خیبر پختونخوا میں پولیو کے دو نئے کیسز سامنے آئے، تشویشناک صورتحال

پشاور: قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ) نے خیبر پختونخوا میں پولیو کے دو نئے کیسز کی تصدیق کر دی ہے، جس سے صوبے میں اس موذی وائرس کے شکار بچوں کی تعداد پانچ تک پہنچ گئی ہے۔ محکمہ صحت کے مطابق، ضلع بنوں کی یونین کونسل سین تانگہ میں 28 ماہ کی عمر کا ایک بچہ اور لکی مروت کی یونین کونسل بخمل احمد زئی میں 26 ماہ کی عمر کی ایک بچی پولیو وائرس کا شکار ہوئے ہیں۔

کیا حکومتی اقدامات ناکام ہو رہے ہیں؟
حکومت اور عالمی اداروں کی جانب سے پولیو کے خاتمے کے لیے وسیع پیمانے پر مہمات چلائی جا رہی ہیں، لیکن اب بھی نئے کیسز سامنے آ رہے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ویکسینیشن مہمات مؤثر طریقے سے نافذ کی جا رہی ہیں؟ یا پھر والدین کی بے حسی اور غلط فہمیوں کی وجہ سے بچوں کو ویکسین نہیں لگوائی جا رہی؟

علاقائی چیلنجز اور عدم تعاون
خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں، خاص طور پر قبائلی اضلاع میں، ویکسینیشن ٹیموں کو شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔ بعض والدین ویکسین کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں یا اسے غیر اسلامی قرار دے کر مسترد کر دیتے ہیں۔ کیا محکمہ صحت ان علاقوں میں شعور بیدار کرنے کے لیے مزید اقدامات کر رہا ہے؟

پولیو وائرس کی ممکنہ وجوہات
ماہرین کے مطابق، گندے پانی اور ناقص صفائی ستھرائی کی وجہ سے بھی پولیو وائرس پھیل سکتا ہے۔ کیا صوبائی حکومت نے پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات اٹھائے ہیں؟

مستقبل کے خطرات
اگر پولیو کے کیسز میں اضافہ ہوتا رہا تو یہ صرف خیبر پختونخوا تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ملک کے دیگر حصوں میں بھی پھیل سکتا ہے۔ کیا وفاقی اور صوبائی حکومتیں اس سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لیے کوئی ہنگامی پلان تیار کر رہی ہیں؟

عالمی برادری کا کردار
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور دیگر بین الاقوامی ادارے پاکستان کو پولیو کے خاتمے میں مدد فراہم کر رہے ہیں، لیکن کیا یہ کوششیں کافی ہیں؟ یا پھر مقامی سطح پر مزید جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے؟

صحت کے شعبے میں کام کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر مؤثر اقدامات نہ اٹھائے گئے تو پولیو جیسی بیماری دوبارہ ایک بڑا عوامی صحت کا بحران بن سکتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت، مذہبی رہنماؤں، مقامی قبائلی رہنماؤں اور عوام کے درمیان بھرپور تعاون ہو تاکہ اس وائرس کو جڑ سے ختم کیا جا سکے۔