کراچی میں طویل لوڈشیڈنگ نے کاروبار تباہ کر دیا، تاجر برہم

کراچی: کراچی کے چھوٹے تاجروں اور دکانداروں نے کہا ہے کہ کی الیکٹرک (KE) کی طویل لوڈشیڈنگ نے ان کے کاروبار کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں گھنٹوں بلکہ بعض اوقات دن میں کئی بار بجلی کی کٹوتی سے کاروباری زندگی مفلوج ہو چکی ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ رات کو تو نیند خراب ہوتی ہے اور دن میں کام کرنا ممکن نہیں رہتا۔

بجلی پر انحصار کرنے والے کاروبار تباہ
بہت سے چھوٹے کاروبار، جن میں کولڈ اسٹوریج، سلائی کے کام، پرنٹنگ پریس اور ریستوراں شامل ہیں، بجلی پر مکمل انحصار کرتے ہیں۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ KE انتظامیہ نے نہ صرف ان کی کوئی مدد نہیں کی بلکہ انہیں ہر ممکن طریقے سے ہراساں کیا ہے۔ ایک دکاندار نے کہا، “ہماری دکانیں بند ہو رہی ہیں، گاہک کم آ رہے ہیں، اور KE والوں کو کوئی پرواہ نہیں۔ ہم ان کے ٹاپ مینجمنٹ کو برا بھلا کہنے پر مجبور ہیں۔”

سیاسی جماعتوں اور حکومت سے سوالات
عوام اور کاروباری طبقہ سیاسی جماعتوں اور حکومت سے پوچھ رہا ہے کہ ان کا کیا اقداماتی منصوبہ ہے؟ گزشتہ انتخابات میں سیاستدانوں نے وعدے کیے تھے کہ سستی بجلی فراہم کی جائے گی اور غریب طبقے کو 300 یونٹ تک مفت بجلی دی جائے گی، لیکن صورتحال اس کے برعکس ہے۔ اگرچہ حکومت سولر پینلز فراہم کر رہی ہے، جو ایک اچھا قدم ہے، لیکن سولر سسٹم کی قیمتیں، بیٹریاں اور تاروں کی بڑھتی ہوئی لاگت نے اسے بھی عام آدمی کی پہنچ سے دور کر دیا ہے۔

ڈیمانڈ اور سپلائی کا فرق، لائن لاسز اور چوری
KE انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ شہر میں بجلی کی طلب اور سپلائی میں بڑا فرق ہے، جس کی وجہ سے لوڈشیڈنگ ناگزیر ہو جاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ لائن لاسز اور بجلی کی چوری کے واقعات بھی نظام کو متاثر کر رہے ہیں۔ KE کے ترجمان کے مطابق، “ہم غیرقانونی کنکشنز اور بل ادا نہ کرنے والے صارفین کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں، لیکن اس مسئلے کا حل عوامی تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔”

حکومت سے فوری اقدامات کی اپیل
کاروباری حلقوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت فوری طور پر کراچی کے چھوٹے کاروباروں کو بچانے کے لیے اقدامات کرے۔ تجاویز میں شامل ہیں:

KE کو ہدایت کی جائے کہ وہ کاروباری علاقوں میں لوڈشیڈنگ کم کرے۔

سولر انرجی کے لیے سبسڈی بڑھائی جائے تاکہ چھوٹے تاجر اسے برداشت کر سکیں۔

بجلی چوری روکنے کے لیے سخت قوانین بنائے جائیں۔

KE کے نظام کو جدید بنایا جائے تاکہ لائن لاسز کم ہو سکیں۔

اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو کراچی کا کاروباری مرکز مزید مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے، جس کا اثر پورے ملک کی معیشت پر پڑے گا۔