
کراچی: سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن (سندھ ایچ ای سی) نے پروفیسر ڈاکٹر طارق رفیع کی قیادت میں ناقابل فراموش کارکردگی اور شاندار کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ان کی دوررس سوچ اور انتھک محنت نے صوبے کے اعلیٰ تعلیمی شعبے میں ایک مثبت انقلاب برپا کر دیا ہے۔
سندھ ایچ ای سی کی کارکردگی اور کامیابیاں واقعی لائق تحسین ہیں۔ کمیشن نے نہ صرف معیار تعلیم کو بلند کیا ہے بلکہ تحقیقی منصوبوں، فیکلٹی کی تربیت اور طلبہ کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے بھی قابل قدر اقدامات اٹھائے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر طارق رفیع کی ویژنری قیادت نے ادارے کو نئی بلندیوں تک پہنچایا ہے۔
حکومت سندھ اور وزیر تعلیم کے تعاون سے سندھ ایچ ای سی نے متعدد ایجوکیشنل پالیسیز متعارف کرائی ہیں، جن کا مقصدمعاشرتی ترقی کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنانا ہے۔ اس سلسلے میں اسکالرشپس، لیبارٹریز کی اپ گریڈیشن اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دیا گیا ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر طارق رفیع کے زیر قیادت سندھ ایچ ای سی نے صوبے کے سرکاری و نجی یونیورسٹیوں کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے سخت معیارات مقرر کیے ہیں۔ ادارے کی جانب سے یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) کے ساتھ مل کر کام کرنے سے تحقیقی مقالوں اور اشاعتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
سندھ ایچ ای سی نے طلبہ و طالبات کی رہنمائی کے لیے کیرئیر کونسلنگ سیشنز، ورکشاپس اور ہنر مندی کے پروگرامز کا انعقاد کیا ہے، جس سے نوجوان نسل کو روزگار کے نئے مواقع میسر آئے ہیں۔ اس کے علاوہ، کمیشن نے صنعتی شعبے کے ساتھ اشتراک بڑھا کر تعلیم اور مارکیٹ کی ضروریات کے درمیان خلیج کو پاٹنے کی کوشش کی ہے۔
صوبے میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے سندھ ایچ ای سی نے دیہی علاقوں تک رسائی بڑھانے پر خصوصی توجہ دی ہے۔ اس سلسلے میں دور دراز کے علاقوں میں کالجوں اور یونیورسٹیوں کو جدید سہولیات سے آراستہ کیا گیا ہے، تاکہ ہر طالب علم کو معیاری تعلیم تک یکساں رسائی حاصل ہو۔
پروفیسر ڈاکٹر طارق رفیع کی انتظامی صلاحیتوں کی بدولت سندھ ایچ ای سی نے بین الاقوامی یونیورسٹیوں کے ساتھ تعلقات استوار کیے ہیں، جس سے طلبہ اور فیکلٹی ممبران کو عالمی سطح پر تحقیق و تعلیم کے مواقع میسر آئے ہیں۔ یہ اقدام مستقبل میں سندھ کی یونیورسٹیوں کو عالمی درجہ بندی میں شامل کرنے کی راہ ہموار کرے گا۔
کمیشن کی جانب سے ڈیجیٹل تعلیم کو فروغ دینے کے لیے آن لائن لرننگ پلیٹ فارمز متعارف کرائے گئے ہیں، جبکہ یونیورسٹیوں میں جدید ٹیکنالوجی کی تنصیب پر بھی کام جاری ہے۔ اس سے نہ صرف طلبہ کو جدید ذرائع سے استفادہ کرنے کا موقع ملا ہے بلکہ کووڈ-19 جیسے بحرانی حالات میں بھی تعلیمی سلسلہ برقرار رہا۔
