جو والدین حکومت سندھ کی پولیو ٹیموں پر اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں ان کے لیے نئی حکمت عملی اور پلان تیار ؟

جو والدین حکومت سندھ کی پولیو ٹیموں پر اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں ان کے لیے نئی حکمت عملی اور پلان تیار ؟

ملک بھر میں ساڑھے چار کروڑ بچوں کو پولیو ویکسین کے قطرے پلانے کی مہم 26 مئی سے زور و شور سے شروع ہو رہی ہے اور وہ والدین جو پولیو ٹیموں کے اوپر اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں ان کے لیے نئی حکمت عملی اور پلان تشکیل دیا گیا ہے سندھ میں بھی ایسے والدین ایک چیلنج بنے ہوئے ہیں جو اپنے بچوں کو پولیو ویکسین کے قطرے پہ لانے کے حوالے سے پولیو ٹیموں پر عدم اعتماد کرتے ہیں اور بار بار ان کے گھروں پر جانے والی پولیو ٹیموں کو بھی واپس بھیج دیا جاتا ہے حکومت سندھ نے مجبوری کا راستہ اختیار کرتے ہوئے پولیس کی مدد لے لی ہے اور اب ان گھروں اور والدین کو پولیس کے ذریعے اپنے بچوں کو پولیو کی ویکسین کے قطرے پہ لانے پر امادہ کرنے کی کوشش کی جائے گی بصورت دیگر تھانے بلایا جائے گا ایسے والدین کے بارے میں پتہ چلا ہے کہ جب پولیو رضاکار ان کے پاس جاتے ہیں تو وہ پولیو کی ویکسین پر عدم اعتماد کر دیتے ہیں اور طرح طرح کے سوال اٹھاتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ وہ خود اپنے بچوں کو کسی ہسپتال سے یا ڈاکٹرز سے پولیو کے ویکسین کے قطرے پلائیں گے گویا وہ حکومت کی سرکاری پولیو ٹیموں کی ویکسین پر اعتماد نہیں رکھتے اور ان پر اعتبار نہیں کرتے اس لیے ان کی موت کو واپس بھیج دیتے ہیں ایسا صرف گنجان اباد علاقوں میں یا کچی بستیوں میں نہیں ہو رہا بلکہ شہری علاقوں کے پوش علاقوں میں بھی ایسے کیسز سامنے ائے ہیں خاص طور پر کراچی کے پوش علاقوں میں ایسے والدین موجود ہیں جو یا تو پولیو ٹیموں کی ویکسین پر اعتبار کرنے کے لیے تیار نہیں یا اپنے مذہبی اور دینی رجحانات کی وجہ سے ان پولیو ٹیموں کے ساتھ تعاون نہیں کرتے بعض مواقع پر پولیس اہلکاروں کی موجودگی میں بھی ٹیموں کو کافی بحث مباحثے کے بعد واپس لوٹنا پڑا یا پھر علاقے کے معززین کو بلانا پڑا بعض علاقوں میں سیاسی رہنماؤں اور منتخب عہدے داروں نے بھی مداخلت کی لیکن یہ بات سچ ہے کہ پولیو رضاکاروں کو کافی مزاحمت اور مشکلات کا سامنا ہے اور لوگ ان کی بات سننے کے لیے تیار نہیں ہوتے اور بحث کرتے ہیں یا ان کو صاف ہونا کر دیتے ہیں جب کہ پولیو رضاکار ان کو بتاتے ہیں کہ یہ ان کے فائدے میں ہے اور بچوں کی زندگی کا معاملہ ہے پورے معاشرے کا معاملہ ہے اپ اس میں غفلت نہیں برت سکتے اس میں لاپرواہی خطرناک ہے اور یہ تو اپنے بچوں کا مستقبل خود اپنے ہاتھوں سے تباہ کرنے والی بات ہے اس سلسلے میں کافی میڈیا کیمپین اور مہم بھی چلائی جا چکی ہے اور ہر دفعہ اس بارے میں شور غوغا کیا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود ایسے لوگوں کا پرنالہ وہیں بہہ رہا ہے یہ لوگ بات سننے اور سمجھنے کو تیار نہیں ہیں اب ان کو دوسرے طریقے سے سمجھانے اور پیشانی کی ضرورت ہے وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ بھی واضح کر چکے ہیں کہ اس حوالے سے زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل کیا جائے گا صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عزرا فضل کے چوہو بھی اس حوالے سے کافی عزم کا اظہار کر چکی ہیں اور کراچی سمیت مختلف شہری علاقوں اور علاقوں میں اس حوالے سے زیرو انکار پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے ڈپٹی کمشنر کے ساتھ سختی سے پیش انے کی ہدایات بھی سامنے ا چکی ہیں کمشنرز نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو اس حوالے سے پابند