بہترین ٹیسٹ میچز: اسٹوکس کا جادو بمقابلہ سری لنکا کا ریکارڈ چیز

بہترین ٹیسٹ میچز: اسٹوکس کا جادو بمقابلہ سری لنکا کا ریکارڈ چیز

کیا انگلینڈ کا وہ ایشز ٹیسٹ جسے آسٹریلیا تقریباً جیت چکا تھا یا پھر سری لنکا کا زمبابوے کے خلاف چوتھی اننگز کا شاندار تعاقب زیادہ یادگار ہے؟

06 مئی 2025

ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ (WTC) کے فائنل سے پہلے، جو 11 جون سے لارڈز میں آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کے درمیان کھیلا جائے گا، ESPNcricinfo، اسٹار اسپورٹس اور JioHotstar آپ کو مدعو کر رہے ہیں کہ آپ 21ویں صدی کے بہترین ٹیسٹ میچ کا انتخاب کرنے میں ہماری مدد کریں۔ 32 میچز کے درمیان مقابلہ ہے، جہاں دو دو میچز آپس میں ٹکرائیں گے یہاں تک کہ فاتح کا فیصلہ ہو جائے۔ ابھی ووٹنگ شروع کریں!

کون سا میچ زیادہ یادگار تھا؟
37.6K ووٹس

انگلینڈ بمقابلہ آسٹریلیا، لیڈز 2019

سری لنکا بمقابلہ زمبابوے، کولمبو 2017

اسٹوکس کی سب سے بڑی جیت – لیڈز، 2019

کیا یہ وہ اختتام تھا، جب بین اسٹوکس اور جیک لیچ نے آخری وکٹ پر 76 رنز کی ناقابل شکست شراکت کی؟ یا یہ حقیقت کہ ایک بلے باز نے 74 رنز (45 گیندوں میں) بنائے جبکہ دوسرے نے صرف 1 رن (17 گیندوں میں) اس پارٹنرشپ میں بنایا؟ یا یہ کہ جیتنے والی ٹیم نے پہلی اننگز میں صرف 67 رنز بنائے تھے اور پھر 362 رنز کا ہدف حاصل کیا، جبکہ اس میچ میں دوسری سب سے بڑی اننگز صرف 246 تھی؟

شاید یہ سب کچھ۔ لیکن اسٹوکس اور لیچ کی شراکت کا ڈرامہ ہی تھا جس نے اس میچ کو اتنا یادگار بنا دیا۔

آسٹریلیا پہلا ٹیسٹ جیت چکا تھا اور دوسرا ڈرا ہوا تھا، اس لیے انگلینڈ کو ہیڈنگلے میں جیت کی ضرورت تھی تاکہ وہ ایشز میں مقابلہ جاری رکھ سکیں۔ لیکن جب آسٹریلیا نے پہلی اننگز میں 179 رنز بنائے، تو انگلینڈ کی پوری ٹیم صرف 67 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ آسٹریلیا نے دوسری اننگز میں 246 رنز بنائے، اور انگلینڈ کو جیت کے لیے 359 رنز درکار تھے۔

جب انگلینڈ 286/9 تک پہنچا تو سب کچھ ختم لگ رہا تھا۔ لیکن اسٹوکس نے اپنی اننگز کو جادوئی انداز میں تبدیل کیا۔ انہوں نے آخری وکٹ پر جیک لیچ کے ساتھ مل کر ناقابل یقین شراکت کی اور انگلینڈ کو ایک شاندار فتح دلائی۔

سری لنکا کا ریکارڈ چیز – کولمبو، 2017

کیا زمبابوے سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ میچ میں مشکل کھڑی کر سکتا ہے؟ جی ہاں، اور یہ میچ اس کی بہترین مثال ہے۔

زمبابوے نے پہلی اننگز میں 356 رنز بنائے، جس میں کریگ ارون نے 160 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔ سری لنکا نے جواب میں 346 رنز بنائے، لیکن زمبابوے نے دوسری اننگز میں مزید مضبوطی دکھائی اور سری لنکا کو 388 رنز کا ہدف دیا۔

یہ ہدف تاریخ میں چوتھا سب سے بڑا ہدف تھا جو کسی ٹیم نے ٹیسٹ میں حاصل کیا ہو، اور ایشیا میں تو یہ پہلا موقع تھا۔ سری لنکا 203/5 تک پہنچ چکا تھا، لیکن نیروشن ڈکویلا (81) اور اسیلہ گونارتنے (80*) نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے ٹیم کو یادگار فتح دلائی۔

اب آپ کی باری ہے – کون سا میچ زیادہ یادگار تھا؟ ووٹ کریں!