سندھ ایچ ای سی کی کاوشوں کی بدولت صوبے میں تحقیقی مقالوں اور اختراعات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ کمیشن کی جانب سے ریسرچ گرانٹس اور انعامات دینے کی پالیسی نے نوجوان محققین کو حوصلہ دیا ہے، جس سے سندھ کی یونیورسٹیاں ملک بھر میں اپنی شناخت بنا رہی ہیں۔
پروفیسر ڈاکٹر طارق رفیع کی قیادت میں سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی کارکردگی اور کامیابیاں نہ صرف سندھ بلکہ پورے ملک کے لیے باعث فخر ہیں۔ ان کی دوراندیشی اور لگن سے اعلیٰ تعلیم کا شعبہ تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہے، جس سے آنے والے دنوں میں مزید مثبت تبدیلیوں کی توقع ہے۔
سندھ کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر سید مراد علی شاہ نے سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر طارق رفیع پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے ایک حالیہ تقریب میں کہا کہ “سندھ ایچ ای سی نے ڈاکٹر طارق رفیع کی قیادت میں تعلیمی شعبے میں قابلِ قدر خدمات انجام دی ہیں، اور ان کی لگن اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر پورا بھروسہ ہے۔” انہوں نے سندھ ایچ ای سی کے تحت ہونے والے اصلاحاتی اقدامات اور تحقیقی منصوبوں کو صوبے کی ترقی کا اہم ستون قرار دیا۔
سندھ ایچ ای سی کے سیکرٹری جناب معین الدین صدیقی کو ادارے کی کامیابیوں کا اہم ستون قرار دیا جاتا ہے۔ ان کا انتظامی تجربہ، معاملات پر گہری نظر اور چیئرمین کے ساتھ بہترین ہم آہنگی نے سندھ ایچ ای سی کو نئی بلندیوں تک پہنچایا ہے۔ صدیقی صاحب کے عملی خیالات اور نتائج پر مبنی حکمت عملی کی بدولت کمیشن نے تعلیمی پالیسیوں سے لے کر تحقیقی فنڈز تک ہر شعبے میں نمایاں ترقی کی ہے۔ ان کی محنت اور لگن نے سندھ کے اعلیٰ تعلیمی نظام کو مزید مستحکم بنایا ہے۔
سندھ ایچ ای سی نے یونیورسٹی طلبہ اور صنعت کے درمیان ربط بڑھانے کے لیے نمایاں اقدامات اٹھائے ہیں۔ اس سلسلے میں مختلف “انڈسٹری-ایکیڈمیا ایکسپوز” اور جاب فیئرز کا انعقاد کیا گیا، جہاں طلبہ کو جدید مارکیٹ کی ضروریات سے آگاہ کیا گیا اور انہیں روزگار کے مواقع فراہم کیے گئے۔ ان کوششوں سے نوجوانوں کو ہنر مندی کی تربیت اور صنعتی شعبے سے براہِ راست رابطے کا موقع ملا ہے۔
تحقیق و ترقی کو فروغ دینے کے لیے سندھ ایچ ای سی نے یونیورسٹی لیبارٹریز اور تحقیقی مراکز کے لیے فنڈز میں اضافہ کیا ہے۔ جدید آلات کی خریداری، ریسرچ اسکالرشپس اور فیکلٹی ممبران کی تربیت پر خصوصی توجہ دی گئی ہے، جس سے یونیورسٹیوں میں معیاری تحقیق کو تقویت ملی ہے۔ اس کے نتیجے میں سندھ کی یونیورسٹیوں نے قومی و بین الاقوامی سطح پر اپنی تحقیقی پیشرفت کا لوہا منوایا ہے۔
سندھ ایچ ای سی کی کوششوں سے صوبے کی یونیورسٹیوں میں انوویشن اور ٹیکنالوجی کی جانب رجحان بڑھا ہے۔ اسٹارٹ اپس اور جدید ایجادات کو فروغ دینے کے لیے خصوصی پروگرامز متعارف کرائے گئے ہیں، جبکہ صنعتی اداروں کے ساتھ مشترکہ تحقیقی منصوبوں کو بھی تیز کر دیا گیا ہے۔ ان اقدامات سے نہ صرف طلبہ کی تخلیقی صلاحیتیں ابھری ہیں بلکہ سندھ کا تعلیمی نظام بھی ملک کے دیگر صوبوں کے لیے مثال بن گیا ہے۔
























