
ریڈیو کلینک میں بچوں میں شوگر،پیدائشی جینڈر کے نقائص اور ہارمونز کے مسائل کی ماہر،چئیر پرسن ڈیپارٹمنٹ آف اینڈوکرنالوجی چلڈرن ہسپتال،ڈاکٹر سمعیہ آفتاب کی شرکت،میزبان اور پروڈیوسر مدثر قدیر تھے۔اس موقع پر اپنی آگاہی گفتگو میں ڈاکٹر سمعیہ آفتاب کا کہنا تھا کہ بچوں میں شوگر کی بیماری، خاص طور پر Type 1 Diabetes, ایک خودکار مدافعتی مسئلہ ہے جس میں جسم خود لبلبہ کے انسولین بنانے والے خلیوں پر حملہ کر دیتا ہے۔ اس بیماری کی علامات درج ذیل ہو سکتی ہیں:کثرت سے پیشاب آنا،حد سے زیادہ پیاس لگنا،وزن کا اچانک کم ہونااورتھکن اور کمزوری شامل ہیں اس بیاری کی تشخیص اور علاج کے لیے خون میں شکر کی مقدار (Blood Glucose)، HbA1c ٹیسٹ اور پیشاب میں شوگر کی موجودگی سے مرض کا تعین کیا جاتا ہے۔ Type 1 Diabetes کا کوئی مستقل علاج نہیں، لیکن انسولین کے باقاعدہ انجکشن، متوازن خوراک اور مناسب جسمانی سرگرمی سے یہ بچے نارمل انداز میں زندگی گزارسکتے ہیں۔وزیر اعلی پنجاب نے چھوٹے بچوں کے لیے انسولین کی فراہمی کا جو پراجیکٹ شروع کیا ہے
وہ قابل ستائش ہے۔ڈاکٹر سمعیہ آفتاب کا کہنا تھا کہ پیدائش کے وقت جینڈر کا تعین نہ ہونا ایک اہم مسئلہ تو ہے مگر اس کو وہم کے طور پر نہیں لینا چاہیے بلکہ فورا ڈاکٹرز سے رجوع کریں تاکہ اس مسئلہ کو جلد حل کیا جاسکے۔ہارمونز کی تبدیلی یاں پھر تھائی رائیڈز کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل بھی بچے کی نشونما اور صحت پر منفی اثرات ڈالتے ہیں جن کا علاج کیا جانا ضروری ہے اس موقع پر ایسوسی ایٹ پروفیسر سمعیہ آفتاب نے آگاہی پیغام دیتے ہوئے کہا کہ بچے ہمارا مستقبل ہیں اور ان کا خیال رکھنا ان کے والدین کی ذمہ داری ہے اس ذمہ داری کو اچھے طریقے سے نبھانا فرض ہے کیونکہ ایک صحت مند بچہ ہی صحت مند پاکستان کی پہچان ہے۔























