی کو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے اپنے لوگوں کے فیصلوں پہ نظر رکھنی چاہیے خود سوچنا چاہیے کہ انہوں نے یونیورسٹی کے ساتھ کیا کیا ہے اب نہ خوش ہونے ناراض ہونے یا مایوس ہونے سے کیا فائدہ ۔ وزیراعلی کے بارے میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت

========================
35 ارب دینے والا وزیراعلی چار یونیورسٹیوں کو چھوڑ کر باقی یونیورسٹیوں سے مایوس کیوں ؟
























