
پولیو سے بچاؤ کے قطرے پینے والی پہلی پاکستانی بچی سے لے کر انسداد پولیو مہم کی سفیر تک: آصفہ بھٹو زرداری کا عزم اور کامیابیوں بھرا سفر
جیوے پاکستان ڈاٹ کام کی خصوصی رپورٹ
لاڑکانہ: پاکستان کی تاریخ میں ایک روشن ستارے کی مانند چمکنے والی آصفہ بھٹو زرداری کا نام اب صرف ایک سیاسی شخصیت ہی نہیں، بلکہ عزم، ہمت اور خدمتِ خلق کی ایک عظیم داستان بن چکا ہے۔ وہ پہلی پاکستانی بچی تھیں جنہوں نے پولیو کے قطرے پیے، اور آج وہ ملک کی خاتون اول ہیں۔

پولیو کے خلاف جنگ کا آغاز: ایک تاریخی لمحہ
1994 میں جب پاکستان میں پولیو وائرس کے خلاف قومی مہم کا آغاز ہوا، تو اس وقت کی وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو نے اپنی چھوٹی بیٹی آصفہ کو پولیو کے قطرے پلا کر ملک کے لیے ایک مثال قائم کی۔ یہ لمحہ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک پیغام تھا کہ یہ مرض قابلِ علاج ہے۔ آصفہ کا یہ اقدام آج بھی لاکھوں والدین کے لیے حوصلہ افزائی کا ذریعہ ہے۔

تعلیم اور سماجی خدمات کا عہد
آصفہ بھٹو زرداری نے تعلیم کے میدان میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ انہوں نے آکسفورڈ بروکس یونیورسٹی سے سیاسیات اور سماجیات میں بیچلرز کی ڈگری حاصل کی، جبکہ یونیورسٹی کالج لندن سے گلوبل ہیلتھ اینڈ ڈویلپمنٹ میں ماسٹرز کیا۔ ان کی تعلیمی قابلیت نے انہیں صحت عامہ کے شعبے میں کام کرنے کے لیے خصوصی مہارت دی۔

پولیو کے خلاف جنگ میں ایک نئی جہت
2009 میں صدر آصف علی زرداری نے اپنی بیٹی آصفہ کو پاکستان کی پولیو اریڈیکیشن مہم کی سفیر مقرر کیا۔ اس ذمہ داری کو انہوں نے بھرپور انداز میں نبھاتے ہوئے ملک بھر میں ویکسینیشن مہم چلائی، متاثرہ خاندانوں سے ملاقاتیں کیں اور عوامی شعور بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی کوششوں کے اعتراف میں روٹری انٹرنیشنل نے 2013 میں انہیں اعزازی تختی سے نوازا۔

سیاسی میدان میں قدم اور خاتون اول کا اعزاز
2020 میں آصفہ بھٹو زرداری نے سیاسی میدان میں باقاعدہ قدم رکھا اور پیپلز پارٹی کے جلسوں میں شرکت کرکے عوام کے مسائل کو اجاگر کیا۔ 2024 کے عام انتخابات میں انہوں نے اپنے بھائی بلاول بھٹو زرداری کی مہم میں کلیدی کردار ادا کیا۔




10 مارچ 2024 کو جب آصف علی زرداری دوبارہ پاکستان کے صدر منتخب ہوئے، تو انہوں نے اپنی بیٹی آصفہ کو خاتون اول کے طور پر متعارف کرایا۔ یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلا موقع تھا جب صدر کی بیٹی کو یہ اعزاز دیا گیا۔



قومی اسمبلی کی رکنیت اور مستقبل کے عزم
مارچ 2024 میں آصفہ بھٹو زرداری نے این اے-207 (نواب شاہ) سے بلا مقابلہ انتخابات جیت کر قومی اسمبلی کی رکنیت حاصل کی۔ ان کا یہ قدم ان کے عوامی خدمت کے جذبے کو مزید مضبوط کرتا ہے۔

آصفہ بھٹو زرداری کا یہ سفر نہ صرف پاکستانی خواتین کے لیے ایک مشعلِ راہ ہے، بلکہ یہ ثابت کرتا ہے کہ عزم اور محنت سے ہر مشکل کو شکست دی جا سکتی ہے۔ ان کی کہانی جیوے پاکستان ڈاٹ کام کی زبانی آپ تک پہنچی ہے، جو ہر پاکستانی کے دل میں امید اور جذبہ پیدا کرتی ہے۔
جیوے پاکستان!
























