
سندھ کے مختلف شہروں اور دیہاتوں میں پولیو مہم کا پہلا دن کیسا رہا؟…جیوے پاکستان ڈاٹ کام کی خصوصی رپورٹ
ڈپٹی کمشنر ٹھٹھہ نے ضلعی کے مختلف علاقوں کا اچانک دورہ ، جاری پولیو مہم کا جائزہ –
ٹھٹھہ(رپورٹ علی گوہر قمبرانی): ڈپٹی کمشنر ٹھٹھہ منور عباس سومرو نے جاری انسداد پولیو مہم کے پہلے دن پر یونین کونسل گجو کے مختلف گاؤں اور دیہاتوں کا اچانک دورہ کرکے گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کے عمل کی نگرانی کی اور پولیو ٹیموں کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ بھی لیا۔ دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے پولیو ٹیموں سے ملاقات کی اور ان کی کارکردگی، درپیش چیلنجز اور کوریج کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے پولیو ورکرز کی محنت، جذبہ اور عزم کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ٹیمیں انتہائی شدید گرم موسم میں قومی خدمت کے جذبے کے تحت نہایت اہم فریضہ انجام دے رہی ہیں ، جنہیں ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔ ڈپٹی کمشنر منور عباس سومرو نے والدین پر زور دیا کہ وہ پولیو ویکسینیشن کے حوالے سے غفلت نہ برتیں ، پولیو ایک خطرناک اور موذی مرض ہے جو بچوں کی زندگی کو معذوری میں بدل سکتا ہے، جس کا واحد مؤثر حل پولیو ویکسین ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ والدین ہر مہم کے دوران اپنے پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلائیں تاکہ انہیں ہمیشہ کی معذوری سے بچایا جا سکے.
===================
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پولیو کے خاتمے کیلئے اس کو سیاست کی نظر نہیں کرنا چاہیے، پوری دنیا نے اسی ویکسین سے اس موذی مرض سے نجات حاصل کی۔
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیو کے خلاف آج تیسری ملک گیر مہم شروع کر رہے ہیں۔
مصطفیٰ کمال نے بتایا ہے کہ آج دوسری مرتبہ افغانستان کے ساتھ مل کر ایک ہی وقت پر انسداد پولیو مہم چلا رہے ہیں، پولیو کے خاتمے کے لیے اس کو سیاست کی نظر نہیں کرنا چاہیے۔
پولیو کی ویکسین میں کوئی ملاوٹ نہیں ہے: مصطفیٰ کمال
وفاقی وزیرِ نے کہا ہے کہ والدین سے درخواست ہے کہ ذہن سے شکوک نکال دیں، انکاری والدین سوچیں کہ حکومت اپنے بچوں کےمفاد کےخلاف کام نہیں کرسکتی، ہم سب اپنی عاقبت کیوں خراب کریں گے۔
انہوں نے بتایا ہے کہ پوری دنیا نے اسی ویکسین سے اس موذی مرض سے نجات حاصل کی، منفی باتیں دماغ سے نکال کر بچوں کو اس لاعلاج مرض سے بچائیں، یہی پولیو وائرس کا واحد حل اس سے بچاؤ ہے، پولیو بیماری لگ گئی تو نتیجہ زندگی بھر کی معذوری ہے۔
اپنے خطاب کے بعد وفاقی وزیر قومی صحت مصطفیٰ کمال نےبچوں کو پولیو کےقطرے پلا کر مہم کا آغاز کیا۔
انسداد پولیو مہم میں 5 سال سے کم عمر ساڑھے 4 کروڑ سے زائد بچوں کوانسدادپولیو قطرے پلائے جائیں گے۔
ملک بھر میں 4 لاکھ سےزائد ہیلتھ ورکرز گھر گھر جا کر بچوں کو انسداد پولیو قطرے پلائیں گے۔
کراچی کے 12 مقامات میں سے 11 میں وائرس ماحول میں ہے، ابھی 10 کیسز ہیں، اگر قطرے نہ پلا رہے ہوتے تو ہزاروں کیس ہوتے۔
