مزید دو یونیورسٹیز کے وائس چانسلر کے خلاف شکایات موصول، وزیرا اعلی مسلسل تحمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں

سندھ میں مختلف پبلک سیکٹر یونیورسٹیز کی حالت زار کے بارے میں وزیراعلی ہاؤس کو شکایات موصول ہونے کا سلسلہ جاری ہے مزید دو یونیورسٹیز کے وائس چانسلر کی کارکردگی کے بارے میں شکایات موصول ہو چکی ہیں پرفارمنس رپورٹ انتہائی غیر تسلی بخش قرار ، فیصلہ سازی میں مطلوبہ اہلیت کا فقدان ، کوالٹی ایجوکیشن کے حوالے سے کوئی روڈ میپ نہیں ،ریسرچ ڈویلپمنٹ کے معاملے میں کارکردگی صفر، یونیورسٹی انتظامی امور میں شکایات ،سینڈیکیٹ اور سینٹ کے معاملات میں پیشرفت غیر اطمینان بخش اور مجموعی انتظامی صلاحیتوں میں اعتماد ،بروقت فیصلہ سازی کا فقدان ۔فنڈز کے استعمال میں شکایات ۔بتایا گیا ہے کہ دو یونیورسٹیز کے وائس چانس کر کے خلاف شکایات کا انبار لگ چکا ہے لیکن وزیراعلی مسلسل تحمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں دونوں وائس چانسلرز کا تعلق شہر قائد کی پبلک یونیورسٹیز سے ہے ان میں سے ایک وائس چانسلر، بعض اوقات دن کے پہر میں بھی سرور کی کیفیت میں رہتے ہیں اور دوسرے وائس چانسلر ایک طاقتور وزیر کی رشتہ داری کے نشے میں غرق ہیں دونوں کی یونیورسٹیز کی کارکردگی کے بارے میں سنگین سوالات اٹھائے جا چکے ہیں اور رپورٹ وزیراعلی کے پاس موجود ہے وزیراعلی انوائس چانسلرز کے کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لانے کے حوالے سے ابھی تک تحمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں
یاد رہے کہ وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ کچھ عرصہ قبل اس حوالے سے اپنی بیزاری اور ناگواری کا اظہار برملا کر چکے ہیں ان کا یہاں تک کہنا تھا کہ ایک وائس چانسلر کے خلاف بدعنوانی کے واضح ثبوت ملے ہیں اور دوسرے کے خلاف جنسی ہراسگی کے معاملات کی شکایات تھیں وزیراعلی نے اس حوالے سے نئی قانون سازی کا ذکر بھی کیا تھا اور اب تازہ اطلاعات کے مطابق وزیر اعلی ہاؤس کو مزید دو وائس چانسلرز کے حوالے سے شکایات پر مبنی رپورٹ موصول ہو چکی ہے جب کہ وزیراعلی سندھ نے مختلف شکایات کی روشنی میں دیگر یونیورسٹیز کے حوالے سے بھی متعلقہ حکام سے رپورٹس طلب کی ہیں























