
پاکستان میں پولیو ویکسین مہم کا چوتھا دن کامیابی سے گزر رہا ہے
اس سال کی تیسری پولیو ویکسین مہم کا چوتھا دن بھی کامیابی سے گزارا گیا ہے۔ اس مہم کے تحت ملک بھر کے تمام صوبوں میں 4 کروڑ 50 لاکھ سے زائد 5 سال سے کم عمر بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
حکومت اور صحت کے محکموں نے اس مہم کے لیے مکمل انتظامات کیے ہیں، جبکہ پولیو ورکرز ہر بچے تک رسائی یقینی بنانے کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں۔ اس بار بھی والدین سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو ویکسین ضرور پلائیں تاکہ ملک سے اس موذی بیماری کا خاتمہ ہو سکے۔
وزارت صحت کے ترجمان کے مطابق، “پولیو فری پاکستان” کا ہدف حاصل کرنے کے لیے یہ مہم انتہائی اہم ہے۔ گذشتہ مہمات کی کامیابیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے، اس بار بھی ملک بھر میں ویکسینیشن کے عمل کو موثر بنانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
پاکستان اور افغانستان دنیا کے ان آخری دو ممالک ہیں جہاں پولیو وائرس موجود ہے، لیکن مسلسل کوششوں سے اب پاکستان پولیو کے خاتمے کے قریب پہنچ رہا ہے۔
#پولیو_سے_آزادی #صحت_مند_پاکستان

میانوالی میں پولیو ویکسی نیشن مہم 2025 جاری
میانوالی میں اس سال کی تیسری قومی پولیو ویکسی نیشن مہم کا آغاز ہو چکا ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے خانہ بدوشوں کی بستی میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو کے قطرے پلا کر مہم کا باقاعدہ افتتاح کیا۔
ضلع بھر میں محکمہ صحت کی 1,404 پولیو ورکرز پر مشتمل ٹیمیں گھر گھر جا کر تقریباً 3 لاکھ 25 ہزار 830 بچوں کو ویکسین پلائیں گی۔ ساتھ ہی بچوں کو وٹامن اے کے قطرے بھی دیے جائیں گے۔
ڈپٹی کمشنر خالد جاوید گھرائیہ نے والدین سے اپیل کی کہ وہ پولیو ورکرز کا ساتھ دیں اور اپنے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلائیں، تاکہ اس موذی مرض سے بچا جا سکے۔
3 روز میں ملک بھر کے 81 فیصد بچوں کی ویکسینیشن مکمل
نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر (این ای او سی) برائے تخفیف پولیو نے کہا ہے کہ ابتدائی 3 دن کے دوران ملک بھر میں 81 فیصد بچوں کی ویکسینیشن مکمل ہو گئی ہے۔
این ای او سی کے مطابق پنجاب میں 85 اور سندھ میں 68 فیصد بچوں کی ویکسینیشن کی جا چکی ہے جبکہ کے پی میں 86 اور بلوچستان میں 74 فیصد بچوں کی ویکسینیشن مکمل ہو چکی ہے۔
ملک میں سال کے اختتام پر بھی پولیو کیس سامنے آگیا
نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے مطابق اسلام آباد میں اب تک 63 فیصد بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے پلائے جاچکے ہیں جبکہ آزاد کشمیر میں 93 اور گلگت بلتستان میں 91 فیصد بچوں کی ویکسینیشن مکمل ہوگئی ہے۔
این ای او سی کے مطابق پولیو کا سرحد پار پھیلاؤ روکنے کے لیے پاکستان افغانستان میں بیک وقت مہم جاری ہے۔
این ای او سی کا کہنا تھا کہ والدین سے گزارش ہے کہ پولیو ٹیموں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں، پولیو وائرس اب بھی ہمارے ماحول میں ایک سنگین خطرہ بن کر موجود ہے۔
نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کا یہ بھی کہنا ہے کہ 5 سال سے کم عمر بچوں کی ویکسینیشن ہر شہری کی قومی ذمے داری ہے، والدین سے اپیل ہے کہ ہر مہم میں اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے لازمی پلائیں۔
=======================
خبرنامہ نمبر 4155/2025
