ہمدرد یونیورسٹی: علم، تحقیق اور روایات کا ایک روشن ستارہ

ہمدرد یونیورسٹی: علم، تحقیق اور روایات کا ایک روشن ستارہ

پاکستان کی تعلیمی دنیا میں ہمدرد یونیورسٹی ایک ایسے چمکتے ہوئے ستارے کی مانند ہے جو نہ صرف معیارِ تعلیم بلکہ اخلاقی اقدار اور تحقیق کے میدان میں بھی اپنی مثال آپ ہے۔ یہ جامعہ شہید حکیم محمد سعید صاحب کا وہ عظیم خواب تھا جو انہوں نے پاکستان کی نوجوان نسل کے لیے تعبیر کیا۔ آج یہ یونیورسٹی نہ صرف اعلیٰ تعلیم کا مرکز ہے بلکہ ایک ایسی درس گاہ بھی ہے جہاں طلباء کو علم کے ساتھ ساتھ انسانیت کی خدمت کا جذبہ بھی سکھایا جاتا ہے۔

حکیم محمد سعید کی عظیم میراث
حکیم محمد سعید صاحب محض ایک طبیب ہی نہیں، بلکہ ایک عظیم مصلح، محقق اور قوم پرست رہنما تھے۔ انہوں نے ہمدرد یونیورسٹی کی بنیاد 1991 میں رکھی، جس کا مقصد صرف ڈگریاں دینا نہیں، بلکہ ایسے ذہین اور بااخلاق نوجوان تیار کرنا تھا جو ملک و قوم کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔ آج یہ جامعہ پاکستان کی پہلی اور معتبر ترین پرائیویٹ یونیورسٹیز میں شمار ہوتی ہے، جہاں طب، انجینئرنگ، کمپیوٹر سائنس، یونانی ادویات، قانون اور بزنس سمیت 90 سے زائد شعبہ جات میں تعلیم دی جاتی ہے۔

پروفیسر ڈاکٹرسید شبیب الحسن: ایک باصلاحیت منتظم اور رہنما
موجودہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سید شبیب الحسن صاحب نہ صرف ایک بہترین تعلیمی رہنما ہیں، بلکہ ان کی انتظامی صلاحیتیں ہمدرد یونیورسٹی کو نئی بلندیوں پر لے جا رہی ہیں۔ ان کا ویژن ہے کہ طلباء کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرتے ہوئے، ان میں تنقیدی سوچ اور تحقیق کا جذبہ پیدا کیا جائے۔ ان کی اوپن ڈور پالیسی ہر طالب علم، استاد اور ملازم کے لیے یکساں مواقع فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے یونیورسٹی کو پاکستان کی پہلی پیپر لیس اور گرین یونیورسٹی بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، جہاں شمسی توانائی کے ذریعے بجلی پیدا کی جاتی ہے اور ماحول دوست اقدامات پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔

میڈم سعدیہ را شد: ہمدرد کی عظیم خدمت گزار
حکیم محمد سعید صاحب کی صاحبزادی محترمہ سعدیہ را شد نے ہمدرد یونیورسٹی کی ترقی میں ناقابل فراموش خدمات انجام دی ہیں۔ ان کی قیادت میں یونیورسٹی نے نہ صرف تعلیمی معیار کو بلند کیا، بلکہ طلباء کے لیے وظائف اور تحقیق کے بے شمار مواقع بھی فراہم کیے۔ ان کا عزم ہے کہ ہمدرد یونیورسٹی صرف ایک تعلیمی ادارہ نہ رہے، بلکہ ایک ایسی تحریک بنے جو معاشرے میں مثبت تبدیلی لائے۔

تحقیق اور ترقی کا مرکز
ہمدرد یونیورسٹی طلباء کو جدید تحقیق کے لیے بھرپور وسائل مہیا کرتی ہے۔ یہاں ایک میگاواٹ کا سولر پلانٹ، جدید کمپیوٹر لیبز، میڈیکل ریسرچ سینٹرز اور 200 ایکڑ پر پھیلا ہوا باغات اور زرعی زمینیں موجود ہیں، جو نہ صرف طلباء کی عملی تربیت کا ذریعہ ہیں، بلکہ ماحول دوست اقدامات کی بھی عکاسی کرتی ہیں۔

**ہمدرد کا ویژن: “محبت کر