
” دو وائس چانسلرز اور ماسکو کا نائٹ کلب”
کیا حکومت اور مجاز اتھارٹی ان دونوں کو برطرف کریں گے؟
حکومت سندھ تمام یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کے خون کے نمونے حاصل کرے گی؟
سندھ کی دو بڑی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کے حوالے سے افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ انہوں نے حالیہ دورہ روس کے دوران ماسکو کے ایک نائٹ کلب میں واڈکا پی کر شور مچایا۔ اطلاعات کے مطابق، یہ دونوں شخصیات نشے کی حالت میں ایک روسی لڑکی سے نامناسب رویہ اختیار کرنے کی کوشش کر رہی تھیں، جس پر کلب کے سیکورٹی گارڈز نے انہیں باہر نکال دیا۔

یہ معلومات ابھی تک غیر مصدقہ ہیں، اور کوئی عینی شاہد سامنے نہیں آیا۔ تاہم، کچھ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان دونوں کے قریبی حلقوں میں بھی ان کی ایسی عادات کے بارے میں شکایات موجود ہیں۔
معلوماتی ذرائع کے مطابق، یہ دونوں شخصیات شراب نوشی اور عیاشی کی محفلوں میں شریک ہونے کے لیے مشہور ہیں۔ کچھ لوگوں کا دعویٰ ہے کہ یہ کبھی کراچی کے مخصوص مقامات پر پرائیویٹ پارٹیوں کا اہتمام کرتے ہیں، جبکہ کبھی یونیورسٹی کے اندر بھی ایسی محفلیں منعقد ہوتی ہیں۔
کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان پر طالبات کو ہراساں کرنے کے الزامات بھی لگتے رہے ہیں، لیکن یہ تمام باتوں کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان میں سے ایک نے کچھ عرصہ قبل ایک بیرونی دورے کے دوران شراب کے نشے میں ہوٹل کی لابی میں بدتمیزی کی تھی، جس پر ان کی اہلیہ کو مداخلت کرنی پڑی۔ تاہم، یہ باتیں بھی صرف سنی سنائی ہیں اور ان کی کوئی مستند تصدیق نہیں۔
کچھ ریٹائرڈ اساتذہ کا کہنا ہے کہ ان میں سے ایک شخصیت اکثر اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرتی ہے اور ریٹائرڈ اساتذہ کے حقوق ادا کرنے سے انکار کرتی ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ انہیں صوبائی اور وفاقی سطح پر حمایت حاصل ہے، اس لیے وہ کسی سے نہیں ڈرتے۔
یہ تمام باتیں ابھی تک افواہوں اور گپ شپ کی حد تک ہیں۔ کوئی باقاعدہ ثبوت یا گواہی سامنے نہیں آئی، لیکن بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ ان کے رویے پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
نوٹ:
یہ خبر محض سنی سنائی باتوں اور غیر مصدقہ اطلاعات پر مبنی ہے۔ کسی بھی فرد کے خلاف بغیر ثبوت کے الزامات لگانا غیر اخلاقی ہے۔ خبر میں موجود تمام بیانات کی تصدیق ضروری ہے۔
=============================
شطرنج کے لیجنڈ کارلسن کا بیک وقت ایک لاکھ 43 ہزار کھلاڑیوں سے مقابلہ، میچ ڈرا
شطرنج کے لیجنڈ میگنس کارلسن نے ایک آن لائن میچ میں بیک وقت دنیا بھر سے ایک لاکھ 43 ہزار کھلاڑیوں کے ساتھ شطرنج کھیلی۔
میگنس کارلسن کا شمار شطرنج کی تاریخ کے بہترین کھلاڑیوں میں کیا جاتا ہے اس لیے ’چیس ڈاٹ کام‘ نامی ویب سائٹ نے ’میگنس کارلسن بمقابلہ ورلڈ‘ کے ٹائٹل سے ایک میچ کا انعقاد کیا۔
اس میچ میں 34 سالہ لیجنڈ نارویجن کھلاڑی کو پوری دنیا سے شطرنج کھیلنے کے شوقین افراد کے خلاف میچ کھیلنا تھا۔
2013ء سے 2023ء تک عالمی چیمپئن رہنے والے میگنس کارلسن نے یہ میچ 4 اپریل کو کھیلنا شروع کیا جو 6 ہفتوں سے زائد وقت تک جاری رہا اور آخر کار پیر کو یہ میچ ڈرا ہوگیا۔
میگنس کارلسن کا اس میچ کے بارے میں کہنا تھا کہ میچ کے آغاز میں تو مجھے لگا میں اچھا کھیل رہا ہوں۔
اُنہوں نے اعتراف کیا کہ تمام کھلاڑیوں نے اچھا کھیلا اور مجھے اچھی چال چلنے کا ایک بھی موقع نہیں دیا۔
واضح رہے کہ میگنس کارلسن پہلے گرینڈ ماسٹر نہیں ہیں جنہوں نے اس طرح دنیا بھر سے ہزاروں افراد کی ٹیم کا مقابلہ کیا۔
اس سے قبل روسی شطرنج لیجنڈ گیری کاسپاروف نے 1999ء میں 50 ہزار سے زائد کھلاڑیوں کا مقابلہ کیا اور گزشتہ سال بھارتی شطرنج لیجنڈ وشواناتھن آنند نے اسی طرح کے ایک میچ میں 70 ہزار کے قریب کھلاڑیوں کا مقابلہ کیا تھا۔
========================
نمبر: بی آئی ای/پی آر/075/ 2025 تاریخ: 21 مئی 2025ء
پریس ریلیز
اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے تحت انٹرمیڈیٹ کے سالانہ امتحانات برائے 2025ء کے پندرہویں روز صبح کی شفٹ میں سائنس پری میڈیکل کا زولوجی پرچہ اول اور ہوم اکنامکس کا فوڈ اینڈ نیوٹریشن کا پرچہ لیا گیا۔ چیئرمین انٹربورڈ غلام حسین سوہو کی ہدایات پر آڈٹ افسر زاہد لاکھو، کنٹرول روم کمیٹی کے ارکان پروفیسر سید عمران علی، پروفیسر شبانہ افضل اور پروفیسر کنول مجتبیٰ پر مشتمل خصوصی ٹیم نے آئیڈیل گرامرہائیر سیکنڈری اسکول سیکٹر 28 اور گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری اسکول گلشن اقبال بلاک 6کا دورہ کیا جہاں پرامن اور شفاف انداز میں امتحانی عمل بلاتعطل جاری تھا۔ آئیڈیل گرامر ہائیر سیکنڈری اسکول میں کلاس رومز میں طلبہ کی تعداد زیادہ ہونے کا مشاہدہ کیا گیا تاہم سینٹر سپرنٹنڈنٹ کی بروقت معاونت سے یہ مسئلہ خوش اسلوبی سے حل کرلیا گیا۔ علاوہ ازیں ناظم امتحانات زرینہ راشد بھی چیئرمین بورڈ کی خصوصی ہدایات پر مرکزی کنٹرول روم سے براہ راست ڈیجیٹل لنک کے ذریعہ امتحانی مراکز سے رابطے میں رہیں تاکہ شفاف امتحانی عمل ممکن بنایا جاسکے۔























