امریکہ کی غیرجانبداری نے بھارت کے بیانیے کو خاک میں ملا دیا ہے۔ شدید مایوس کیا ہے۔ معاشی برتری اور خود مختاری کے لیے بھی ایک چیف کی ضرورت ہے۔


امریکہ کی غیرجانبداری نے بھارت کے بیانیے کو خاک میں ملا دیا ہے۔ شدید مایوس کیا ہے۔
معاشی برتری اور خود مختاری کے لیے بھی ایک چیف کی ضرورت ہے۔
ایک سال میں برآمدات کو دگنا کرنے کا ہدف مقرر کیا جائے۔ میاں زاہد حسین

(16۔مئی۔2025)
نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولزفورم وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر، ایف پی سی سی ائی پالیسی ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین اورسابق صوبائی وزیرمیاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ حالیہ پاک بھارت تنازعے میں امریکہ کی غیر جانبداری نے بھارت کوسخت مایوس کیا ہے۔ صدرڈونلڈ ٹرمپ کے رویے نے بھارتی عزائم کوخاک میں ملا دیا جومودی حکومت کے لئے بڑا سفارتی دھچکہ ہے۔ اسرائیل کے علاوہ دنیا کے کسی بھی ملک نے بھارت کی حمایت نہیں کی جس سے مودی پاگل ہورہا ہے اور بھارتی عوام مودی پر سخت تنقید کر رہے ہیں۔ میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ بھارت امریکی حمایت سے پاکستان پردباؤ ڈالنے اورعسکری وسفارتی محاذ پرکمزورکرنے کا خواب دیکھ رہا تھا مگراس کے برعکس پاکستان کی زبردست سفارتی حکمت عملی، بھرپورجوابی عسکری کاروائی اور تباہ کن سائبر اٹیک کے نتیجے میں بھارت کو سخت ہزیمت اٹھانی پڑی جس کے نتیجے میں صدرٹرمپ نے دونوں ممالک کے درمیان سیزفائرکے لئے ثالثی شروع کردی۔ ان کی اس حکمت عملی نے بھارتی برتری کا خواب چکنا چور کر دیا ہے۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ بھارت کی جانب سے بلا اشتعال حملے اورڈرونزومیزائلوں کے ذریعے پاکستانی علاقوں کونشانہ بنانے کے بعد دونوں جوہری طاقتیں مکمل جنگ کے دہانے پرآچکی تھیں۔ اس نازک موقع پراگرامریکہ کی مداخلت نہ ہوتی تودنیا شاید ایک اورجوہری جنگ کا سامنا کرتی۔ مودی کی خام خیالی تھی کہ وہ پاکستان کوحیران کن حملے سے جھکا لے گا مگرپاکستان نے فوری اورمؤثر جواب دے کرثابت کردیا کہ وہ کسی بھی جارحیت کا بھرپورجواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ بھارتی فوج کی شکست اور پانچ جدید ترین رافیل طیاروں کی تباہی نے نہ صرف بھارت کی دفاعی برتری کے دعوؤں کوبے نقاب کردیا بلکہ پاکستان کی عسکری تیاریوں اورپیشہ ورانہ صلاحیتوں کودنیا بھرمیں تسلیم کروایا۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ اس وقت ہمیں بحیثیت قوم اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑا ہونے کی ضرورت ہے اس کے ساتھ ساتھ یہ وقت سنجیدہ غوروفکرکا بھی متقاضی ہے۔ حالیہ کشیدگی نے ہماری معاشی کمزوریوں کوبھی بے نقاب کیا ہے۔ جنگ کے دوران سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ کیا آئی ایم ایف پاکستان کوقرض کی اگلی قسط دے گا یا بھارت کے پروپیگنڈے کا شکار ہو جائے گا۔ اس صورتحال سے واضح ہوتا ہے کہ دفاعی کامیابی کے لئے معاشی خودمختاری ناگزیرہے۔ جب تک معیشت مضبوط نہیں ہوگی ہم اپنی خودمختاری کا تحفظ نہیں کرسکتے۔ بھارت کا سندھ طاس معاہدے پربات چیت سے انکارپاکستان کے لیے کھلا چیلنج اورریڈ لائن ہے جبکہ مذاکرات کوصرف آزاد کشمیرتک محدود رکھنا ناقابل قبول اوراشتعال انگیزہے۔ پانی سے چھیڑچھاڑہماری قومی سلامتی سے کھیلنے کے مترادف ہے جس کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ میاں زاہد حسین نے مزید کہا کہ سیزفائرنے پاکستان اور بھارت دونوں کو کوسنبھلنے کا ایک موقع دیا ہے بھارت اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گا جبکہ ہمیں اب یکسو ہو کر معاشی استحکام اور برامدات کو فوری طور پر 60 ارب ڈالر تک لے جانے کے لیے بھرپور کوششیں کرنا ہوں گی اور ایس ائی ایف سی کے ادارے کے تحت ون ونڈو آپریشن کو مزید موثر بنانا ہوگا تاکہ پاکستان معاشی طور پر اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکے۔