
بتایا جاتا ہے کہ وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ صوبے کی پبلک یونیورسٹیز کی کارکردگی سے زیادہ خوش نہیں ہیں ان کے پاس جو رپورٹس ا رہی ہیں وہ تسلی بخش نہیں ہیں اور انہیں کافی تشویش ہے اور انہوں نے مختلف یونیورسٹیز کے بارے میں عدم اطمینان کا اظہار بھی کیا ہے اور ان کی کارکینی کو بہتر بنانے کے لیے مطالبہ حکام کو ہدایات بھی دی ہیں وزیر اعلی اس بات پر بھی ناخوش ہیں کہ صوبہ ان یونیورسٹیز کو 35 ارب روپے فراہم کرتا ہے لیکن اس کا اؤٹ پٹ کچھ نہیں ہے نتائج جس طرح ہونے چاہیے ویسے نہیں ہیں اور وزیراعلی کی توقعات کے برعکس معاملہ چلائے جا رہے ہیں جس پر وزیراعلی کو بالکل بھی خوشی نہیں ہے اور وہ چار یونیورسٹیوں کو چھوڑ کے باقی یونیورسٹیوں سے سخت مایوس اور دلبرداشتہ بتائے جاتے ہیں ان کی پوری کوشش رہی ہے کہ یونیورسٹیز کی کارکردگی میں بہتری ائے لیکن ابھی تک ان کی توقعات پوری نہیں ہو سکی ہیں اب انہوں نے سندھ اسمبلی سے مختلف معاملات پر قانون سازی بھی کاروائی ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ انے والے وقت میں چیزیں بہتری کی جانب اگے بڑھیں گی
===============
وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ میں جامعات کے لیے سب سے زیادہ ترقیاتی بجٹ مختص کیا گیا ہے جو کہ 35 ارب روپے ہے جبکہ مزید 8 ارب روپے ترقیاتی منصوبوں کے لیے رکھے گئے ہیں۔ یہ فنڈنگ باقی تینوں صوبوں اور وفاقی حکومت کی مشترکہ رقم سے زیادہ ہے۔حالیہ بھارت کے ساتھ کشیدگی کے دوران عوام کی طاقت اور ٹیکنالوجی نے مل کر اہم کردار ادا کیا اور نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ قومی سرمایہ کاری اور دفاع میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔وہ سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی)کے زیرِ اہتمام اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری(ایف پی سی سی آئی)کے اشتراک سے منعقدہ “پہلی سندھ اسٹارٹ اپس نمائش 2025” سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر مختلف ممالک کے سفارتکار، معروف صنعتکار اور ماہرین تعلیم بھی موجود تھے۔وزیر اعلی نے اس نمائش کو صرف ایک تعلیمی تقریب قرار نہیں دیا بلکہ اسے ایک پیغام قرار دیا کہ سندھ جدت، صلاحیت اور مستقبل میں سرمایہ کاری کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نمائش کئی ماہ کی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے جو “کلاس رومز اور بورڈ رومز، تحقیق اور عملی دنیا کے اثرات کے درمیان ایک مضبوط پل” کی حیثیت رکھتی ہے۔وزیر اعلی سندھ نے اعلی تعلیم کو مضبوط بنانے کے حوالے سے سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے وژن اور عزم کو سراہا۔