وزیر صحت کا کہنا تھا کہ انسداد پولیو مہم میں 4 کروڑ 58 لاکھ بچوں کو انسداد پولیو قطرے پلائے جائیں گے، قندھار کے علاوہ باقی افغانستان میں گھر گھر قطرے پلائے جارہے ہیں، قندھار میں محلے کی مسجدوں میں بچوں کو بلاکر قطرے پلائے جاتے ہیں، جس طرح مہم جاری ہے افغانستان بھی جلد پولیو فری ہوسکتا ہے، کہیں ایسا نہ ہوکہ افغانستان میں بھی پولیو ختم ہو اور پاکستان اکیلا رہ جائے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس کے 5 کیسز خیبرپختونخوا، 4 سندھ اور ایک پنجاب سے سامنے آئے ہیں، گزشتہ سال 63 ہزار بچے پولیو کے بچاؤ کے قطرے پینے سے رہ گئے تھے، جو قطرے نہیں پلاتے اپاہج ہونے والے بچوں کا حساب بھی انہی والدین سے ہوگا، قطرے پلانے سے انکار کرنیوالے والدین قیامت میں اللہ کو جواب دیں گے، بھارت کی طرح پولیو بھی دشمن، اس کے خلاف بھی قوم سیسہ پلائی دیوار بنے۔
وفاقی وزیر صحت کا مزید کہنا تھا کہ پولیو کے قطرے غیرمحفوظ ہوتے تو پورے یورپ کو نقصان پہنچ چکا ہوتا، ہم چاہتے ہیں پاکستان اور افغانستان دونوں اکٹھے پولیو فری ملک بنیں، پولیو ویکسین سے انکار پر والدین کے خلاف مقدمہ درج نہیں کرائیں گے، والدین خود احساس کریں اور بچوں کو ذمہ داری سے قطرے پلائیں، انکاری والدین کو گرفتار نہیں بلکہ ان سے بات کریں گے۔
=======================
سندھ بھر میں آج سے انسدادِ پولیو مہم کا آغاز
کراچی سمیت سندھ بھر میں آج سے انسداد پولیو مہم کا آغاز کردیا گیا۔
ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے مطابق 7 روزہ انسدادِ پولیو مہم یکم جون تک جاری رہے گی۔
ایمرجنسی آپریشن سینٹر نے بتایا کہ انسدادِ پولیو مہم کے دوران سندھ بھر میں 80 ہزار سے زائد تربیت یافتہ پولیو ورکرز بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائیں گے۔
پولیو کا خاتمہ ہم سب کی قومی ذمے داری ہے: مراد علی شاہ کا ارکانِ اسمبلیوں کو خط
ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے مطابق سندھ بھر میں انسدادِ پولیو ٹیموں کی سیکیورٹی کےلیے 25 ہزار سے زائد اہلکار تعینات ہوں گے۔
ایمرجنسی آپریشن سینٹر نے بتایا کہ کراچی میں 19 ہزار سے زائد پولیو ورکرز مہم کا حصّہ ہوں گے جن کی سیکیورٹی کےلیے 6 ہزار سے زائد سیکیورٹی اہلکار تعینات ہوں گے۔
ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے مطابق کراچی میں 20 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
ایمرجنسی آپریشن سینٹر نے بتایا کہ کراچی میں 19 ہزار سے زائد پولیو ورکرز مہم کا حصّہ ہوں گے جن کی سیکیورٹی کےلیے 6 ہزار سے زائد سیکیورٹی اہلکار تعینات ہوں گے۔
ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے مطابق رواں سال پاکستان میں اب تک پولیو کے 10 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں اور 10 میں سے پولیو کے 4 کیس سندھ سے رپورٹ ہوئے۔
ایمرجنسی آپریشن سینٹر نے والدین سے اپیل کی ہے کہ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلوائیں۔