گوادر: ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) ڈاکٹر عبدالشکور نے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر عبداللطیف دشتی کے ہمراہ انسداد پولیو مہم کے پہلے کیچ اپ ڈے کے موقع پر مختلف پولیو ٹیموں کا دورہ کیا۔دورے کے دوران انہوں نے ٹیموں کی کارکردگی کا باریک بینی سے جائزہ لیا اور موقع پر موجود عملے کو ہدایت کی کہ وہ انکاری والدین اور غیر موجود بچوں کے تمام کیسز کو ہر صورت میں آئندہ دن تک مکمل کریں، تاکہ کوئی بھی بچہ پولیو کے قطرے پلائے بغیر نہ رہ جائے۔شدید گرمی اور سخت موسمی حالات کے باوجود پولیو ورکرز اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نہایت جذبے، لگن اور دیانتداری سے نبھا رہے تھے، جس پر اے ڈی سی نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ان کی محنت کو سراہا۔ انہوں نے موقع پر ٹیموں کی حوصلہ افزائی کی اور کہا کہ پولیو جیسے موذی مرض کے مکمل خاتمے کے لیے ایسے ہی عزم اور جذبے کی ضرورت ہے۔ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ہر بچے تک رسائی اور مکمل کوریج یقینی بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
خبرنامہ نمبر 4154/2025
سبی 29 مئی:ڈپٹی کمشنر سبی جہانزیب شیخ کی خصوصی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر سبی منصور علی شاہ نے انسداد پولیو مہم کی چیکنگ کے سلسلے میں گزشتہ روز سب تحصیل کٹ منڈھائی کا دورہ کیا کٹ مں ڈھائی میں ٹوٹل (11)ٹیمیں جن میں (9) موبائل ٹیم (1) فکس پوائنٹ اور(1) ٹرانزٹ پوائنٹ تشکیل دی گئی ہیں اسسٹنٹ کمشنر سبی نے جن بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے گئے انکے گھروں میں جا کرچیک کیا اور انسداد پولیومہم کے سلسلے میں مختلف ٹیموں کو ہدایت کی کہ وہ پولیو مہم میں تمام علاقوں میں بچوں کو پولیو کے قطرے پلائیں تاکہ ٹارگٹ مکمل ہو سکے اور بچوں کو پولیو جیسی موذی بیماری سے تحفظ حاصل ہو۔
خبرنامہ نمبر 4152/2025
سبی 29 مئی:ڈپٹی کمشنر سبی جہانزیب شیخ نے پولیو مہم کی چیکنگ کے سلسلہ میں گزشتہ روز ضلع کی مختلف یونین کونسلوں کا معائنہ کیا۔ ڈپٹی کمشنر نے ٹرانزٹ پوائنٹ اور فکس سائٹس پر خود کھڑے ہو کر بچوں کو اپنی نگرانی میں پولیو کے قطرے پلوائے اور مختلف مقامات پر جا کر انسداد پولیو کی ٹیموں کی کارکردگی کا جائزہ بھی لیا اس موقع پر این سٹاپ آفیسر ڈاکٹر عمران خان اور دیگر متعلقہ افسران بھی انکے ہمراہ تھے۔بات چیت کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ والدین اپنے بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے بچانے کیلئے پولیو کے دو قطرے لازمی پلوائیں اور ٹیموں کیساتھ تعاون کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ پولیو ایک مہلک بیماری ہے جسکو جڑ سے ختم کرنا ہماری اولین ترجیح ہے انہوں نے ٹیموں کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ اس مہم کے دوران ایک بچہ بھی پولیو کی خوراک سے محروم نہ رہے کیونکہ بچوں کو جسمانی معذوری سے محفوظ رکھنے کے لیے پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانا نہایت ضروری ہے۔
خبرنامہ نمبر 4151/2025
گوادر: ڈپٹی کمشنر گوادر حمود الرحمٰن کی خصوصی ہدایت پر انسداد پولیو مہم کے تیسرے روز کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم اجلاس ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ڈاکٹر عبدالشکور کی صدارت میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر عبداللطیف دشتی کے ہمراہ منعقد ہوا۔اجلاس میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے نمائندے ڈاکٹر ظفر اقبال، ڈی ایس ایم پی پی ایچ آئی ڈاکٹر مرشد دشتی، کمیونٹی کمیونیکیشن کے نمائندے شے صغیر سمیت دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔ شرکاء نے انسداد پولیو مہم کے دوران اپنی اپنی فیلڈ کارکردگی رپورٹس اجلاس میں پیش کیں۔اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ انسداد پولیو مہم کی مجموعی کارکردگی اطمینان بخش رہی ہے اور مقررہ اہداف بڑی حد تک حاصل کیے جا چکے ہیں، تاہم بعض چیلنجز بدستور موجود ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 28 والدین کی جانب سے پولیو ویکسین سے انکار کیا گیا، جبکہ اسکولوں کی تعطیلات کے باعث متعدد بچے گھروں میں موجود نہ ہونے کی وجہ سے قطرے پلانے سے رہ گئے۔