کیا ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں سختی کریں اور کسی بھی قسم کی غفلت لاپرواہی کا مظاہرہ برداشت نہیں کیا جائے گا خانہ بدوش خاندانوں پر بھی خصوصی توجہ دینے کے لیے کہا گیا ہے جو موسمی شدت کی وجہ سے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو جاتے ہیں اور ان کا کوئی ریکارڈ بھی نہیں ہوتا لہذا ان کی ابادیوں میں جائیں اور ان کے بچوں کو پولیو کے ویکسین کے قطرے پلانا یقینی بنائیں اس حوالے سے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں اور ان کو ٹاسک دیا گیا ہے ویسے تو ہر پولیو مہم کے بعد نتائج میں بہتری اتی ہے لیکن سال 2024 اور سال 2025 میں جو مقررہ اہداف تھے وہ توقعات کے برعکس رہے پچھلے سال تو یہ کہہ دیا گیا تھا کہ نگران حکومت کے دور میں پولیو ویکسین کے قطرے پہ لانے پر توجہ نہیں دی گئی اور ہماری محنت ضائع کر دی گئی لیکن اب وہ ساری محنت منتخب حکومت کے دور میں ہو رہی ہے لہذا کوئی معذرت قبول نہیں کی جائے گی نہ ہی کوئی عذر پیش کرنے کا جواز ہوگا اب تو نتائج پیش کرنے ہوں گے وہ بھی اہداف کے مطابق ۔ اس حوالے سے بتایا جاتا ہے کہ جن افسران اور رضاکاروں نے غفلت بھرتی یا ان کے علاقوں میں کیسز نمودار ہوئے ان کے خلاف کاروائی تعدیبی کاروائی ایکشن اور سختی برتنے کے معاملات کو عوام کے سامنے اجاگر نہیں کیا گیا جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ایسے افسران کے ساتھ حکومت نے کیا برتاؤ کیا ہے یقینی طور پر کچھ نہ کچھ تو احتساب کا عمل اپنے اندر بھی ہوتا ہوگا ہر ادارے کی طرح پولیو مہم کے رضاکاروں کے لیے بھی احتسابی عمل کافی سخت ہوگا لیکن اس کو لوگوں کے سامنے لانا بھی ضروری ہے ابھی بھی بہت سے سوالات ہیں جو 26 مئی سے شروع ہونے والی مہم کے حوالے سے لوگوں کے ذہن میں ہیں اللہ کرے کہ یہ مہم کامیابی سے ہمکنار ہو اور مطلوبہ اہداف عمدگی سے حاصل کیے جا سکیں اور ہمارا معاشرہ پولیو کہ وائرس سے نجات حاصل کر سکے یہ بہت خطرناک ہے پوری دنیا اس حوالے سے ہمارے بارے میں تشویش کا اظہار کر چکی ہے کہ اب صرف پاکستان اور افغانستان ہی رہ گئے ہیں جہاں ایک ساتھ مہم چلائی جا رہی ہے حال ہی میں ہم نے اپنے درینہ دشمن بھارت سے جنگ جیتی ہے اب ہمیں ایک اور دشمن پولیو وائرس کو ہرانا ہے اور اس کو شکست دینی ہے اور اس کے خلاف پوری قوم کو مل کر جیتنا ہے اس محاذ پر بھی پولیو وائرس کے جتنے جہاز حملہ آور ہوں گے ہمیں ان سب کو زمین بوس کرنا ہے ان کو گرانا ہے ان کو شکست فاش دینی ہے اور فتح مند ہونا ہے ہمیں اپنے مستقبل کو بچانا ہے اپنی نسلوں کے مستقبل کی خاطر ایک ہونا ہے متحد ہونا ہے اور پولیو وائرس کو پاکستان سے ناک اؤٹ کرنا ہے جو لوگ پولیو ویکسین کے قطرے پلانے سے انکاری ہیں ان کو سمجھانا ہے ان کو بتانا ہے کہ یہ ضروری ہے اس کے بغیر ہماری قوم پھولیوں کو شکست نہیں دے سکتی اگر ایک بچہ بھی رہ گیا ہے تو پھر دوبارہ پولیو وائرس اگے بڑھنا شروع ہو جائے گا ہمیں اپنی قوم کو پولیو وائرس سے بچانا ہے اپنے بچوں کو صحت مند بنانا ہے اس حوالے سے کوئی کوتاہی کوئی غفلت کوئی لاپرواہی قابل قبول نہیں نہ ہی اس کی اجازت ہے نہ ہی اس کی اس کو برداشت کرنا چاہیے اگر اپ کے ارد گرد اور اپ کے جاننے والوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جو اپنے بچوں کو پولیو ویکسین کے قطرے نہیں پلا رہے تو خدارا ان کو سمجھائیے ان کو راضی کیجئے ان کو اس کی افادیت اہمیت اور ضرورت سے ضرور خبردار کیجئے اس کے نقصانات سے خبردار کیجئے اور ان کو ہر حال میں راضی کریں کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو ویکسین کے قطرے اس مہم کے دوران پلائیں بلکہ ہر مہم کے دوران پلائیں یہ ان کے بچوں اور ملک کے بچوں کے مستقبل کا سوال ہے

