
تاریخی کامیابی کا سفر: سندھ مدرسہ الاسلام یونیورسٹی نئی منازل کی طرف گامزن
کراچی – سندھ مدرست الاسلام کا تاریخی سفر، جو ایک مدرسے سے کالج اور اب ایک معیاری یونیورسٹی تک پہنچا ہے، پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کی ایک روشن مثال بن چکا ہے۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مجیب الدین سہرائی میمن کی قیادت میں یہ یونیورسٹی ناقابلِ مثال کامیابیاں حاصل کر رہی ہے۔
عظمت رفتہ کی داستان
1885 میں خان بہادر حسن علی افندی کے ہاتھوں قائم ہونے والے اس ادارے کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ قائدِ اعظم محمد علی جناح نے یہاں 1887 سے 1892 تک تعلیم حاصل کی۔ اس کے علاوہ سر شہنواز بھٹو، سر عبداللہ ہارون، علامہ آئی آئی قاضی جیسے عظیم لیڈرز بھی یہیں پڑھے۔

جدید ترین سہولیات کی حامل یونیورسٹی
ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) سے تسلیم شدہ اس یونیورسٹی میں میڈیا و کمیونیکیشن، کمپیوٹر سائنسز، بزنس ایڈمنسٹریشن، ماحولیاتی سائنسز اور تعلیم کے شعبے موجود ہیں۔

پی ایچ ڈی فیکلٹی اور جدید ترین لیبارٹریز۔
ٹی وی اور ایف ایم ریڈیو اسٹوڈیوز۔

وائی فائی کی سہولت اور جدید کمپیوٹر لیبز۔
جناح میوزیم اور نایاب کتابوں کا ذخیرہ۔
حکومت اور HEC کی مکمل حمایت
سندھ حکومت، یونیورسٹیز اینڈ بورڈز ڈیپارٹمنٹ، سندھ HEC اور وفاقی HEC اس یونیورسٹی کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ایجوکیشن سٹی (100 ایکڑ) اور ہاکس بے (10 ایکڑ) میں نئے کیمپس قائم کیے جا رہے ہیں۔
وژنری لیڈرشپ کی رہنمائی
وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مجیب الدین سہرائی میمن کا ویژن ہے کہ “طلباء کو صرف ڈگری نہیں، بلکہ قائدانہ صلاحیتیں دی جائیں۔” ان کا فلسفہ “طلبا کو گاہک سے مصنوعات (لیڈرز) میں تبدیل کرنا” یونیورسٹی کی کامیابی کی وجہ ہے۔
مستقبل کے منصوبے
نئی ٹیکنالوجی ٹاورز، بین الاقوامی تعاون اور معیاری تعلیم کے ذریعے SMIU پاکستان کی ایک نمایاں یونیورسٹی بننے جا رہی ہے۔
“سندھ مدرست الاسلام یونیورسٹی محض ایک ادارہ نہیں، بلکہ تعلیمی انقلاب کی ایک تحریک ہے۔”
https://www.smiu.edu.pk/























