
پلاسٹک کی جگہ پیپر بیگ پیپر کپ اور پیپر گلاس، حکومتی پابندی کے بعد کیا ہوگا۔ کیا سب سے بڑا گروپ عفیف اس کے لیے تیار ہے ؟
حکومت سندھ کی جانب سے پلاسٹک بیگز پر مکمل پابندی کا خیر مقدم ، ماحولیاتی الودگی پر گاہ پانے کے لیے یہ اقدام بہت ضروری تھا دیر ائد درست ائد۔ کافی پہلے یہ کام ہو جانا چاہیے تھا لیکن پلاسٹک بیگ بنانے والوں کو کافی وقت دیا گیا کہ وہ اپنے معاملات کو درست کر لیں اور اس کے بعد یہ پابندی لگنی تھی اور لگ گئی ہے اب کاغذ ہی استعمال ہوگا پلاسٹک کی جگہ ۔ پاکستان میں عفیف گروپ ایک بڑا نام ہے جو لاسٹک کی بات تیار کرتا تھا بڑے بڑے اداروں کے لیے اس کے پلاسٹک برینڈز بڑے مشہور ہیں اور اس نے پلاسٹک کپ اور پلاسٹک گلاسز بھی بنائے اور بہت سی مصنوعات متعارف کرائیں تو کیا وہ اب ان سب کو بند کر کے کاغذ پر منتقل ہونے کے لیے تیار ہیں بتایا جاتا ہے کہ اس کی انتظامیہ نے بہت پہلے پیپر مصنوعات کی تیاری شروع کر دی تھی اور دنیا کی مختلف مشہور کمپنیوں کو پیپر مصنوعات کی فراہمی کا کام کافی عرصے سے جاری ہے اس لیے عفیف گروپ کو تو کوئی مشکل یا پریشانی نہیں ہوگی وہ بڑی اسانی سے اس کام کے لیے تیار ہو جائے گا اور ایک بڑی مارکیٹ پہلے ہی اس کے پاس ہے وہ باقی مارکیٹ پر بھی اسانی سے کام کر سکے گا البتہ وہ چھوٹی فیکٹریاں جو پلاسٹک کا کام کرتی تھیں ان کو یقینی طور پر مشکل ہوگی ان کے مالکان کو کاغذ کے مصنوعات تیار کرنے کا تجربہ نہیں ہے اور ان کے لیے مشکل ہوگی وہ پریشانی کا سبب ہوں گے
کیونکہ ان کے پاس مہارت نہیں ہے لیکن جن کے پاس کاغذ سے مصنوعات تیار کرنے کی مہارت ہے تجربہ ہے اور ان کو کام کا پتہ ہے وہ بڑی اسانی سے اس کام کو پیپر مصنوعات کی طرف منتقل کر لیں گے پلاسٹک بیگز کی جگہ اپ کو بازاروں میں شاپنگ مارکیٹس میں اور فوڈ چینج میں پیپر میں نہیں ملا کریں گے وہی نظر ائیں گے یہ اچھا اقدام ہے حکومت کے اس اقدام کو سراہا جا رہا ہے لیکن حکومت کو اس پر سختی کرنی ہوگی کیونکہ ابھی بھی پلاسٹک بیگز بڑی تعداد میں تیار ہو کے مارکیٹ میں موجود ہیں یہ ان کو روکنا ہوگا بغیر جرمانے اور سختی کے یہ کام ہو نہیں سکے گا لوگ اتنی اسانی سے اس کام کو ترک نہیں کریں گے اسلام اباد اور چند دیگر شہروں میں یہ تجربہ کامیاب ہو چکا ہے اب کراچی جیسے بڑے شہر میں اس کو عملی طور پر کامیاب کر کے دکھانا حکومت کے لیے بڑا چیلنج ہے حکومت پر عزم لگ رہی ہے اسی لیے پابندی لگائی ہے پابندی لگانے کے بعد اب اس پر عمل درامد کرنا بھی حکومت کا کام ہے اور عوام کو بھی ساتھ دینا چاہیے ہم نے اپنے ندی نالے اور یہاں دریا یہاں تک کہ سمندر کو بھی الودہ کر رکھا ہے اور اس کی بڑی بنیادی وجہ پلاسٹک کی بوتلیں اور پلاسٹک کے شاپر تھے جن کی وجہ سے ہمارا سیوریج کا نظام بھی