
لاہور: اسٹیڈیم میں آج رات کچھ ایسا جادو ہوا کہ لاہور قلندرز کے مداحوں کے دل پھڑک اٹھے! اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف کوالیفائر 2 میں کوسل پریرا (61)، محمد نعیم (50) اور شفان شاہ آفریدی (3 وکٹیں) کی زبردست کارکردگی نے قلندرز کو پی ایس ایل 2025 کے فائنل میں پہنچا دیا۔
پہلی اننگز: نعیم اور کوسل کی تھرڈ ڈگری
قلندرز نے بیٹنگ کرتے ہوئے 202 رنز کا بڑا ہدف بنایا۔ محمد نعیم نے صرف 25 گیندوں پر 50 رنز بنا کر یونائیٹڈ کے بولرز کو ہلا کر رکھ دیا۔ ان کے کور ڈرائیوز اور سٹریٹ ڈرائیوز دیکھنے والوں کے لیے ایک دیدنی تماشا تھا۔ پھر کوسل پریرا نے اپنی خطرناک بیٹنگ سے اسلام آباد کے حوصلے پست کر دیے۔ انہوں نے 35 گیندوں پر 61 رنز بنائے، جن میں نعیم شاہ پر لگائے گئے دو زبردست چھکے شامل تھے۔
دوسری اننگز: آفریدی اور سلمان مرزا کی تباہ کن بولنگ!
جواب میں اسلام آباد یونائیٹڈ کا آغاز ہی تباہ کن رہا۔ شفان شاہ آفریدی نے پہلی ہی گیند پر محمد شہزاد کا اسٹمپ اڑا دیا! سلمان مرزا نے بھی کمال کیا اور صہیبزادہ فرحان کو اپنی ہی گیند پر بولڈ کر دیا۔ پاور پلے تک یونائیٹڈ 4 وکٹوں پر صرف 33 رنز بنا پائی تھی۔
سلمان علی کی بہادری مگر ناکامی
صرف سلمان علی (33 رنز) نے کچھ مزاحمت کی، لیکن رشاد حسین کی لیگ اسپن نے انہیں بھی پویلین بھیج دیا۔ آخرکار، یونائیٹڈ کی ٹیم 107 رنز پر ہی الٹ گئی اور قلندرز نے 95 رنز سے شاندار فتح حاصل کی۔
فائنل کا مقابلہ: اب لاہور قلندرز کا مقابلہ کوئٹہ گلیڈیئٹرز سے ہوگا۔ کیا شفان اور کمپنی چیمپئن بن جائیں گے؟ انتظار رہے!
===================
ہم ٹائٹل جیتیں یا نہ جیتیں کھلاڑیوں کو موقع دیتے رہیں گے، لاہور قلندرز
ہم ٹائٹل جیتیں یا نہ جیتیں کھلاڑیوں کو موقع دیتے رہیں گے، لاہور قلندرز
لاہور قلندرز کے ڈائریکٹر ثمین رانا کا کہنا ہے کہ یہ اعزاز ہے کہ ٹیم فائنل میں پہنچی ہے، ہم ٹائٹل جیتیں یا نہ جیتیں کھلاڑیوں کو موقع دیتے رہیں گے۔
ٹیم ڈائریکٹر ثمین رانا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ٹیم اچھا کھیلی اور اب فائنل میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ کبھی کسی پر انگلی نہیں اٹھائی ہم ہار کر بھی پُراعتماد رہتے ہیں، ہم 4 سال سب سے نیچے رہے ہمت نہیں ہاری۔
ثمین رانا کا کہنا تھا کہ ہار جیت میں اپنے جذبات کو نہیں آنے دیتے کھلاڑیوں کو بیک کرتے ہیں، فرنچائز کرکٹ میں کوچنگ نہیں ٹیم مینجمنٹ ہوتی ہے۔
لاہور قلندرز کے ڈائریکٹر نے کہا کہ پی ایس ایل میں ابھی بہتری کی ضرورت ہے، تسلسل لانا ہوگا، جو حالات پیدا ہوئے وہ کسی کے بس میں نہیں تھے۔
ثمین رانا نے بتایا کہ غیر ملکی ہی نہیں ملکی کھلاڑیوں کی فیملیز بھی پریشان تھیں، پاکستان نے کھلاڑیوں کو جتنی سیکیورٹی دی کوئی نہیں دے سکتا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ غیر ملکی کھلاڑیوں نے بڑا سپورٹ کیا کسی نے اضافی کوئی مطالبہ نہیں کیا۔























