میٹروپولیٹن یونیورسٹی کراچی ….علما یونیورسٹی ….ماجو یونیورسٹی اور انڈس یونیورسٹی اور بہت سی دیگر یونیورسٹیوں نے معیاری تعلیم کی فراہمی کو یقینی بنانے اور نوجوان طلباء کے لیے تحقیقی اور ترقیاتی سرگرمیوں کو بڑھانے کے لیے کیا سنجیدہ اقدامات کیے ہیں؟

“کیا یونیورسٹیاں تعلیم کی بجائے ڈگریاں بانٹ رہی ہیں؟ ماہرین کے سنجیدہ سوالات!”

اوپننگ پیرا:
ملک بھر میں یونیورسٹیوں کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تعداد پر تعلیمی ماہرین نے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں۔ کیا میٹروپولیٹن یونیورسٹی کراچی، ایلمہ یونیورسٹی، محمد علی جناح یونیورسٹی (MAJU)، انڈس یونیورسٹی اور دیگر نئی یا چھوٹی یونیورسٹیز معیاری تعلیم فراہم کر رہی ہیں؟ کیا یہ ادارے تحقیق و ترقی (R&D) کے میدان میں کوئی قابل ذکر کردار ادا کر رہے ہیں؟ یا پھر یہ صرف ڈگریاں تقسیم کرنے کی مشینیں بن چکی ہیں، جہاں نوجوانوں کو معاشرے کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے تیار کیے بغیر کاغذات تھما دیے جاتے ہیں؟

ماہرین کے تشویشناک انکشافات:
ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کے چیئرمین ڈاکٹر مختار احمد خود اس بات کے قائل ہیں کہ ملک میں یونیورسٹیوں کی کھمبیوں کی طرح اُگ آئی تعداد پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمیں نئی یونیورسٹیوں کے بجائے موجودہ اداروں کے معیار کو بہتر بنانے پر کام کرنا چاہیے۔ خاص طور پر تحقیق و ترقی کے شعبے میں پاکستانی یونیورسٹیاں بہت پیچھے ہیں۔ اگر یونیورسٹیاں اپنے بنیادی فرائض کو نظرانداز کرکے صرف ڈگریاں دینے تک محدود رہیں گی، تو پھر ان کا وجود بے مقصد ہے۔

سندھ HEC کی قابل تعریف کوششیں:
اس صورتحال میں سندھ HEC نے تحقیق و ترقی کو فروغ دینے کے لیے قابل تحسین اقدامات کیے ہیں۔ چیئرمین سندھ HEC پروفیسر ڈاکٹر طارق رفیع کی قیادت میں ریسرچ فنڈز میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ وہیں، سیکرٹری سندھ HEC جناب معین الدین صدیقی کی انتھک محنت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں نے یونیورسٹیوں کو صنعت کے ساتھ روابط بڑھانے اور طلباء کو جدید تحقیق سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کی کوششیں یقیناً مستقبل میں مثبت نتائج لائیں گی۔

تجاویز:

یونیورسٹیوں کو چاہیے کہ وہ اپنے تعلیمی معیار کو بین الاقوامی سطح پر لانے کے لیے سخت اقدامات کریں۔

HEC کو چاہیے کہ وہ نئی یونیورسٹیوں کے قیام پر پابندی لگائے اور موجودہ اداروں کے لیے سخت معیارات طے کرے۔

تحقیق و ترقی کے شعبے میں فنڈز کو مزید بڑھایا جائے اور یونیورسٹیوں کو صنعت کے ساتھ مربوط کیا جائے۔

اساتذہ کی تربیت اور جدید تحقیق کے لیے وسائل مہیا کیے جائیں تاکہ طلباء کو معاشرے کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے قابل بنایا جا سکے۔

میٹروپولیٹن یونیورسٹی کراچی ….علما یونیورسٹی ….ماجو یونیورسٹی اور انڈس یونیورسٹی اور بہت سی دیگر یونیورسٹیوں نے معیاری تعلیم کی فراہمی کو یقینی بنانے اور نوجوان طلباء کے لیے تحقیقی اور ترقیاتی سرگرمیوں کو بڑھانے کے لیے کیا سنجیدہ اقدامات کیے ہیں؟
اختتامی نوٹ:
اگر ہم نے اب بھی یونیورسٹیوں کو محض ڈگری دینے کی فیکٹریاں بننے سے نہیں روکا، تو آنے والی نسلیں نہ صرف بے روزگاری کا شکار ہوں گی بلکہ معاشرے کو کوئی مثبت پیش رفت بھی نہیں دے پائیں گی۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم تعلیم کے نام پر ہونے والی دکانداری کو بند کریں اور حقیقی علم و تحقیق کو فروغ دیں!