
قرۃ العین ہما
کراچی: عالمی یومِ آزادیٔ صحافت اور کراچی ایڈیٹرز کلب (KEC) کے قیام کی سالگرہ کے موقع پر اقرار یونیورسٹی کے شعبہ میڈیا سائنسز اور کراچی ایڈیٹرز کلب کے اشتراک سے “میڈیا جسٹس” کے عنوان سے ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔
اس موقع پر معروف صحافیوں، قانونی ماہرین، میڈیا پروفیشنلز، اساتذہ اور طلباء نے شرکت کی اور پاکستان میں میڈیا کی آزادی، غلط معلومات کے پھیلاؤ، قانونی چیلنجز اور ڈیجیٹل صحافت کے حوالے سے اہم مباحثے ہوئے۔
اخلاقی صحافت کی اہمیت پر زور
تقریب کا آغاز تزئین ہما (شعبہ میڈیا اسٹڈیز) کے خیرمقدمی کلمات سے ہوا، جس کے بعد تلاوتِ قرآن پاک اور قومی ترانہ پیش کیا گیا۔ شعبہ میڈیا اسٹڈیز کے سربراہ پروفیسر محمد رشید اکبر اور کراچی ایڈیٹرز کلب کے صدر مبشر میر نے خطاب کرتے ہوئے صحافت میں ذمہ داری اور اخلاقیات کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

پروفیسر رشید اکبر نے کہا، “آج کے دور میں جب معلومات کی بھرمار ہے، صحافتی اخلاقیات اور احتساب کے بارے میں بات کرنا انتہائی ضروری ہے۔”
مبشر میر نے اضافہ کیا، “صحافت کی آزادی صرف بولنے کا حق نہیں، بلکہ سچائی کو ذمہ داری سے پیش کرنا ہے۔”
پانچ اہم پینلز میں میڈیا کے چیلنجز پر گفتگو
سیمینار میں پانچ پینل ڈسکشنز ہوئیں، جن میں میڈیا اور عدلیہ کے تعلقات، ڈیجیٹل میڈیا کا عروج، میڈیا قوانین، جعلی خبروں کے اثرات اور تنازعات کی رپورٹنگ جیسے موضوعات زیرِ بحث آئے۔
میڈیا اور عدلیہ:
جسٹس (رٹائرڈ) ندیم اختر کی صدارت میں ہونے والے اس سیشن میں بیرسٹر شہیدہ جمیل، ضیاء اوان اور سینیٹر نہال ہاشمی نے میڈیا اور عدالتی کارروائیوں کے درمیان توازن پر بات کی۔
ڈیجیٹل میڈیا:
نزاکت علی، سید خالد محمود اور سیدہ حور شمائل نے انفلوئنسر جرنلزم اور ڈیجیٹل صحافت کے بدلتے رجحانات پر روشنی ڈالی۔
میڈیا قوانین اور اخلاقیات:
بیرسٹر شہیدہ جمیل، یاسین آزاد اور مختار بٹ نے صحافیوں پر سیاسی دباؤ اور قانونی احتساب جیسے مسائل پر گفتگو کی۔
جعلی خبریں:
صحافی اقبال جمیل، منور مرزا اور نوید ارشد نے جعلی خبروں کے معاشرے پر منفی اثرات اور فیکٹ چیکنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
تنازعات اور میڈیا:
ڈاکٹر سمرین بری عامر اور ڈاکٹر سدرہ احمد نے تنازعات کی رپورٹنگ میں میڈیا کے فریمنگ کے اثرات پر بات کی۔
تعلیمی اداروں اور میڈیا کے باہمی تعاون پر زور
اختتام پر تزئین ہما نے کلیدی خطاب کرتے ہوئے اقرار یونیورسٹی اور KEC کی کاوشوں کو سراہا۔ کراچی ایڈیٹرز کلب کے جنرل سیکرٹری منظر نقوی نے یونیورسٹی کے انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا۔
ڈین پروفیسر ڈاکٹر انجم بانو نے رسمی شکریہ ادا کیا، جس کے بعد کراچی ایڈیٹرز کلب کی سالگرہ پر کیک کاٹا گیا۔
یہ تقریب میڈیا کے شعبے میں مثبت تبدیلی اور صحافتی اخلاقیات کو فروغ دینے کی ایک اہم کوشش تھی۔
مزید پڑھیں: www.iqra.edu.pk