سندھ میں 26 مئی سے پولیو مہم: نئے چیلنجز اور پیچھے رہ جانے والے بچوں کے سنگین سوالات

کراچی: ملک بھر میں ساڑھے چار کروڑ بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کی قومی مہم 26 مئی سے شروع ہو رہی ہے، لیکن سندھ بالخصوص کراچی میں والدین کا ایک بڑا طبقہ پولیو ٹیموں پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں۔ سوال یہ ہے کہ جو والدین حکومت سندھ کی پولیو ٹیموں پر اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں، ان کے لیے نئی حکمت عملی اور پلان کیا ہے؟

نااہل والدین یا ناکام حکومتی پالیسی؟
حکومت سندھ نے پولیس کے ذریعے انکار کرنے والے والدین کو دباؤ ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے، لیکن کیا یہ حل ہے؟ گزشتہ مہم میں سینکڑوں بچے ویکسین سے محروم رہ گئے۔ کیا ان بچوں کا کوئی ڈیٹا موجود ہے؟ کیا ان تک رسائی کے لیے کوئی مخصوص اقدامات کیے گئے ہیں؟ صرف پولیس کے بل بٹے سے اعتماد کیسے بحال ہوگا؟

شہری اور دیہاتی تقسیم: ایک ہی مسئلہ، دو مختلف چیلنجز
گنجان آباد کچی آبادیوں سے لے کراچی کے پوش علاقوں تک، والدین یا تو ویکسین کی افادیت پر شک کرتے ہیں یا مذہبی غلط فہمیوں کا شکار ہیں۔ کیا حکومت نے ان کے اعتراضات کا سائنسی اور مذہبی لحاظ سے جائزہ لیا ہے؟ کیا علماء اور ڈاکٹرز کی مشترکہ کمیٹی بنا کر ان کے شبہات دور کرنے کی کوشش کی گئی ہے؟

زیرو ٹالرنس پالیسی: کیا یہ تشدد کا راستہ ہے؟
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور وزیر صحت ڈاکٹر عزرا فضل چوہان نے “زیرو انکار” پالیسی کا اعلان کیا ہے، لیکن کیا یہ صرف دھمکیوں تک محدود ہے؟ گزشتہ مہموں میں جن افسران اور رضاکاروں کی غفلت سامنے آئی، ان کے خلاف کونسی کارروائی ہوئی؟ کیا احتساب کا کوئی ٹھوس نظام موجود ہے؟

خانہ بدوشوں کا المیہ: کیا ان کا کوئی ریکارڈ ہے؟
خانہ بدوش خاندانوں کے بچوں تک رسائی سب سے بڑا چیلنج ہے۔ کیا ان کی نقل و حرکت کو ٹریک کرنے کے لیے کوئی ڈیجیٹل نظام بنایا گیا ہے؟ یا ہر مہم میں یہی ہوتا رہے گا کہ یہ بچے ویکسینیشن سے محروم رہیں گے؟

2024-25 کے اہداف: کیا ہم ناکام ہو رہے ہیں؟
حکومت کے دعووں کے باوجود، پچھلی مہموں کے نتائج مایوس کن رہے۔ کیا اس کی ذمہ دار صرف نگران حکومت تھی؟ منتخب حکومت نے اب تک کیا اقدامات کیے ہیں؟ کیا صرف پریس کانفرنسز اور بیان بازی سے پولیو ختم ہو جائے گی؟

عالمی سطح پر شرمساری: کب ختم ہوگی؟
پاکستان اور افغانستان دنیا کے آخری ممالک ہیں جہاں پولیو وائرس موجود ہے۔ کیا ہم اپنی آنے والی نسلوں کو اس لعنت سے بچا پائیں گے؟ یا ہر سال یہی دہرایا جاتا رہے گا کہ “اب کوئی معذرت قبول نہیں ہوگی”؟

آخری بات: کیا ہم واقعی سنجیدہ ہیں؟
پولیو کے خلاف جنگ صرف ویکسین کی بوتلوں سے نہیں، بلکہ عوامی شعور، حکومتی دیانتداری اور احتساب سے جیتی جائے گی۔ کیا ہم اس کے لیے تیار ہیں؟

نوٹ: اگر آپ کے علاقے میں کوئی بچہ ویکسین سے محروم رہ جائے، تو فوری طور پر ہیلپ لائن 1166 پر رابطہ کریں۔ یہ صرف ایک ویکسین نہیں، ہماری قومی ذمہ داری ہے۔