تباہ ہوا نقاسی کی بھی متاثر ہوئی اور یہ پلاسٹک بیگ اور پلاسٹک شاپر اور محتر ہیں ہمارے لیے مسائل بن گئے دنیا نے ان سے جان چھڑا لی ہے ہمیں بھی ان سے جان چھڑا لینی چاہیے اور پیپر بیک پر ا جانا چاہیے جو ری سائیکل ہو سکتے ہیں اور ان کو زیادہ سے زیادہ استعمال کرنا چاہیے اور شاپنگ کی باہر جاتے وقت پیپر بیک کی سہارا لیں یا پھر سے کوئی کپڑے کا بیگ لے کر جائیں

کاغذ کے تھیلے، کپ اور گلاس کا استعمال: ماحول کے لیے ایک مثبت قدم
سرخی: “پلاسٹک کی تھیلیوں پر مکمل پابندی – سندھ حکومت کا ماحول دوست فیصلہ”
سندھ حکومت نے حال ہی میں ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے کے لیے پلاسٹک کی تھیلیوں پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ ایک قابلِ تعریف قدم ہے، کیونکہ پلاسٹک کا استعمال زمین، ہوا اور پانی کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔ اب ہمیں کاغذ کے تھیلوں، کپ اور گلاس کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے، کیونکہ یہ ماحول دوست ہیں اور ان کے فوائد بے شمار ہیں۔
کاغذ کے تھیلوں اور برتنوں کے فوائد:
ماحول دوست:
کاغذ قدرتی طور پر گَل جانے والا (Biodegradable) مادہ ہے، جو مٹی میں مل کر کچھ ہی عرصے میں تحلیل ہو جاتا ہے، جبکہ پلاسٹک سینکڑوں سال تک زمین اور سمندروں میں موجود رہ کر زہریلے اثرات چھوڑتا ہے۔

جانوروں کے لیے محفوظ:
پلاسٹک کی تھیلیاں کھانے سے جانور بیمار ہوتے ہیں اور بعض اوقات مر بھی جاتے ہیں، جبکہ کاغذ کے تھیلے ان کے لیے کم خطرناک ہوتے ہیں۔
آلودگی میں کمی:
پلاسٹک جلانے سے زہریلی گیسز خارج ہوتی ہیں، جو انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہیں۔ کاغذ جلانے سے بھی دھواں نکلتا ہے، لیکن یہ پلاسٹک کے مقابلے میں کم مضر ہوتا ہے۔
قدرتی وسائل کا تحفظ:
کاغذ زیادہ تر قابلِ تجدید (Renewable) ذرائع جیسے درختوں سے بنتا ہے، جبکہ پلاسٹک تیل سے تیار ہوتا ہے، جو ایک محدود قدرتی وسائل ہے۔
ری سائیکل ہونے کی صلاحیت:
کاغذ کو دوبارہ ری سائیکل کرکے نئے مصنوعات بنائی جا سکتی ہیں، جس سے درختوں کی کٹائی بھی کم ہوتی ہے۔
ہماری ذمہ داری:
سندھ حکومت کے اس فیصلے کی کامیابی کے لیے عوام کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ہمیں چاہیے کہ:
کاغذ اور کپڑے کے تھیلے استعمال کریں۔
پلاسٹک کے کپ اور گلاس کی جگہ کاغذ کے متبادل اپنائیں۔
دوسروں کو بھی ماحول کے تحفظ کی ترغیب دیں۔
آخری بات:
پلاسٹک کی تھیلیوں پر پابندی صرف ایک قانون نہیں، بلکہ ہماری آنے والی نسلوں کو صاف ستھرا ماحول دینے کا عہد ہے۔ اگر ہم سب مل کر کوشش کریں، تو ہم اپنے شہروں کو پلاسٹک کے مضر اثرات سے بچا سکتے ہیں۔
“کاغذ اپنائیں، ماحول بچائیں!” 🌱