مزید برآں، مہم کے دوران پولیو ٹیموں نے پولیس اور سیکیورٹی تعاون کی کمی سے متعلق تحفظات کا اظہار کیا، جس پر متعلقہ حکام نے نوٹس لیتے ہوئے فوری اقدامات کی یقین دہانی کرائی۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر عبدالشکور نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پولیو جیسے مہلک مرض کے مکمل خاتمے کے لیے تمام اداروں کا باہمی تعاون ناگزیر ہے۔ انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو زندگی بھر کی معذوری سے بچانے کے لیے پولیو ویکسین ضرور پلوائیں اور قومی مہم کا ساتھ دیں۔
خبرنامہ نمبر 4146/2025
نصیرآباد۔۔ڈپٹی کمشنر نصیر آباد منیر احمد خان کاکڑ نے کہا ہے کہ ایوننگ اجلاس کا مقصد پولیو مہم کے دوران درپیش مسائل کا تدارک کرنا ہے اس لیے تمام یو سی ایم اوز اور ایریا انچارج پولیو مہم کی کامیابی کو یقینی بناتے ہوئے اپنے فرائض صحیح معنوں میں سرانجام دیں سیکیورٹی سمیت دیگر ایشوز کو حل کرنے کے لیے ضلعی انتظامیہ اپنی معاونت کو یقینی بنائے گی ان خیالات کا اظہار انہوں نے انسداد پولیو مہم کے سلسلے میں تیسرے روز ایوننگ جائزہ اجلاس کی صدارت کے دوران بات چیت کرتے ہوئے کیا اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر ڈیرہ مراد جمالی سلیم کاکڑ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر عبدالمنان لاکٹی این سٹاف ڈاکٹر یاسین داجلی کامنیٹ کے صدام حسین ڈبلیو ایچ او کے ڈاکٹر یاسر پی پی ایچ آئی کے ڈی ایس ایم فیصل اقبال کھوسہ تنویر احمد بلیدی ثنا اللہ چکھڑا عبید اللہ پندرانی ڈپٹی کمشنر کے پی ایس منظور شیرازی سکندر علی گورشانی سیکیورٹی انچارج یو سی ایم اوز ایریا انچارج سمیت دیگر پولیو ورکرز موجود تھے جنہوں نے تیسرے روز پولیو مہم کی کارگردگی کے حوالے سے آگاہی فراہم کی۔
نیجیریا کی ریاست اداماوا میں 1.4 ملین بچوں کو پولیو کے خلاف ویکسین دی جا رہی ہے!
اداماوا حکومت نے پولیو کے خلاف بڑے پیمانے پر مہم شروع کی ہے، جس کے تحت 14 لاکھ بچوں کو محفوظ اور مؤثر ویکسین فراہم کی جا رہی ہے۔ یہ اقدام صحت عامہ کے تحفظ اور مستقبل کے نسلوں کو پولیو جیسی مہلک بیماری سے بچانے کی ایک اہم کوشش ہے۔
اللہ تعالیٰ حکومت، ہیلتھ ورکرز اور تمام شراکت داروں کے اس نیک کام میں آسانیاں پیدا فرمائے۔ آمین!
خوش رہیں، صحت مند رہیں! 😊
نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (این ای او سی) کے مطابق ابتدائی 2 روز کے دوران ملک بھر میں 56 فیصد بچوں کی ویکسینیشن مکمل ہوئی۔
ان 2 دنوں میں پنجاب میں 60 فیصد، سندھ میں 47 فیصد، خیبر پختون خوا میں 60 فیصد، بلوچستان میں 53 فیصد بچوں کی ویکسینیشن کی گئی۔
گزشتہ 2 دن میں اسلام آباد میں 46 فیصد، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں 64 فیصد بچوں کو ویکسین دی جا چکی ہے۔
بلوچستان بھر میں انسداد پولیو مہم تیسرے روز بھی جاری
نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے مطابق پاکستان اور افغانستان میں یہ پولیو مہم بیک وقت جاری ہے، پولیو وائرس کا سرحد پار پھیلاؤ روکنے کے لیے ہم آہنگ مہمات ضروری ہیں۔
این ای او سی کا کہنا ہے کہ والدین سے گزارش ہے کہ پولیو ٹیموں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں، پولیو وائرس اب بھی ہمارے ماحول میں ایک سنگین خطرہ بن کر موجود ہے۔
نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کا یہ بھی کہنا ہے کہ 5 سال سے کم عمر بچوں کی ویکسینیشن ہر شہری کی قومی ذمے داری ہے، والدین سے اپیل ہے کہ ہر مہم میں اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے لازمی پلائیں۔























